میں پوچھتی ہوں کہ رات پونے چار بجے تک مجھے تھانے میں کیوں بٹھایا گیا

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی اور ان کے دو بیٹوں کو کراچی کے علاقے سعودآباد سے گرفتار کر کے تینوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ اس حوالے سے نہال ہاشمی کا بھی موقف سامنے آیا ہے۔نہال ہاشمی نے ویڈیو میں کہا کہ ہم تھانے آئے تو ایس ایچ او یونیفارم میں نہیں تھے،پولیس نے انہیں اور اہلیہ کو دھکے دئیے جس سے بیوی زخمی ہو گئیں۔


لیگی رہنما نے مزید کہا کہ پولیس والے اصل ویڈیو دکھائیں جس میں وہ ان کی بیوی اور بیٹے سے بدسلوکی کر رہے ہیں۔نہال ہاشمی کی اہلیہ نے بھی دعوی کیا ہے کہ پولیس کے تشدد سے انہیں چوٹیں آئیں۔نہال ہاشمی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرانے کے لیے انہیں درخواست دی ہے جس کو پولیس نے وصول کی۔
لیگی رہنما نہال ہاشمی کی اہلیہ ڈاکٹر نشاط ہاشمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پولیس نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وکلاء نے انہیں رات گئے رہا کروایا ہے، میں پوچھتی ہوں کہ رات پونے چار بجے تک مجھے تھانے میں کیوں بٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انصاف کب ملے گا، یہ کیسا قانون ہے۔ ڈاکٹر نشاط ہاشمی کا کہنا تھا کہ انہوں نے میڈیکل اور مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست بھی دی تھی۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی کے اہل خانہ اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کراچی کے علاقے ملیر میں جھگڑا ہوا تھا۔


اس جھگڑے کے دوران نہال ہاشمی کے بیٹے اور دیگر اہل خانہ نے پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھاڑ دیں۔ بتایا گیا ہے کہ نہال ہاشمی کے صاحبزادوں نصیر اور ابراہیم نے ملیر کالا بورڈ پر ٹریفک حادثے کے بعد شہری سے جھگڑا کیا۔ اس دوران گشت پر موجود پولیس موبائل وہاں پہنچی اور دونوں فریقین میں صلح کروانے کی کوشش کی، بات نہ بننے پر پولیس نہال ہاشمی کے بیٹوں اور دوسری پارٹی کے لوگوں کو تھانے لے گئی اور تھوڑی دیر بعد نہال ہاشمی اور ان کی اہلیہ بھی تھانے پہنچ گئے۔
اس دوران نہال ہاشمی کے بیٹوں نے تھانے میں ہی پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ ان کی وردیاں بھی پھاڑ دی گئیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے نہال ہاشمی اور ان کے دونوں بیٹوں کو حوالات میں بند کر دیا۔ پولیس نے لیگی رہنما اور ان کے بیٹوں کیخلاف مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔ مقدمہ ایس ایچ او تھانہ سعود آباد کی مدعیت میں درج کیا گیا، جس میں قتل کی دھمکیاں، کار سرکار میں مداخلت اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔