اپوزیشن کی تحریک کا آغاز کوئٹہ سے ہی کیوں؟

حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ‘ حکومت مخالف تحریک کا باقاعدہ آغاز 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسے سے کرے گی۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی قومی جماعتیں بھی شامل ہیں مگر تحریک کی شروعات ان کے مضبوط گڑھ پنجاب اور سندھ کی بجائے بلوچستان سے کیوں کی جا رہی ہے؟
کوئٹہ میں جلسے کی میزبان پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما اور رکن بلوچستان اسمبلی نصر اللہ زیرے نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی و قوم پرست جماعتوں نے ہمیشہ جمہوری تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ ’اس لیے اتحاد میں شامل صوبے کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی خواہش تھی کہ اس نئی تحریک کا آغاز بھی کوئٹہ سے کیا جائے۔

نصراللہ زیرے نے اردو نیوز کو بتایا کہ محمود خان اچکزئی نے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی قیادت سے رابطہ کر کے انہیں اس بات پر قائل کیا ہے کہ تحریک کا آغاز کوئٹہ سے کیا جائے۔
کوئٹہ کے سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم شاہد کے مطابق اپوزیشن جماعتیں کوئٹہ میں بڑا جلسہ کر کے تحریک کو مؤثر انداز میں شروع کرنا چاہتی ہیں تاکہ حکومت کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ اور باقی ملک کے عوام کو مضبوط پیغام دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان کی وہ تمام جماعتیں اس حکومت مخالف تحریک کا حصہ ہیں جو سٹریٹ پاور رکھتی ہیں۔‘
قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں کوئٹہ کے بارہ میں سے آٹھ ارکان کا تعلق بھی پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں سے ہے۔
صحافی و تجزیہ کار سلیم شاہد کا کہنا تھا کہ ’جمعیت علماء اسلام، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی اکیلے ہی کوئٹہ میں بڑے بڑے جلسے کر سکتی ہیں۔ اگر یہ جماعتیں مل کر جلسہ کریں گی تو یقیناً اس تحریک کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔‘

مولانا فضل الرحمان نے بھی لانگ مارچ کا آغاز کوئٹہ میں جلسے سے کیا تھا۔ فوٹو اے ایف پی

رکن بلوچستان اسمبلی نصراللہ زیرے کے مطابق جلسے کے لیے پہلے 7 اکتوبر کا دن مقرر کیا گیا تھا مگر جلسے کی تیاری کے لیے وقت کی کمی کی وجہ سے تاریخ آگے بڑھائی گئی ہے۔
انہوں نے سنہ 1983 کا ایک واقعہ دہراتے ہوئے بتایا کہ ’7 اکتوبر کو ہماری تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب کوئٹہ میں ضیاءالحق کی آمریت کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت کے دوران پر امن مظاہرین پر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے حکم پر فائرنگ کی گئی تھی۔ کوئٹہ کی قندھاری جامع مسجد سے نماز جمعہ کے بعد ملی عوامی پار ٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں جلوس نکالا گیا تھا۔‘
نصراللہ زیرے نے مزید بتایا کہ ’اس جلوس پر حکومتی اہلکاروں کی فائرنگ سے ملی عوامی پارٹی کے چار کارکن اولس یار، کاکا محمود، رمضان اور داﺅد شہید ہوئے۔ درجنوں افراد زخمی اور بڑی تعداد میں گرفتار ہوئے تھے۔ کوئٹہ سے تحریک شروع کرنے کا مقصد 7 اکتوبر کے شہداء سمیت ملک بھر میں جمہوریت کے لیے قربانیاں دینے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا بھی ہے۔‘
پی ڈی ایم کے جلسے کے لیے زرغون روڈ ریلوے ہاکی چوک کے شاہراہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اسی مقام پر گذشتہ سال جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما نصراللہ زیرے کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یقین ہے کہ 11 اکتوبر کو صوبے کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا۔ جلسے کی کامیابی کے لیے اتحاد میں شامل جماعتوں کے ذمہ داروں پر مشتمل ضلع کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔‘

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی خواہش تھی کہ تحریک کا آغاز کوئٹہ سے ہو۔ فوٹو اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ جلسے سے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر مینگل، نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد شیر پاﺅ اور دیگر رہنما خطاب کریں گے۔
دو سال تک وفاق میں تحریک انصاف کی اتحادی رہنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) بھی پی ڈی ایم کا حصہ بنی ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن غلام نبی مری کہتے ہیں کہ انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت چھ نکات پر مشتمل ایک معاہدے کے تحت بلوچستان کے سیاسی، معاشی و سماجی مسائل کے حل کے لیے کی تھی مگر حکومت نے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔
’اب ہم اپوزیشن کی تحریک کا باقاعدہ حصہ ہیں اور اپنا بھر پور سیاسی کردار ادا کریں گے۔‘
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بی این پی کے رہنما غلام نبی مری نے کہا کہ ’نواز شریف جو باتیں آج کہہ رہے ہیں یہی ہمارے اکابرین ساٹھ سال سے کہتے آرہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ پنجاب کے اندر سے جمہوریت کے حق اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے مؤثر آواز اٹھ رہی ہے۔ اس تبدیلی کا سہرا بلوچستان کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی اکابرین و کارکنوں کو جاتا ہے جنہوں نے مسلسل جدوجہد کی، قربانیاں دیں اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔‘

مریم نواز نے کوئٹہ میں یوم سیاہ پر منعقدہ جلسے سے خطاب کیا تھا۔ فوٹو اے ایف پی

رہنما ملی عوامی پارٹی نصراللہ زیرے کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات دھاندلی زدہ اور غیر منصفانہ تھے جس کے ذریعے مخصوص افراد کو اقتدار میں لایا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ٹوئٹر پر اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’انہیں بلوچستان صرف جلسے جلوس اور سڑکیں بند کرنے کے لیے یاد آتا ہے۔ کیا ان میں سے کوئی کورونا، برفباری اور سیلاب کے دوران اظہار ہمدردی کرنے یا مدد کرنے بلوچستان آیا؟‘
بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کو اپنے علاقوں میں بڑا جلسے کرنے پر اعتماد نہیں۔
’عوام یہ سوال ضرور کریں گے کہ بڑی جماعتیں اپنے علاقوں کو چھوڑ کر کیوں کوئٹہ میں جلسہ کر رہی ہیں۔ ان جماعتوں کی بلوچستان میں کوئی نمائندگی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ آئندہ انتخابات میں بھی بلوچستان کے عوام اپوزیشن جماعتوں کو مسترد کرے گی۔‘
تجزیہ کار سلیم شاہد کے مطابق حکومت اور ان کی اتحادی جماعتیں کہتی ہیں کہ اس تحریک یا جلسے کا کوئی اثر نہیں ہوگا تو یہ درست نہیں۔ ’بلوچستان میں بڑا جلسہ ہوگا تو اس کے اثرات پورے ملک کی سیاست پر پڑیں گے۔
——————————–
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ