سائیں سرکار کے کارناموں میں ایک اور اظافہ۔

اندھیر نگری چوپٹ راج۔
سائیں سرکار کے کارناموں میں ایک اور اظافہ۔
سندھ حکومت نے آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اور تمام تر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بیس گریڈ کے افسر کو ہٹا کر منظورِ نظر گریڈ انیس کے ایک جونیئر افسر زبیر چنہ کو سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کا مینیجنگ ڈائریکٹر تعینات کردیا ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ سندھ اسمبلی سے پاس کردہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ ایکٹ کے تحت مینیجنگ ڈائریکٹر کی آسامی گریڈ بیس اور اکیس کی ہے اور اس سے کم گریڈ کے افسر کی تعیناتی مجوزہ قانون کے تحت کسی صورت نہیں ہو سکتی۔
مگر سندھ حکومت نے اپنے منظورِ نظر افسر جن کے پاس پہلے ہی دو اہم عہدے ہیں ان کو آئین و قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کا مینیجنگ ڈائریکٹر تعینات کردیا ہے جو کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سندھ بھر بلخصوص کراچی میں پہلے سے موجود کچرے کی ابتر صورتحال میں ایک جونیئر افسر جس کے پاس پہلے سے دو اہم عہدے موجود ہوں اس کو اس اہم محکمہ کی زمیداری سونپنا نہ صرف صوبہ بھر میں کچرے کی صورتحال کو مزید ابتر بنا دے گی بلکہ صوبہ سندھ بلخصوص کراچی کو کچرا کنڈی میں تبدیل کردےگا۔

اس اہم عہدے پر ایک سینیئر اور فل ٹائم افسر کی تعیناتی وقت کا عین تقاضا ہے۔
نئے پارٹ ٹائم افسر نے آتے ساتھ ہی چھوٹے ملازمین بلخصوص ڈیلی ویجز پہ مقرر غریب ملازمین کو فارغ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں جس سے ادارے میں تعینات ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ان ملازمین کو اپنے گھر کے چولھے ٹھنڈے ہونے کی فکر پڑ گئی ہے۔
ادارے کے ملازمین کا کہنا ہے کہ ایک خلافِ قانون و ضابطہ تعینات ہونے والے جونیئر افسر جو کہ خود خلاف قانون تعینات ہوئے ہیں ان کا اس طرح کا اقدام نہ صرف غیر قانونی ہوگا بلکہ غیر انسانی بھی ہوگا اور ایسے اقدامات کے خلاف ہر طرح کا احتجاج کیا جائے گا اور غیر قانونی افسر کے ہر ظالمانہ اقدام کو چیلنج کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر عدالتوں سے رجوع کیاجائے گا۔
ملازمین نے کہا کہ اگر اس قسم کے اقدامات کو نہ روکا گیا تو ہم تادم مرگ بھوک ہڑتال سمیت دفتر کے سامنے خود سوزی کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔


ملازمین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے اس سلسلے میں ازخود نوٹس لینے کی اپیل بھی کی ہے۔
رپورٹ: اشتیاق سرکی
آل پاکستان نیوز ایجنسی