غربت اور پسماندگی کا خاتمہ، کیسے؟

سندھ اور بلوچستان میں تیز ترین موبائل براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی کے معاہدے پر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے عوام کو درپیش مختلف مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے ایک بار پھر اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ غربت کا خاتمہ اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ان کی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اس حوالے سے حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پالیسیاں صرف اشرافیہ کے مفاد میں بنائی جاتی رہیں جس کے نتیجے میں تعلیم و صحت کا نظام تباہ ہو گیا۔ انہوں نے بدھ کو توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات میں پیش رفت کے حوالے سے ہونے والے ایک اجلاس سے بھی خطاب کیا اور کہاکہ بجلی کے مہنگے معاہدوں سے نہ صرف عام آدمی بلکہ صنعتی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوا۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ بجلی کی پیداوار، سال کے مختلف مہینوں میں اس کے استعمال، پیداواری لاگت، فروخت اور دیگر شعبوں پر اس کے اثرات سمیت مختلف پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر جامع حکمت عملی اور روڈ میپ تیار کیا جائے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔ عمران خان اس وقت نہ صرف پاکستان میں غربت و پسماندگی کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں بلکہ دنیا بھر کے غریب ملکوں کے سماجی و اقتصادی مسائل حل کرنے کے لئے امیر ممالک کو متحرک کرنے کی

جدوجہد میں بھی مصروف ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی پر مغز تقریروں کا تیسری دنیا کے ملکوں میں زبردست خیر مقدم کیا گیا ہے۔ ان کے دل میں غریبوں اور ناداروں کا درد اس لئے بھی ہے کہ وہ جس ملک کے سربراہ ہیں اس کی کم سے کم ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی بدحال زندگی گزار رہی ہے۔ انسانی ترقی کے اشاریے پاکستان کو یمن، افغانستان اور شام کے بعد ایشیا کا پسماندہ ترین ملک قرار دے رہے ہیں، قومی اسمبلی میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے ساڑھے پانچ کروڑ عوام بمشکل دو وقت کی روزی کما رہے ہیں جبکہ آبادی میں اضافے کی شرح ڈھائی فیصد ہے اور پا کستان22کروڑ نفوس سے زائد آبادی کے باعث دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے۔ ویسے تو تمام صوبوں میں انتہائی پسماندہ علاقے موجود ہیں مگر وسائل کے اعتبار سے امیر ترین ہونے کے باوجود بلوچستان ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے۔ ملک سے غربت اور پسماندگی دور کرنے کا ایجنڈا مختلف ادوار میں برسراقتدار آنے والی ہر پارٹی کے منشور کا حصہ رہا ہے اور بعض نے عملی اقدامات بھی اٹھائے ہیں مگر ناقص منصوبہ بندی، بدنظمی اور کرپشن کے باعث ان کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ سکے جس کی وجہ سے پسماندہ طبقات آج بھی مایوسی کا شکار ہیں ۔ آٹے، چینی، بجلی، گیس، پانی، پیٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل جیسی ضروری اشیا کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے مہنگائی کو پر لگ گئے ہیں۔ تنخواہیں اور اجرتیں گرانی کے تناسب سے بڑھ نہیں پائیں۔ بے روزگاری میں بھی کمی کی بجائے اضافہ کی اطلاعات آرہی ہیں۔ مارکیٹوں میں تو اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے محابا اضافہ ہوا ہے، یوٹیلٹی اسٹوروں پر بھی جن کا مقصد ہی لوگوں کو اشیائے خوردنی سستے نرخوں فراہمی تھا، گھی خوردنی تیل، سرخ مرچ، صابن، دالیں اور کئی دوسری اشیا یا تو نایاب ہیں یا مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو ہر شعبے میں نگرانی کے انتظامات سخت کرنا پڑیں گے تاکہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق عام آدمی کی حالت میں بہتری آئے، پسماندہ علاقوں میں ترقی کا عمل تیز ہو اور وہ نیا پاکستان وجود میں آئے جس کا خواب عمران خان دکھار ہے ہی