وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت پاکستان ایف پی سی سی آئی میں فیڈرل بجٹ 2019-20سے متعلق تجا ویز پر پریس کانفرنس

کرا چی ۔ ایف پی سی سی آئی نے اپنی تجاویز فیڈرل بجٹ 2019-20 سے متعلق حکومت کو پہنچانے کے لیے فیڈریشن ہاؤس میں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا۔ صدر ایف پی سی سی آئی انجینئر دارو خان نے کہا ماضی کی طرح حکومت نے ایف پی سی سی آئی کے ساتھ آنے والے بجت 2019-20پر consultativeسیشن کا اہتمام نہں کیا ۔consultative سیشن کا اہتمام بہت مفید اور موثر اقدامات تھا جسے ایف پی سی سی آئی اسٹیک ہو لڈرز سے inputکے بعد کرتی تھی۔ تاہم ایف پی سی سی آئی نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے صدر انجینئر داروخان اچکزئی نے ملکی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے شرح سود کے بڑھنے ۔ پٹرولیم اشیا کی قیمتوں کے بڑھنے، غیرملکی سرمایہ کاری کم ہونے اور پاکستانی روپے کی devaluationپر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اس وقت ریونیو کی کمی کا شکار ہے اور متوقع ہے کہ شرح 2نمو اس سال 3.7فیصد تک رہے گی جس سے بے روزگاری بڑھنے کے ساتھ ساتھ غربت میں بھی اضافہ ہو گا ۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے بتایا کہ ہر سال کی طرح اس بھی ایف پی سی سی آئی نے بجٹ ایڈوائزری کونسل تشکیل دی جس نے ممبر ٹریڈ باڈیز سے مشاورت کے بعد بجٹ سے متعلق سفارشات مرتب کی ۔ ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز کا مقصد معیشت کو ڈاکومینٹیشن کرنا ، صنعتکاری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ، ٹیکس نظام میں اصلاحات، منصفانہ ٹیکس نظام کو فروغ دینا ، انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ اور معاشی ترقی کے اثرات ۔ انجینئر دارو خان نے مزید کہاکہ حکومت کو نئی ایمنسٹی اسکیم کا اعلان کرنا چایئے جوکہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنے ملکی وغیر ملکی اثاثہ جات کم ٹیکس ریٹ پر ظاہر کرنے کی اجازت دے اور جو لوگ ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے اپنے اثاثے ظاہر کریں حکومت یہ یقینی بنائے کہ ان سے ایف بی آر کسی بھی قسم کی پو چھ کچھ نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کے خلاف کارروائی ہوگی اور نہ آڈٹ ہو گا اس کے علاوہ ایف پی سی سی آئی نے بجٹ تجاویز میں کہاکہ مو جو دہ سیلز تیکس ریٹ جو 17فیصد ہے اس کو ہر سال کم کرکے سنگل digit کیا جائے اس کے علاوہ مشینری کے ٹیکسز کو ختم کیا جائے اوررجسٹرڈ افراد پر جو 3فیصد ٹیکس کی شرح ہے اس کو کم کرکے 1فیصد کیا جائے اور ٹیکسز سے فائنل گڈز کی سیل پر لاگو کی جائے ۔ صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہاکہ حکومت کو چایئے کہ وہ بارڈر کے ساتھ ایکسپورٹ وئیر ہاؤس کیے جائیں تاکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت بڑھے اس کے علاوہ ایگری کلچر اور سروسز سیکٹرز کو ان کے GDPکے شیئر کے مطابق ٹیکس نیٹ سے درخواست کی کہ وہ صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرے تاکہ human capitalبہتر ہو ۔ زبیر طفیل چیئرمین ایف پی سی سی آئی بجٹ ایڈوائزری کونسل اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ جلد ازجلد promissory notesجاری کرنے کے لیے برآمدکنندگان کے جو دو سرے ریفنڈز ہیں جیسا کہ انکم ٹیکس ریٹرن اورDLTLاس کو بھی ادا کرے ۔ انہو ں نے مزید کہا کہ حکومت کو چایئے کہ ڈومیسٹک اور بین الا قوامی پولنگ data سے نئے ٹیکس دہندگان تلا ش کرے اور ان کو ٹیکس میں لائے ۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں SMEsکو بھی فر وغ دینا چا یئے اور حکومت ایسا میکنزم بنائے جس سے کنزیومر ایشاء کی قیمتوں کی باقاعدہ حکومت monitoringکرے انہوں نے پاک چین آزاد تجارتی معاہدہ کے حوالے سے کہاکہ اُمید ہے کہ چین پاکستان کی ایگری کلچر اشیاء کو اضافی مارکیٹ Accessدے گا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ بین الاقوامی قو انین کے تحت سی پیک کی مد میں جو بھی چین کے ٹر وسطی اشیاء ممالک میں اشیاء ترسیل کریں ان پر پاکستان ٹر انزٹ ڈیوٹی لگائے ۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ نیب اور FBRکو بز نس کمیو نٹی کو ہراسا ں کرنے سے رو کے تا کہ پاکستان میں کا کاروبا ری ماحول بہتر ہو ۔ سینئر نائب صدر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کر اچی کی Law & Order کی خراب صورتحال سے متعلق بتاتے ہوئے کہاکہ اس سے سرمایہ کاری اور دیگر معاشی سرگرمیاں تنزلی کا شکار ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سخت مانیٹری پالیسی پاکستان میں افراط زر کو کنٹرول کرنے اور معاشی گروتھ میں اضا فہ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت کو چایئے کہ وہrental income پر ٹیکس کی شرح کم کرے اور FBRجو regressive powers حاصل ہیں جس کے ذریعے وہ بغیر وارنٹ کے چھاپے ماررہا ہے ان کے اختیارات کو ختم کیا جائے ۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ IMFسے معاہدہ حتمی شکل دینے سے پہلے ایف پی سی سی آئی On Board لے اور معاہدے سے متعلق شرائط کو Publicly ظاہر کرے۔ پریس کا نفرنس سوالات وجوابات نے سیشن کے ساتھ ختم ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں