کراچی کے خاموش اور سرگرم اعزازی قونصل جنرل کون کون ہیں؟

اسلام آباد کے بعد سب سے زیادہ تعداد میں مختلف ملکوں کے سفارت کار اور دفاتر کراچی میں واقع ہے ۔ اسلام آباد میں سفارت خانے ہوتے ہیں جبکہ دیگر شہروں میں قونصل خانے ہوتے ہیں ۔ کراچی میں مختلف ملکوں کے کیریئر ڈپلومیٹس بھی ہیں اور بڑی تعداد میں اضافے کونسل جنرل بھی تعینات ہیں اعزازی قونصل جنرل کا انتخاب دونوں ملکوں کی منظوری سے عمل میں آتا ہے اور باقاعدہ سیکورٹی کلیئرنس بھی ہوتی ہے کچھ اعزازی قونصل جنرل تین تین یا چار چار دہائیوں سے بھی چلے آرہے ہیں اور کچھ نے اپنے بعد اپنی اولاد یا خاندان کے دیگر افراد کو بھی سر گرم کر رکھا ہے ۔بعض خاندان ایسے بھی ہیں جہاں ایک سے زائد افراد مختلف ملکوں کے کونسل جنرل ہیں سفارتی حلقے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کراچی میں موجود اعزازی قونصل جنرل و میں سب سے زیادہ سرگرم متحرک اور فعال مرزا فیملی یا بیگ خاندان ہے جو چار ملکوں کی اعزازی قونصل جنرل شپ اپنے پاس رکھے ہوئے ہے ۔ یہ خاندان باقاعدگی سے پارٹیاں نیشنل ڈے اور پروگرام منعقد کرتا ہے اس خاندان کے پاس یمن مراکش پولینڈ اور جمیکا کے اعزازی قونصل جنرل ہیں اس خاندان کے علاوہ شان خاندان کے پاس گیمبیا سیریل ون گینی بساؤ اور کرغزستان کی اعزازی قونصل جنرل شپ ہے لیکن اس خاندان کے افراد بہت زیادہ پارٹیاں اور پروگرام منعقد نہیں کراتے ۔ کراچی کی ایک اور بڑی بزنس مین فیملی بشیر علی محمد حاجی غلام محمد اور زید بشیر پر مشتمل ہے جن کے پاس تین ملکوں سوئیڈن ساؤتھ افریقہ اور ڈنمارک کی اعزازی قونصل جنرل شپ ہے ۔بعض ایسے تجربہ کار اور سینئر اعزازی قونصل جنرل بھی ہیں جنہوں نے طویل عرصہ اعزازی قونصل جنرل رہنے کے بعد اپنی اولاد کو آگے بڑھا رکھا ہے ایسے خاندانوں میں عبدالقادر جعفر نے اپنے بیٹے اور صدر الدین ہاشوانی نے اپنے بیٹے کو آگے کیا ہے مرتضیٰ ھاشمانی اب بیلجیئم کے اعزازی قونصل جنرل بن چکے ہیں ۔کراچی میں نیدرلینڈ کے اعزازی قونصل جنرل طارق اہم خان جو ایک بڑی فارما کمپنی کے مالک بھی ہیں وہ بھی سرگرم ہیں اور باقاعدگی سے پروگرام اور تقاریب منعقد کرتے ہیں ۔سربیا کے اعزازی قونصل جنرل طارق رفیع بھی کافی سرگرم اور متحرک شخص ہیں وہ اوشین ٹاور کے مالک ہیں لیکن کافی دنوں سے ریسیپشن نہیں دے سکے ۔کینیڈا کے اعزازی کونسل جنرل بہرام ڈی آواری ہیں وہ ہمیشہ سے متحرک اور سرگرم شخص ہیں اور کینیڈا کے ہر سفیر کی آمد پر کراچی میں بہت بڑا پروگرام کرتے ہیں ۔ جبوتی کے اعزازی قونصل جنرل خلیل نینی تال والا کافی مشہور متحرک بزنس مین ہیں لیکن جبوتی کے حوالے سے تقاریب کے معاملے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جارجیا کے اعزازی قونصل جنرل جی ارشد کے انتقال کے بعد مراد معشوق اللہ کو جارجیا کا اعزازی قونصل جنرل بنایا گیا ان کے یہاں بھی خاموشی چھائی ہوئی ہے کوئی تقریب نہیں ہو رہی ۔صومالیہ کے اعزازی قونصل جنرل سیف الرحمان تھے وہ بھی فارما کمپنی کے مالک ہیں کچھ اشوز ہوئے تھے پھر ان کو ہٹا دیا گیا اومنی گروپ کے انور مجید بھی کروشیا کے اعزازی قونصل جنرل رہے یہ جگہ خالی ہو چکی ہے ۔ عزیز میمن سورینام کے انیس سو ستانوے سے آزادی کونسی جایا چلے آرہے ہیں ویسے تو بزنس کی دنیا میں ان کا نام بڑا ہے سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن بطور اعزازی قونصل جنرل ان کی تقاریب اور پروگرام کافی عرصے سے نہیں ہو رہے ضیاء احمد خان انیس سو اکانوے سے ہیں ہمایوں مفتی اور حنیف جانو بھی طویل عرصے سے اعزازی قونصل جنرل ہیں ظفر انصار اب یورپ جا چکے ہیں وہیں رہتے ہیں لیکن تاحال البانیا کے کونسل جنرل ہیں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مشہور سیاستدان سابق نگران وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین 1982 سے ساؤتھ کوریا کے لیے لاہور میں اعزازی قونصل جنرل ہیں کراچی کے ایک سیاستدان علیم عادل شیخ بھی سوڈان کے اعزازی قونصل جنرل ہیں اور زیادہ وقت وہیں پر رہتے ہیں وہاں پر بڑا بزنس سیٹ اپ بھی بنا لیا ہے پگاں والا خاندان کے پاس زیمبیا کی اعزازی قونصل جرنل شپ ہے ۔ فیڈریشن کے سابق سینیئر نائب صدر خالد تواب موزمبیق کے اعزازی قونصل جنرل ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر بھی کٹ گئی تھی بزنس کی دنیا میں وہ بھی ایک مشہور متحرک اور فعال شخصیت ہیں لیکن موزمبیق کے حوالے سے کافی عرصے سے انہوں نے بھی کوئی بڑا پروگرام نہیں کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں