کے الیکٹرک کی جانب سے کچھ بہتری کے لئے کاوشیں کرنے کے بجائے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ

کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی کے کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ لیکن کے الیکٹرک کی جانب سے کچھ بہتری کے لئے کاوشیں کرنے کے بجائے لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اور وہ بھی کسی اوقات کار کو اعلان کیئے بغیر جب دل چاہا بجلی غائب کردی۔ چاہیے رات کے ڑیڑھ بج رہے ہوں یا صبح کے آٹھ۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کون سے over loading یا پریشر کا اوقات ہیں کہ بجلی بند کردی جائے۔ ہاں اگر نفسیات کے ماہرین کی آمدن میں اضافہ کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے تو الگ بات ہے ۔ کیونکہ کے الیکٹرک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کراچی کے عوام کو ذہنی اذیت میں بری طرح مبتلا کررہی ہے۔ کیونکہ نیند کا پورا نا ہونا یا گہری نیند میں اچانک بجلی چلے جانے کی وجہ سے آنکھ کا کھل جانا ۔پھر صبح کام پہ جاتے وقت پھر بجلی کا غائب ہوجانا لوگوں کو ذہنی دباؤ کی بیماری کا شکار کررہا ہے۔ لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑرہا۔ جب سے حالیہ بارشوں کے بعد سے NDMA اورFWO نے کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے یہاں کام شروع کیا ہے ۔ساری سیاسی جماعتوں میں کراچی کا درد جاگ گیاہے۔ جگہہ جگہہ کراچی کی محبت میں بینرز لگ چکے ہیں (جو کہ معلوم نہیں کس کے خلاف ہیں؟) وہ جماعتیں جنھوں نے 1958 کے بعد سے کراچی کی شہری حکومتیں بلاشرکت غیر قائم کی تھیں۔ سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ افسوس ان جماعتوں کے افرادی قوت بہت زیادہ بھی ہے اور منظم بھی ۔ لیکن یہ سیاسی جماعتیں عوام کے مسائل پارٹی کی سطح پہ حل کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کرنے کا ذریعہ بنی ہوئی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں جگہہ جگہہ نکل کر راستے بند کردینا، تیز آواز میں پارٹی گانے لگانا، بغیر سائلینسر کی موٹر بائیکس پر جلوس نکالنا، ہر اہم شاہراہ کے کنارے سڑک کھود کر اپنے کیمپ قائم کرنا اور ان کیمپوں سے چیخ چیخ کر یہ کہنا کہ” آئیے ہمارا ساتھ دیجئے ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے خلاف (حالانکہ خود بھی سڑک پہ کئی موٹی کیلیں لگانے کے چکر میں سوراخ کرچکے ہوتے ہیں)، بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف (جبکہ خود اپنے اقتدار کے وقت کے الیکٹرک کو سپورٹ کیا اور اپنے لوگ رکھوائے)، مردم شماری میں لوگوں کی غلط گنتی کے خلاف (جب یہ گنتی 2018 میں ہوئی تب کیوں نا احتجاج کیا)، کوٹہ سسٹم کی نا انصافی کے خلاف ( کیا کوٹہ ابھی نافذ ہوا ہے) اور اسی طرح کی دوسری باتیں۔ کراچی کے لیے یہ سیاسی جماعتیں کچھ بھی نہیں رہے ہیں۔ بس صرف نعرے اور بینرز پہ گزارا ہے ۔ جس سے شہر میں گندگی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ دوسری طرف جب یہ بات کی گئی تھی کہ تمام غیر قانونی قابضین کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ ندی نالوں کے بہاؤ کو درست کیا جا سکے۔ تو یہی سیاسی جماعتیں انسانی حقوق کی علمبردار بن کے میدان میں آگئی تھیں۔ کیوں کہ یہی غیرقانونی قابضین بڑے اچھے نعرے لگاتے ہیں اور جلسے جلوسوں کی جان ہوتے ہیں۔ایسے میں انہیں کیسے ناراض کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب عام شہریوں کا ان سیاسی جماعتوں پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ اب کوئی بھی جذباتی بات اور نعرے انہیں متاثر نہیں کرسکتے۔اس لئے چکنی چپڑی بات کرکے کوئی لیڈر بننے کی کوشش نا کرئے ۔بلکہ خودانحصاری کی پالیسی کو اپناتے ہوئے وہ وسائل جمع کررہے ہیں تاکہ اپنی مدد آپ کے تحت بہت سے مسائل حل کرسکیں۔

————–
Syed-Minhaj-ul-Rab—-jang