نوازشریف کی نئی تقریر اور پرانا بیانیہ

ابہام اور خوف نوازشریف کی تقریر کو چھوکر بھی نہیں گزرا بلکہ انہوں نے دوٹوک انداز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان تو ہمارا ھدف ہی نہیں بلکہ اسے مسلط کرنے والوں ہی کے خلاف ہماری جدوجہد ہے۔

اننچاس منٹ پر پھیلی تقریر سے دو باتیں مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آئیں ایک یہ کہ جی ٹی روڈ پر ووٹ کو عزت دو کا جو بیانیہ نوازشریف نے اُٹھایا تھا،اس سے پیچھے ہٹنے کی بجائے وہ مزید آگے بڑھ گئے ہیں۔

اب کی بار ایک طویل اور گھمبیر خاموشی کے بعد انہوں نے بیانیے کو مزید واضح، بے لچک لیکن فیصلہ کن راستوں کی طرف موڑ دیا ہے۔

اپنی تقریر میں وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں پھلانگنے اور منتخب وزیراعظم پر بندوقیں رکھ کر گرفتارکرنے کا ذکر بھی کر گئے۔

اُنیس سو تہتر کے آئین میں شامل دفعہ 6 (غداری کا مقدمہ)
کو یاد رکھا بھی اور کروایا بھی۔

ڈان لیکس کا تنازعہ بھی کھول کر رکھ دیا اور بحیثیت وزیراعظم اپنی بے بسی کا نہ صرف رونا رویا بلکہ دو سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور پرویز اشرف کی گواہی کا حوالہ بھی دیا ۔

حمود الرحمٰن کمشن رپورٹ کو پبلک کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور ڈھاکہ فال کا حوالہ بھی دیا جمہوری حکومتوں کے گرد شکنجہ تنگ کرنے کی کہانی بھی سنائی اور منتخب وزیراعظم اور پارلیمان کی بے بسی پر بھی خاموش نہیں رہے ، پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے اور پھر اس فیصلے اور اس عدالت کے پرخچے اُڑانے کا پورا قصہ بھی زیر زبر کے ساتھ سنا ڈالا ،
بلوچستان میں ثناءاللہ زھری کی حکومت ختم کرنے اور پس پردہ کہانی بھی بھری بزم میں کہہ ڈالی ۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ پر لگائے گئے کرپشن کے الزامات کو اُچھالا بھی اور کھنگالا بھی ۔

عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والوں کی طرف بھی انگلی اُٹھائی اور دو ھزار اٹھارا کے الیکشن میں کھلے عام مداخلت اور دھاندلی کا ذکر بھی لے بیٹھے ۔

تقریر کا دوسرا حصہ ملکی معاملات یعنی سیاست پارلیمان عدلیہ انتظامیہ اور خارجہ معاملات سے متعلق تھا۔

یہاں بھی نوازشریف کا رویہ ابہام سے یکسر خالی اور حد درجہ غیر لچکدار ھی رہا۔

اس نے نا صرف وزیراعظم عمران کو کرپشن اور کارکردگی کے حوالے سے آڑے ھاتھوں لیا اور زمان پارک سے بنی گالہ اور فارن فنڈنگ سے چینی سکینڈل اور معاشی تباہی تک یاد کیا بلکہ ان کی بہن علیمہ خان پر لگائے گئے کرپشن الزامات کا ذکر بھی لے آئے ۔

جسٹس فائز عیسٰی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے حوالے دے کر عدالتوں اور ججز پر دباؤ کو بھی واضح کیا ۔

نیب کو زیر بحث لائے تو چہرے کے خدوخال بھی غیر ارادی طور پر تبدیل ہوتے محسوس ہوئے صاف پتہ چل رہا تھا کہ نوازشریف اس حوالے سے ایک دکھ اور اذیت کا شکار ہوئے ہیں رویہ اس حد تک سخت تھا کہ چیئر مین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی ذات سے جڑے ایک متنازع معاملے کا ذکر بھی بار دگر کیا (حالانکہ یہ نوازشریف کا مزاج نہیں)نیب کے مظالم کا بھی ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ یہ ادارہ (نیب ) اپنا جواز کھو چکا ہے ۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے کہا کہ یہ معاملہ عوامی نمائندوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئیے۔
جاننے والے جانتے ہیں کہ میاں نوازشریف دراصل کہنا کیا چاھتے ہیں اور سیاسی حوالے سے ان کا اشارہ کونسے منظر نامے اور کس منطقے کی جانب ہے۔

تقریر کے اس حصے میں انھوں نےسعودی عرب اور چین کا بھی خصوصی طور پر ذکر کیا ۔

ماضی قریب میں بنتے منظر نامے اور پھر ان ممالک کے ذکر نے سیاسی تجزیہ کاروں کو یقینًا چوکنا کر دیا ہوگا ۔

تقریر کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم ایک سہولت کے ساتھ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نوازشریف نہ صرف اپنے بیانیے میں مزید شدت لانے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں بلکہ اس سلسلے میں ایک طویل لیکن فیصلہ کن جدوجہد کے لئے بھی ذہنی طور پر تیار ہیں۔

انھیں اپنی مقبولیت کے ساتھ ساتھ بگڑتی ہوئی ملکی صورتحال بیدار ہوتی ہوئی رائے عامہ اور طاقت پکڑتی ہوئی سوشل میڈیا کے اثر و رسوخ کا بھی پوری طرح علم ہے اور یہی اجزاء باہم مل کر میاں نوازشریف کے روئیے کو تیزی کے ساتھ سخت گیر اور غیر لچکدار بنا رہی ہے۔

جس کی دو بڑی مثالیں گزشتہ چند گھنٹوں میں سامنے آچکی ہیں یعنی پہلی مثال سوشل میڈیا (ٹوئٹر اور فیس بک ) پر نوازشریف کی انٹری اور دوسری مثال اے پی سی کانفرنس میں کی گئی “خوفناک” تقریر !!
تاہم مستقبل کے سیاسی منظر نامے کا انحصار اس بات پر ھے کہ نواز شریف متحرک ہو جائیں گے یا پھر سے کسی سیاسی اعتکاف میں بیٹھ جائیں

گے۔

————-
Hammad-Hassan————-Pakistan24.tv