بلاول بھٹو زرداری کا اسلام کوٹ اور تھرپارکر کو بجلی مفت فراہم کرنے کا اعلان ۔ سندھ حکومت رقم ادا کرے گی

تھرپارکر /اسلام کوٹ ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام کوٹ اور تھر پارکر کو بجلی مفت فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بل کی مد میں سندھ حکومت رقم ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی آپکی کامیابی ہے، تھر کی کامیابی ہے، سندھ کی کامیابی ہے، پاکستان کی کامیابی ہے، اسکو ہم گڈ گوررنس کہتے ہیں۔ انہوں نےیہ خطاب تھر میں کوئلے سے 660 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے کول پاور پلانٹس کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھر کول کی کہانی بہت لمبی ہےجسکو ہم اس سے شروع کرسکتے ہیں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تھر کی زمین واپس دلائی ۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے لاہور میں اپنے حق کے لئے نکلی اور ضیاء کی آمریت کو للکارا۔ انہوں نے کہا کہ آج مجھے فخر ہے شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اور اس وقت کے وزیراعلیٰ عبداللہ شاہ نے منصوبے کی شروعات کی۔ انہوں نے کہ کہ یہ منصوبہ یہاں کے غریب لوگوں کےلئے فائدہ مند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا وژن اس منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ سندھ حکومت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن اور مشن آگے لے کر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت پاکستان کی سب سے بڑی پبلک پرائیوئٹ پارٹنرشپ کے ذریعے میگا منصوبے مکمل کررہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ برطانیہ کی کمپنی نے پورے ایشیا کی پبلک سیکٹر میں کام کرنے کی لسٹ جاری کی جس میں پورے ایشیاء میں سندھ حکومت چھٹے نمبر پر ہےاور یہ سندھ اور پاکستان کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بجلی پیدا ہوری ہے جوکہ نیشنل گرڈ میں جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے کالے سونے سے بننے والی بجلی ہم پورے پاکستان کو دے رہے ہیں۔ اس منصوبے میں تھر کا پسینہ شامل ہے تو پہلا حق انکا بنتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹٰ کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کرتے ہوئےکہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تھر میں تمام ضروری وسائل ہونے چاہیں،تھر میں یونیورسٹی ہو، تھر میں ایک نہیں دو یونیورسٹیاں ہونی چاہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال وزیراعلیٰ سندھ کو کہوں گا کہ فوری طور پر این ای ڈی یونیورسٹی کا کیمپس تھر میں قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو درخواست کرتا ہوں کہ جلد کام شروع کردیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کا کام نظر آتا ہے۔ ہم چین کی حکومت کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھر کی خواتین جن کے پاس کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا وہ بھی اس منصوبے میں کام کررہی ہیں۔ تھر ماڈل ولیج بنایا جس میں تھر کے مقامی افراد کام کررہے ہیں، اچھی حکومت کی مثال ایسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہ کہ ہر آئے دن کسی نہ کسی منصوبے کے افتتاح کیلئے وزیراعلیٰ سندھ لے جاتے ہیں، اسکو بھی کامیابی کہا جاتا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں سے بڑے بڑے وعدے کئے گئےلیکن تاحال کوئی بھی میگامنصوبہ صوبائی حکومت کو نہیں دیا گیا۔


وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا تقریب سے خطاب: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ کوئلے سے بجلی بنانا ایٹم بم بنانے سےکم نہیں ہے جب کہ ہم چاہتے تو ان 700 ملین ڈالرز سے سڑکیں اور میٹرو بناسکتے تھے۔ تھرکول میں پاور پلانٹس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے تھرپاور پروجیکٹ میں تاخیر کی، ہم 700 ملین ڈالرز تھر منصوبے پرخرچ کیے، ہم چاہتے تو ان 700 ملین ڈالرز سے سڑکیں اور میٹرو بناسکتے تھے لیکن محترمہ شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا کہ تھرکے کوئلے سے بجلی بنائی جائے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ کوئلے سے بجلی بنانا ایٹم بم بنانے سےکم نہیں ہے، ہمیں کہا گیا کہ یہاں کوئلہ نہیں لیکن ہم نے یوٹرن نہیں لیا،کوئی اور حکومت ہوتی تو اب تک بھاگ چکی ہوتی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تھرپاور پلانٹ کے ذریعے ہم اپنا قیمتی زرمبادلہ بچاسکتے ہیں، تھرپاور پروجیکٹ کے لیے شروع میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا تھا، کوئی غیرملکی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا، آصف زرداری نے تھرکول انرجی بورڈ میں وفاق کے نمائندے کو وائس چیئرمین اور سید قائم علی شاہ چیئرمین بنے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاورپلانٹ کوچلانے کے لیےتھر کے انجنیئرز کو چین میں تربیت دی گئی، تھر سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ کو دے کر پاکستان کو روشن کیا، یہ بلاک ٹوکا پہلا پراجیکٹ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، نثار کھڑو سمیت صوبائی کابینہ و سینئرزکو مبارکباد دیتے ہو کہا کہ تھر کے اصل مالک تھریوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے تاریخ رقم کی ہے، تھر نے بدلا ہے پاکستان۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر آج ناممکن کو ممکن بنایا ہےجس کی میں پورے پاکستان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے وسائل کو کام میں لاتے ہوئے ترقی پر گامزن کیا جاسکتا ہے، تھر پاور پلانٹ کوئی کم اچیومنٹ نہیں ہے، جس جگہ ہر ہم کھڑے ہیں 1971 میں دشمنوں نے قبضہ کرلیا تھا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس زمین کو واپس دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے تھر کا کالا سونا دریافت کیا اور 1996 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کرکے منصوبہ کو ختم پر وار کیا گیا، منصوبے کو دوبارہ شروع کیا گیا تو اس وقت کی وفاقی حکومت نے 2.76 کے فرق سے ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سید قائم علی شاہ اور میں نے اس وقت کی معیشت کو دیکھ کر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر تھر کول کمپنی بنائے اور اسکی افتتاحی تقریب بلاول ہاؤس میں منعقد کی گئی۔ س وقت اینگرو نے کہا تھا کہ ہم کریں گے لیکن سندھ حکومت کی شراکتداری ضرور ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے حامی بھری اور اینگرو کے ساتھ کام کیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے یوٹرن نہیں لیا، ہمیں ڈسٹرائی کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمیں کہا گیا کہ اس منصوبے میں ہاتھ نہ ڈالیں لیکن پھر بھی ہم نے یوٹرن نہیں لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ فنی مسائل بہت تھے کسی نے پہلے اوپن پٹ مائننگ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ میں جب پہلی بار تھر آیا تھا تو نو گھنٹے لگے تھےاب سڑکیں اتنی اچھی بنائی گئیں ہیں کہ میرا ڈرائیور تین گھنٹے میں پہنچاتا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ تھر کے کوئلہ سے پاکستان کی لوڈشیڈنگ ختم کرونگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تھر کے متعدد منصوبے بنائے، آج الحمداللہ تھر ترقی کررہا ہے، اس میں صحیح معنی میں تھر کے واسیوں کی کامیابی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں درخواست کرتا ہوں تنقیدنگاروں کو کہ جائیں تھر کے نئے تعمیر شدہ گھروں کا دورہ کریں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر خاندان کو گھر دے رہے ہیں اور نوکریوں میں 75فیصد مقامی شامل ہیں۔ ہر خاندان کو ایک لاکھ ماہانہ دے رہے ہیں جو پہلے کبھی دنیا میں ایسے کام نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تربیتی پروگرام بنائے، نوکریاں دیں، چائنہ سے تربیت کیلئے بھی بھیجا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی پارٹنر ہیں انکو کہا ہے کہ تھر منصوبوں کو تھر کے رائلٹی کو تھر پر خرچ کرنا ہے۔ سب دیکھ سکتے ہیں کہ تھر فائوندیشن کے ذریعے ٹی سی ایف اسکول بنایا ہے اور ہم نے اعلیٰ معیار کا اسپتال بھی بنوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے وسائل ہی ملک کا واحد ترقی کا حل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے تقریب میں شامل سب دوستوں اور تھر کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج تاریخی دن ہے اور میگاپروجیکٹ آج مکمل ہوا ۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب ہندستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملنے گئے تھے تو وہاں انہوں نے سندھ کی قبضہ کی گئی تھر کی زمین کی بات کی اور آزاد کروائی۔ ہندستان والوں نے کہا آپ تھر کا کیا کریں گے وہاں تو ریت ریت ہے؟ شہید بھٹو نے جواباً کہا کہ پاکستان کا ایک ایک انچ واپس لونگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خواب نہیں ایک حقیقت تھی جسکو شہید بینظیر بھٹو نے تعبیر کیا۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ ایک کمپنی نے مجھے کہا کہ تھر کا کالا سونا کام میں لائیں، اس وقت پاکستان کے صدر فاروق لغاری نے منع کیا تھر کا دورہ کرنے سے اور کہا کہ کچھ نہیں ہوسکتا رقم بھی نہیں۔ میں نے کمپنی کو تاریخی بندرگاہ کیٹی بندر سے راستہ بنانے کا بھی کہا تھا۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے کئی کارنامے آج بھی یاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نے کہا تھا کہ ملک میں تو بہت بجلی ہے تو کیوں پیسے خرچ کریں؟ قائم علی شاہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس منصوبے کو آگے برھانا کا جذبہ ہے، میں نے کہا کہ جذبہ بھی ہے محنت بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے ذریعے کول کانفرنس ہوئی تھی جس میں 75 ممالک آئے تھے، یہاں جو آنے کیلئے تیار نہیں تھا جسکو ہم نے کوشش کرکے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جزبہ تھا اور وہ جذبہ شہید بینظیر بھٹو نے دیا۔ آج کے تاریخی منصوبے کا سہرا پاکستان پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تھر واسیوں کے لیے کارآمد اور مفید ہے جو پانچ پانچ سال قحط سالی میں رہتے ہیں۔ سید قائم علی شاہ نے اپنے خطاب کا اختتام جئے بھٹو کےنعرے سے کیا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ کوئلے سے بجلی بنانا ایٹم بم بنانے سےکم نہیں ہے جب کہ ہم چاہتے تو ان 700 ملین ڈالرز سے سڑکیں اور میٹرو بناسکتے تھے۔ تھرکول میں پاور پلانٹس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں نے تھرپاور پروجیکٹ میں تاخیر کی، ہم 700 ملین ڈالرز تھر منصوبے پرخرچ کیے، ہم چاہتے تو ان 700 ملین ڈالرز سے سڑکیں اور میٹرو بناسکتے تھے لیکن محترمہ شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا کہ تھرکے کوئلے سے بجلی بنائی جائے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ کوئلے سے بجلی بنانا ایٹم بم بنانے سےکم نہیں ہے، ہمیں کہا گیا کہ یہاں کوئلہ نہیں لیکن ہم نے یوٹرن نہیں لیا،کوئی اور حکومت ہوتی تو اب تک بھاگ چکی ہوتی۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ تھرپاور پلانٹ کے ذریعے ہم اپنا قیمتی زرمبادلہ بچاسکتے ہیں، تھرپاور پروجیکٹ کے لیے شروع میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا تھا، کوئی غیرملکی بھی اس کے لیے تیار نہیں تھا، آصف زرداری نے تھرکول انرجی بورڈ میں وفاق کے نمائندے کو وائس چیئرمین اور سید قائم علی شاہ چیئرمین بنے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاورپلانٹ کوچلانے کے لیےتھر کے انجنیئرز کو چین میں تربیت دی گئی، تھر سے پیدا ہونے والی بجلی نیشنل گرڈ کو دے کر پاکستان کو روشن کیا، یہ بلاک ٹوکا پہلا پراجیکٹ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، نثار کھڑو سمیت صوبائی کابینہ و سینئرزکو مبارکباد دیتے ہو کہا کہ تھر کے اصل مالک تھریوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے تاریخ رقم کی ہے، تھر نے بدلا ہے پاکستان۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر آج ناممکن کو ممکن بنایا ہےجس کی میں پورے پاکستان کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے وسائل کو کام میں لاتے ہوئے ترقی پر گامزن کیا جاسکتا ہے، تھر پاور پلانٹ کوئی کم اچیومنٹ نہیں ہے، جس جگہ ہر ہم کھڑے ہیں 1971 میں دشمنوں نے قبضہ کرلیا تھا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس زمین کو واپس دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے تھر کا کالا سونا دریافت کیا اور 1996 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کرکے منصوبہ کو ختم پر وار کیا گیا، منصوبے کو دوبارہ شروع کیا گیا تو اس وقت کی وفاقی حکومت نے 2.76 کے فرق سے ختم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سید قائم علی شاہ اور میں نے اس وقت کی معیشت کو دیکھ کر صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر تھر کول کمپنی بنائے اور اسکی افتتاحی تقریب بلاول ہاؤس میں منعقد کی گئی۔ س وقت اینگرو نے کہا تھا کہ ہم کریں گے لیکن سندھ حکومت کی شراکتداری ضرور ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے حامی بھری اور اینگرو کے ساتھ کام کیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے یوٹرن نہیں لیا، ہمیں ڈسٹرائی کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہمیں کہا گیا کہ اس منصوبے میں ہاتھ نہ ڈالیں لیکن پھر بھی ہم نے یوٹرن نہیں لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ فنی مسائل بہت تھے کسی نے پہلے اوپن پٹ مائننگ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ میں جب پہلی بار تھر آیا تھا تو نو گھنٹے لگے تھےاب سڑکیں اتنی اچھی بنائی گئیں ہیں کہ میرا ڈرائیور تین گھنٹے میں پہنچاتا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ تھر کے کوئلہ سے پاکستان کی لوڈشیڈنگ ختم کرونگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تھر کے متعدد منصوبے بنائے، آج الحمداللہ تھر ترقی کررہا ہے، اس میں صحیح معنی میں تھر کے واسیوں کی کامیابی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں درخواست کرتا ہوں تنقیدنگاروں کو کہ جائیں تھر کے نئے تعمیر شدہ گھروں کا دورہ کریں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر خاندان کو گھر دے رہے ہیں اور نوکریوں میں 75فیصد مقامی شامل ہیں۔ ہر خاندان کو ایک لاکھ ماہانہ دے رہے ہیں جو پہلے کبھی دنیا میں ایسے کام نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تربیتی پروگرام بنائے، نوکریاں دیں، چائنہ سے تربیت کیلئے بھی بھیجا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی پارٹنر ہیں انکو کہا ہے کہ تھر منصوبوں کو تھر کے رائلٹی کو تھر پر خرچ کرنا ہے۔ سب دیکھ سکتے ہیں کہ تھر فائوندیشن کے ذریعے ٹی سی ایف اسکول بنایا ہے اور ہم نے اعلیٰ معیار کا اسپتال بھی بنوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھر کے وسائل ہی ملک کا واحد ترقی کا حل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے تقریب میں شامل سب دوستوں اور تھر کے عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج تاریخی دن ہے اور میگاپروجیکٹ آج مکمل ہوا ۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب ہندستان کی وزیراعظم اندرا گاندھی سے ملنے گئے تھے تو وہاں انہوں نے سندھ کی قبضہ کی گئی تھر کی زمین کی بات کی اور آزاد کروائی۔ ہندستان والوں نے کہا آپ تھر کا کیا کریں گے وہاں تو ریت ریت ہے؟ شہید بھٹو نے جواباً کہا کہ پاکستان کا ایک ایک انچ واپس لونگا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خواب نہیں ایک حقیقت تھی جسکو شہید بینظیر بھٹو نے تعبیر کیا۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ ایک کمپنی نے مجھے کہا کہ تھر کا کالا سونا کام میں لائیں، اس وقت پاکستان کے صدر فاروق لغاری نے منع کیا تھر کا دورہ کرنے سے اور کہا کہ کچھ نہیں ہوسکتا رقم بھی نہیں۔ میں نے کمپنی کو تاریخی بندرگاہ کیٹی بندر سے راستہ بنانے کا بھی کہا تھا۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے کئی کارنامے آج بھی یاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نے کہا تھا کہ ملک میں تو بہت بجلی ہے تو کیوں پیسے خرچ کریں؟ قائم علی شاہ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس منصوبے کو آگے برھانا کا جذبہ ہے، میں نے کہا کہ جذبہ بھی ہے محنت بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے ذریعے کول کانفرنس ہوئی تھی جس میں 75 ممالک آئے تھے، یہاں جو آنے کیلئے تیار نہیں تھا جسکو ہم نے کوشش کرکے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جزبہ تھا اور وہ جذبہ شہید بینظیر بھٹو نے دیا۔ آج کے تاریخی منصوبے کا سہرا پاکستان پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تھر واسیوں کے لیے کارآمد اور مفید ہے جو پانچ پانچ سال قحط سالی میں رہتے ہیں۔ سید قائم علی شاہ نے اپنے خطاب کا اختتام جئے بھٹو کےنعرے سے کیا۔

صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ نے تھرکول فیلڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ شہید بینظیر بھٹو کا جو خواب تھا کہ تھر ہی پاکستان کی بجلی کے بحران کا واحد حل ہے۔ وزیر توانائی نے تقریب کے شرکا، اینگرو کمپنی، انکے انجینئرز اور تمام اسٹیک ہولڈر کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ 660 میگاواٹ کے پاور پلانٹس کا آج افتتاح ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی کاوشوں کو سراہتا ہوں اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ذاتی دلچسپی اور انتھک محنتوں سے منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیوئٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سندھ حکومت کو منصوبے کی ساورین گارنٹی دی گئی۔ امتیاز شیخ نے کہا کہ یہ منصوبہ انشاء اللہ تھر کی قسمت بدل دے گا۔ وزیر توانائی نے کہا کہ نیشنل گرڈ میں جانے والی بجلی سندھ کی طرف سے پاکستان کے عوام کو ایک تحفہ ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ منصوبہ آگے چل کر توانائی سکیورٹی بنے گا۔

قبل ازیں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے کراچی سے اسلام کوٹ پہنچنے پر سندھ کابینہ اراکین، علاقے کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اراکین اور چیف سیکرٹری سندھ نے استقبال کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے تھر کول فیلڈ پہنچنے پر وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ان کا استقبال کیا۔

بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نئے سینگیری ولیج کا وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ دورہ کیا اور انہوں نے تھر کول فیلڈ کے متاثرین کو نئے تعمیر شدہ گھروں کا معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو کو بتایا کہ نئے گھروں کے ہر 12 گھروں کے گروپ کو ایک پلے گرائوند بھی دیا گیا۔ انہوں نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ولیج میں مسجد، مندر سمیت اسکول، اسپتال، بجلی و دیگر سہولیات بھی دی گئی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو نئے سینہری درس ولیج میں تھر کول کے نصیر میمن نے بریفنگ دی گئی۔ چیئرمین پی پی پی کو بتایا گیا کہ گائوں میں 172 گھر ہیں اور اس 86گھر آباد ہوچکے ہیں، جس میں تقریباً 500 افراد رہتے ہیں۔ مزید آگاہی دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کافی تعداد میں افراد یہاں منتقل ہورہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین نے نئے گھروں کے مکینوں سے ملاقات کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین کو صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ نے بھی بریفنگ دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے موبائل سے گھروں کی فوٹیج بنائی اور وہاں پر سیلفی بھی بنائی۔ پی پی پی چیئرمین نے اتنے بڑے پئمانے پر تھر میں ترقی کا اصل کریڈٹ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو دیا اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو تھر میں کامیابی اور ترقی دینے پر مبارکباد دی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھر کول فیلڈ بلاک ٹو کا دورہ کیا اور اوپن پٹ مائن کا معائنہ کیا، اس موقعہ پر انکے ساتھ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر توانائی امتیاز شیخ تھے۔ بلاول بھٹو زرداری کو کوئلے کی کوالٹی کی مائننگ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مائننگ کے کام کا معائنہ کیا اور مائنرز کے ساتھ ملاقات کی اور کامیابی پر مبارکباد دی۔ پی پی پی چیئرمین نے کول کی اپنے موبائل سے فوٹو بھی بنائیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ساتھ پاور پلانٹ کا دورہ کیا اور مختلف سیکشن اور عمل کا معائنہ کیا ۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاور پلانٹ کا افتتاح کمپیوٹر پر کلک کر کے کیا ، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور صدر پیپلز پارٹی سندھ نثار احمد کھوڑو، صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ اور دیگر موجود تھے۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پنڈال میں کول مائن کا افتتاح کیا ۔ پروگرام کی ابتداء قومی ترانے سے کی گئی۔ تقریب میں ایک ڈاکیومینٹری دکھائی گئی جس کی شروعات اس وقت کے کول مائننگ کی سنگ بنیاد تقریب سے کی گئی ہےجب پاکستان کی وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ تھےجبکہ آج کے افتتاح تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہیں، پروجیکٹ کی شروعات جس جنریشن نے کی اس کا افتتاح انکی دوسری جنریشن نے کیا ۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آج تھر میں 330 میگاواٹ کے 2 تھر کول پاور پلانٹس کا افتتاح کردیا ہے۔ انکے ساتھ افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور انکی کی کابینہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
واضح رہے کہ تھرکے کوئلے سے بننے والی بجلی کے دو پاور پلانٹس سے 660 میگا واٹ بجلی کی تیاری کا آغاز ہوگا ہے، ابتدائی طور پر دونوں پلانٹ سے 100، 100 میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی جب کہ جون تک بتدریج کمرشل بنیادوں پر مکمل بجلی کی ترسیل شروع ہوگی۔
بلاول بھٹو زرداری نے تھرکول پاور پلانٹس کو اپنے ٹوئٹر پیغام میں پاکستان کا سب سے بڑا منصوبہ قرار دیا اور ہیش ٹیگ میں واضح کیا کہ ’تھر نے بدلا پاکستان‘۔
یاد رہے کہ تھرکول منصوبے کا آغاز 2011 میں سندھ حکومت اور نجی کمپنیوں کے اشتراک سے ہوا اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد 2020 تک دو ہزار میگاواٹ بجلی کی پیدوار شروع ہوجائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں