آباد کی نو منتخب قیادت کے لیے سب سے بڑے چیلنج کیا ہیں ؟

 ایسوسی ایشن اور بلڈرز اینڈ  ڈویلپرز آباد کی نو منتخب قیادت سامنے آگئی ہے نئے عہدے داروں کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہوگا کیونکہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے غیر قانونی تعمیرات کرنے میں آباد کے اراکین بھی شامل ہیں اور ان کے مختلف پروجیکٹس بھی ان اہمعمارتوں میں شامل کیے گئے ہیں جنہیں گرایا جائے گا مختلف بلڈرز اور ڈویلپرز پہلے ہی آہ و بکا کر چکے ہیں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے زیادتی ہو رہی ہے پہلے مختلف سرکاری اداروں نے انہیں باقاعدہ اجازت نامے جاری کیے این او سی جاری کیے گئے جس کے بعد انھوں نے مختلف زمینوں پر اپنے پروجیکٹ اعلان کرکے ان کی تعمیر شروع کی اور انہیں اسٹرکچر تک پہنچایا لیکن اس کے بعد ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا اور اب ان کی عمارتوں کو گرانے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں راشد منہاس روڈ پر الہ دین پارک کے بالکل برابر میں ایک بڑنامور بلڈر کا ایک پروجیکٹ پہلے ہی گرانے کا کام جاری ہے شہر میں کم از کم دو سو سے تین سو بڑے پروجیکٹ ایسے ہیں جنہیں غیر قانونی قرار دے کر گرایا  جانا ہے ویسے تو ایک ہزار کے قریب غیر قانونی تعمیرات کی بات ہو رہی ہے لیکن خود بلڈرز کا کہنا ہے کہ دو ڈھائی سو تعمیرات ایسی ہیں جو لپیٹ میں آئیں گی یا زد میں آئیں گی اور گر جائیں گی بلڈنگ کے عہدیداروں اور نمائندوں نے مختلف حکومتی فورم پر آواز اٹھائی ہے صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے سامنے بھی اپنا کیس رکھا ہے لیکن عدالت کے احکامات بالکل واضح ہے کہ جہاں غیر قانونی تعمیرات ہوئی ہیں جہاں تجاوزات قائم کیے گئے ہیں ان سب کو ٹریکٹر اور مشینری لے جا کر گرا دیا جائے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی ایک نقشہ تیار کرلیا ہے جس کے تحت کراچی سرکلر ریلوے کے ان علاقوں کو صاف کرایا جانا ہے جہاں پر لوگوں نے تجاوزات قائم کر رکھے ہیں اور غیر قانونی تعمیرات بنا کر رہے ہیں ۔آباد کی نو منتخب قیادت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اپنے ممبران کی تسلی کیسے کرائے ان کے قانونی اور غیر قانونی پروجیکٹس کا فرق کیسے واضح کرے اور جہاں ان کے ممبران نے غلطیاں کی ہیں ان کا ازالہ کیسے کیا جائے ۔ سیاسی جماعتیں اور صوبائی اور وفاقی حکومت اس بات پر تو راضی ہیں کہ جہاں لوگ رہے ہیں ان کو کہیں اور بسانے   تک ان کی موجودہ عمارتوں کو نہ گرایا جائے لیکن بالآخر ان کو کہیں نہ کہیں تو جانا ہوگا ۔پہلے مرحلے میں زیرتعمیر قانونی تعمیرات اور عمارتوں کو گرانے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے عبادت بھی اس سلسلے میں ان بورڈ ہے اور وزیر اعظم اور وزیراعلی سندھ سمیت مختلف اعلیٰ حکام کے سامنے کئی مرتبہ یہ معاملہ زیر بحث آ چکا ہے اور فیصلہ ہو چکا ہے ۔ آباد کے نومنتخب رہنماؤں کے لیے یہ وقت سر منڈاتے ہی اولے پڑنے جیسا ہے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ان کے سامنے بڑے بڑے چیلنج ہیں ان کے اپنے اراکین اور دوست ناراض ہوں گے لیکن قانون سب کے لئے برابر ہے انہیں قانون کے مطابق چلنا ہوگا اسی میں ان کی بچت ہوگی اسی میں ان کا بھلا ہوگا ۔ اگر آباد کے نو منتخب عہدیداروں نے قانون کو ہاتھ میں لیا یا قانون توڑنے والوں کا ساتھ دیا تو ان کی اپنی بھی خیر نہیں ہوگی اور ان کے حصے میں سوائے بدنامی کے اور کچھ نہیں آئے گا کیونکہ کوئلے کی دلالی میں صرف ہاتھ کالے ہوتے ہیں ۔ بظاہر آباد کی نو منتخب قیادت صاف ستھری اور بہتر کارکردگی رکھنے والے اہم بلڈرز پر مشتمل ہے اور ان کی ساکھ بھی اچھی ہے اس لئے ان سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں آباد کے لیے نیک نامی کا باعث بنیں گے اور اچھے اقدامات اٹھائیں گے ۔ اگر آباد کے نو منتخب عہدیداروں نے قانون کے مطابق جرات مندانہ اقدام اٹھائے اور دوستو اور ممبران کی ناراضگی کی پرواہ کیے بغیر قانون کی بالادستی پر یقین رکھا تو یقینی طور پر سرکاری حکام اور عدالتیں ان کو سراہیں گی اور ان کا بول بالا ہو گا اور ویڈیو بھی ان کا ساتھ دے گا اور ان کے اقدامات کو سرا ہے گا  لیکن اگر ان میں سے کچھ عہدیداروں نے انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اپنے عہدوں کا ناجائز اور غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو سب سے پہلے یہی میڈیا ان کا احتساب کرے گا محاسبہ کرے گا اور ان کے غلط کاموں کی نشاندہی کرے گا ۔ آباد ایک بہت بڑا ادارہ ہے بہت اچھا ادارہ ہے اور اس نے پاکستان میں ایک مثالی ادارہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کیونکہ اس ادارے کے سابق چیئرمین اور سابق عہدیداروں نے بڑی محنت اور ذہانت سے اپنے فرائض انجام دیئے اور آباد کی نیک نامی کا باعث بنے ۔
 جیوے پاکستان ڈاٹ کام  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی 26 ستمبر2020؛ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے سالانہ انتخابات 2020-21  چیئرمین کی نشست پر  فیاض الیاس منتخب ہوگئے ہیں جبکہ سینئر وائس چیئرمین کی نشست پر خواجہ محمد ایوب جبکہ  وائس چیئرمین  کی نشست پر عارف شیخانی  منتخب ہوگئے ہیں۔،دانش بن رؤف کو سدرن ریجن، شیراز جے منو کو ناردرن ریجن  کا چیئرمین جبکہ  کاشف شہخ کو  سب ریجن  حیدرآباد کا وائس  چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آباد ہاؤس میں منعقد ہونے والے آباد کی جنرل باڈی کا اجلاس ہوا جس میں سال 2020-21  کے لیے  تمام اراکین نے متفقہ طور پر سال 2020-21 کے لیے  آباد کے نئے عہدیداران کا انتخاب کیا۔ اس موقع پر نومنتخب چیئرمین فیاض الیاس  نے تمام ممبران سے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے تمام بلڈرز اور ڈیولپرز اور آباد کے ممبران کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے بلا تفریق ممبران کی فلا ح و بہبود کے لیے اور تعمیراتی صنعت کے فروغ کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔انھوں نے کہا کہ آباد کی طاقت ممبران کے باہمی اتحاد پر منحصر ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ آباد الیکشن میں ممبران نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے وہ ہمیشہ برقرار رہے گا۔ انھوں نے آباد کے ممبران کی فلاح و بہبود اور تعمیراتی شعبے کی ترقی اور ملکی معیشت کے فروغ میں شاندار خدمات پر محسن شیخانی کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ محسن شیخانی مستقبل میں بھی تعمیراتی صنعت کے فروغ کے لیے  آباد کے  عہدیداران کی سرپرستی کرتے رہیں گے۔سبکدوش ہونے والے چیئرمین محسن شیخانی نے  خطاب کرتے ہوئے تمام نومنتخب عہدیدران کو مبارکباد دیتے ہوئے امیدظاہر کی کہ وہ آباد ممبران کی فلاح و بہبود،ممبران کے مسائل حل کرنے،تعمیراتی صنعت کے فروغ اور ملکی معیشت کے استحکام اور وطن عزیر کی خوشحالی کے لیے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔محسن شیخانی نے بتایا کہ  ان کے دور میں تعمیراتی شعبے کو بے شمار مسائل کا سامنا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہم  فکس ٹیکس ریجیم کا نفاذ،مقررہ وقت میں بلڈنگ پلان کی منظوری اور تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔وزیراعظم عمران خان  کی جانب سے کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان آباد ممبران کے لیے نہایت خوش آئند ہے جس سے کم آمدن والے طبقے کو  50 لاکھ گھروں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کو روزگار بھی ملے گا جس سے  تعمیراتی شعبے کا استحکام اور ملکی معیشت کو فروغ ملے گا۔محسن شیخانی نے اپنے دور میں آباد کو ملنے والی کامیابیوں پر تمام سبکدوش ہونے والے عہدیداران اور ممبران کو خراج تحسین پیش کیا۔سبکدوش ہونے والے سینئر وائس چیئرمین  سہیل ورند،وائس چیئرمین عبدالرحمٰن اور سدرن ریجن کے چیئرمین محمد علی توفیق رتاڑیا نے بھی تمام نو منتخب عہدیداراران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ  آباد ممبران کی فلاح و بہبود اور تعمیراتی صنعت کے فروغ  اور ملکی معیشت کی ترقی کے لیے تمام نو منتخب عہدیداران کی مکمل سپورٹ کریں گے۔قبل ازیں سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے انتخابات  ہوئے جس میں الائیڈ پینل کے الطاف کانٹا والا  بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے جبکہ الائیڈ پینل کے   ہی عامر امین تھارا، عبدالکریم آڈھیا، افضل چامڈیہ، احمد اویس، علی جمیل، آصف یونس سم سم، عارف یوسف جیوا، محمد ایوب، محمد حسن بخشی، محمد صادق بلوچ، ندیم ریاض، فیاض الیاس، محمد سہیل نیوی والا ،نذیر محمد غوری، راحیل رنچ خاور منیر اور محمد عارف شیخانی بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔  جبکہ محمد ناصر لاکھانی، محمد پٹیل، سعید خورشید عالم، عمر بن اسلام، طارق عزیز، عبدل برکات، انجینئر دانش بن رؤف، ذیشان صدیقی، محمد خالد، مصطفیٰ شیخانی، عزیر شاہد اور سید الطاف حسین آباد کی  سدرن ریجنل ایگزیکٹیو کمیٹی  کے ممبران منتخب ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں شیراز جے منو کو آباد ناردرن ریجن کا چیئرمین جبکہ حضر ایوب اظہار، ساجد سعید،ساحر رشید،عمر الہی شیخ، میاں محمد نعمان،محمد پرویز چوہدری اور تعظیم احمد ناردرن ریجن کے ممبران منخب ہوگئے ہیں۔سب ریجن حیدر آباد کے لیے کاشف شیخ کو  وائس چیئرمین جبکہ انجینئر شبیر میمن اور اسداللہ کو بطور ممبران منتخب کیا گیا ہے۔