میری ماں بہت مضبوط اور عظیم ماں

ہم اپنی زندگی میں بطور والد یا بحیثیت شوہر بہت سی پلاننگ کرتے ہیں  کہ بیٹا کیمبرج پڑھے یا میٹرک سسٹم میں جائے یا اسے بورڈنگ بھیجا جائے تو اس کا مستقبل کتنا اچھا ہوسکتا ہے۔ بیٹی ڈاکٹر بن جائے یا کسی اور ایسے شعبے میں جائے جہاں اس کی آگے کی زندگی آسان رہے۔ اپنی زندگی میں اہلیہ یا خود کی انشورنس یا کوئی اور ذرائع آمدن ایسے ہونا کہ فیملی کو پریشانی کم سے کم ہو۔ یہ بھی ذہن پلان بناتا ہے کہ فی زمانہ اوسط زندگی (جبکہ موت کسی وقت بھی آسکتی ہے) کے اعتبار سے جب میں پچاس کا ہندسہ عبور کروں گا تو میرا بیٹا بیس یا بائیس کا ہوگا لیکن اس سب کے باوجود کوئی بھی شخص زندگی کے کسی مرحلے پر بھی ایک لمحے کو یہ تصور میں بھی نہیں لاتا کہ وہ خود کی زندگی کو روشن کرنے والی ماں جیسی نعمت اور چراغ کو اپنے ہاتھوں سے قبرکے پاتال میں اتارے گا۔  میری ماں بہت مضبوط اور عظیم ماں ہیں۔ میں انہیں “تھیں “ نہیں لکھ سکتا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہ اب بھی میرے ساتھ ہیں۔ میں ان کی خوشبو محسوس کرسکتا ہوں اور ان کی قبر پر ان سے باتیں کرتے مجھے میری ماں نظر بھی آتی ہے بس ابھی وہ میری بات کا جواب نہیں دیتی بس مسکراتی رہتی ہیں۔  سرجری کے بعد کا درد تو دواؤں سے کبھی نہ کبھی ٹھیک ہو ہی جائیگا لیکن امی کے جانے کا زخم میری روح پر بہت گہرا لگا ہے اور بھلا روح کا زخم کبھی کسی دوا سے  ٹھیک ہوا ہے؟؟۔۔۔۔۔عارف محمود