ہم بچے نہیں ہیں صوبہ بنا کر دکھائیں گے جاوید حنیف کا دعویٰ

وفاقی اور صوبائی حکومت کہ مختلف اہم عہدوں پر بطور ایک ذہین اور قابل بیوروکریٹ اپنی شناخت بنانے والے مشہور سرکاری افسر جاوید حنیف جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے ان کا دعوی ہے کہ ہم بچے نہیں ہیں الگ صوبہ بنا کر دکھائیں گے یہ فیصلہ کر لیا ہے اور اپنی منزل کا تعین کرلیا ہے اس جانب بڑھ رہے ہیں اور دنیا کو ایک الگ صوبہ بنا کر دکھائیں گے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے جاوید حنیف کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے کراچی کے ریونیو سے ملک چلتا ہے یہ ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت سے نہ تو آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں نہ اس کو رد کیا جا سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کو سب جانتے ہیں لیکن کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ نہیں ہم نے آواز اٹھائی ہے ہم آواز اٹھاتے رہیں گے کیونکہ ہم مسائل کو بھی جانتے ہیں اور ان کا حل بھی جانتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کراچی کے مسائل کے حل پر خرچ ہونے چاہئیں جب کراچی پورے ملک کو کما کر دیتا ہے تو کراچی کے لوگوں کی مشکلات کیوں ختم نہیں ہونی چاہیے کراچی کے مسائل ترجیحی بنیاد پر حل ہونے چاہیں ۔یاد رہے کہ جاوید حنیف کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں اس سے پہلے وہ سندھ حکومت کے محکمہ خزانہ محکمہ بلدیات سمیت کئی اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں ان کا شمار پاکستان کے انتہائی ذہین اور قابل سرکاری افسران میں کیا جاتا ہے سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے وہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے سیاست میں داخل ہوئے اور انہوں نے رکن سندھ اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل کیا سیاست میں آنے کے بعد ان کے خلاف ماضی کے مختلف معاملات کی انکوائری اور الزام تراشی بھی ہوئی اور انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا وہ سندھ اسمبلی  کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے جیل سے آتے رہے ۔ نیا صوبہ بنانے کے حوالے سے وہ انتہائی پرعزم ہیں اور انہوں نے ٹی وی پروگرام میں بھی پورے اعتماد انداز میں کہا ہے کہ ہم بچے نہیں ہیں ہم نیا صوبہ بنا کر دکھائیں گے ۔