دو قطرے بار بار ہر بار

دنیا بھر میں پولیو جیسی موذی اور خطرناک بیماری کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں پولیو کے نئے کیس سامنے آ رہے ہیں اور دنیا کو خطرہ ہے کہ یہ دونوں ملک دنیا میں پولیو کے مرض کو دوبارہ بڑھا سکتے ہیں اس لئے ان دونوں ملکوں میں بچوں کو پولیو کے مرض سے بچانے کے لیے بھرپور اور موثر مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین کے قطرے پلا کر نا صرف ان کی صحت کو محفوظ بنایا جائے بلکہ دنیا کے دیگر بچوں کو بھی محفوظ کیا جا سکے ۔پاکستان بھر میں یہ مہم زور و شور سے جاری ہے اور پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کمشنر کراچی سہیل راجپوت پر عزم ہیں کہ پولیو کو شکست دی جائے اور بولیوکے  مرض کو پاکستان سے بھگا دیا جائے کراچی اس حوالے سے اہم شہر ہے کیونکہ پورے ملک سے بلکہ کئی ملکوں سے لوگ یہاں آتے ہیں اور یہاں آنے والوں کے ساتھ پولیو کا وائرس بھی سفر کر سکتا ہے اس خدشے کے پیش نظر کراچی میں آنے والے لوگوں اور یہاں رہنے والے لوگوں کے بچوں کو پولیو کے مرض سے بچاؤ کے لئے ویکسین کے قطرے پلانا بہت ضروری ہے صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے اس حوالے سے بہت محنت کر رہے ہیں اور پولیو کے مرض سے بچوں کو بچانے کے لیے رضاکار گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلا رہے ہیں یہ انتہائی خطرناک معاملہ ہے اگر بچوں کی صحت پر توجہ نہ دی گئی تو خدانخواستہ وہ پوری زندگی کے لیے اپاہج ہو سکتے ہیں مریض بن کر زندگی گزارنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے ایک ملاقات میں جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی ٹیم کو بتایا کہ پولیو ویکسین کے قطرے پلانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور کرونا کی صورتحال میں پولیو ویکسین کے رضاکاروں کے لیے ایک ایسا وپی تشکیل دی گئی اور اس ایس او پی پر مکمل عمل درآمد کیا جا رہا ہے پولیو رضاکاروں کو سیکورٹی بھی فراہم کی گئی ہے اور سرکار کی پوری پوری کوشش ہے کہ کوئی بچہ پولیو ویکسین کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے اور بار بار بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں ۔ پولیو کے مرض کے حوالے سے گہری معلومات رکھنے والے معروف ڈاکٹر سلیم پریانی نے بھی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے لئے ویکسین کے قطرے ضرور پلائیں ان کا کہنا ہے کہ  تو کترے بار بار ہر بار  یہ ہمارا سلوگن دی ہے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت بھی ہے کیونکہ صرف پاکستان اور افغانستان دو ایسے ملک رہ گئے ہیں جہاں پولیو کا وائرس زندہ ہے ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں چیچک کی بیماری بہت خطرناک ہوتی تھی چہرے کو داغ دار کر دیتی تھی چیچک کا خاتمہ بھی ویکسین کے ذریعے کیا گیا تھا اور اب پولیو کا خاتمہ بھی ویکسین کے قطرے پلا کر ہی ہوگا انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور بعض عناصر کی طرف سے ایسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ شاید پولیوویکسین کے پتوں کے ذریعے آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ان افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے لہذا تمام والدین اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے ضرور پلائیں گھرگھر رضاکار آرہے ہیں وہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کرونا کے وائرس کے ہوتے ہوئے خطرہ مول لے کر آپ کے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لئے آپ کے گھر تک آ رہے ہیں ان کے ساتھ خوش دلی سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ تعاون کریں اور اگر کسی جگہ اتنا بڑا شہر ہے لہذا کار نہ پہنچ سکی تو آپ خود قریبی اسپتال اور قریبی مراکز پر اپنے بچوں کو لے کر جائیں اور ان کو پولیو ویکسین کے قطرے ضرور پلائیں اس طرح نہ صرف آپ کے اپنے بچے محفوظ رہیں گے بلکہ دنیا کے دیگر بچوں کو بھی آپ محفوظ رکھ سکیں گے ۔کمشنر کراچی سہیل راجپوت اور ڈاکٹر سلیم پریانی نے میڈیا کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا جو لوگوں میں شعور بیدار کر رہے ہیں اور لوگوں کو آگاہی دے رہے ہیں اور حکومتی اداروں کی مدد کر رہے ہیں ۔