کراچی میں واٹرٹینکر مافیا کو کون لگا دے گا ؟

کراچی کو بجلی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کا بھی شدید بحران کا سامنا ہے طوفانی بارشوں سے ہونے والے ان فرسٹ کی تباہی کے بعد شہر میں جگہ جگہ پانی کی فراہمی کی پائپ لائن ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں پانی کی فراہمی کا سلسلہ کئی روز سے مختلف علاقوں میں بند ہے اور لوگ ٹینکر کے ذریعے پانی حاصل کرنے میں مصروف ہیں اور اس سلسلے میں انہیں سخت پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے پانی کی فراہمی آسان نہیں واٹر ٹینکر کے سرکاری نرخ پر حصول میں بھی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مہنگے داموں پانی خریدنا ان کی مجبوری بن چکا ہے شہر میں جگہ جگہ پانی کی فراہمی کی نئی یادوں بارش کے بعد خود بخود ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں یا انہیں جان بوجھ کر توڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں پانی کی فراہمی کا سلسلہ کئی روز سے بند ہے اور شہری واٹر ٹینکر کے ذریعے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں گھریلو استعمال کے لئے پانی کی فراہمی ایک مسئلہ بن چکا ہے جبکہ بڑے بڑے رہائشی منصوبوں ہاؤسنگ پروجیکٹس  اپارٹمنٹس اور کاروباری مراکز اور صنعتوں میں بھی پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور واٹر ٹینکر کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور وہ لوگ من مانی  کر رہے ہیں شہری حیران ہیں کہ سرکاری نرخوں پر واٹر ٹینکر اگر شہریوں کو فراہم کیا جارہا ہے کیونکہ عام شہریوں کے لیے سرکاری نرخ پر واٹر ٹینکر کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے ۔شہر میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ آخر ان واٹر ہائیڈرنٹس کو کون آپریٹ کر رہا ہے ان کے پیچھے کون سے طاقتور اور بااثر لوگ شامل ہیں جو پورے شہر کے واٹر ٹینکر کو کنٹرول کر رہے ہیں اور ان کے ذریعے وہی پانی شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے جو سرکاری نل کے ذریعے ان کے گھروں تک پہنچنا چاہیے لیکن اب ایسا شاید ممکن نہیں کیونکہ واٹر ٹینکر کے ذریعے مہنگے داموں پانی فروخت کرنے کا کاروبار بہت جمع کر چکا ہے اور اس میں بڑے بڑے طاقتور لوگ شامل ہو چکے ہیں اور روزانہ کروڑوں روپے کا پانی فروخت کیا جا رہا ہے آخر اس سارے کاروبار کو کون روکے گا کون اس کو لگام دے گا ۔واٹر ٹینکر کے ذریعے پانی کراچی کے مختلف علاقوں میں فراہم کرنا ایک مجبوری بھی بتایا جاتا ہے کیونکہ واٹر بورڈ کا پانی ہر جگہ نہیں پہنچ پاتا اس لیے سرکاری طور پر عدالت کی اجازت سے چند واٹر ہائیڈرنٹس قائم کیے گئے تھے انھیں آپریٹ کیا جا رہا ہے لیکن ان کی آڑ میں غیر قانونی طور پر بھی بہت سے واٹر ہائیڈرینٹ قائم کرلئے جاتے ہیں اور ان کے ذریعے واٹرٹینکر دن اور رات پانی بیچتے ہیں اور شہریوں کو وہ پانی نہیں پہنچ پاتا جو ان کا بنیادی حق ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے اور حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات اٹھائے لیکن عمران اور مختلف سیاسی جماعتیں اور سرکاری عہدے دار ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے خود بری الذمہ ہوجاتے ہیں اور شہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔باخبر ذرائع کے مطابق شہر کا ایک بڑا شاپنگ مال سو واٹر ٹینکر خریدنا ہوتا ہے حالانکہ اس کے پاس واٹر بورڈ کی منظور شدہ واٹر لائن موجود ہے لیکن وہاں سے پانی فراہم نہیں ہوتا اور بااثر مافیا واٹر لائن کو اکثر جگہوں پر توڑ دیتا ہے اور پانی کی سپلائی معطل کر دیتا ہے جس کے بعد واٹر ٹینکر کے ذریعے پانی خریدنا مجبوری بن جاتی ہے ۔یہ کراچی کے گھر گھر کی کہانی ہے اور کراچی کے مختلف پروجیکٹس میں پانی کی لائنوں کو توڑ دیا جاتا ہے اور ان کو ٹھیک کرنے اور مرمت کرنے میں وقت لگتا ہے اور اس کے پیسے بھی لوگوں کو اپنی جیب سے ڈرنے پڑتے ہیں اس دوران واٹر ٹینکرز کے ذریعے مہنگے داموں پانی خریدنا پڑتا ہے اور شہریوں کی جیب سے کئی گناہ زیادہ پیسے نکل جاتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔