روٹی ایک کھائیں یا دو | شیخ جی کے قلم سے

اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کا کہنا ہے کہ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے اس لیے عوام دو کے بجائے ایک روٹی کھا کر گزارا کریں۔ پاکستان اس وقت مشکل ترین معاشی حالات سے گزر رہا ہے اور اس کا اعتراف وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر بارہا اپنے بیانات میں بھی کر چکے ہیں۔ خیبر یونین آف جرنلسٹ کے پروگرام میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر کے پی اسمبلی مشتاق غنی کا کہنا تھا کہ ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے اور قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ہے اس لیے عوام دو کے بجائے ایک روٹی کھا کر گزارا کریں، آگے وقت آئے گا جب عوام کو ڈھائی روٹی کھانے کو ملے گی۔سابق وزیر تعلیم اور خیبر پختون خواہ کے اسپیکر مشتاق غنی کا حالیہ بیان آجکل ہر طبقہ ہائے فکر میں زیر بحث ہے کہ مہنگائی میں روٹی ایک کھائی جائے یا دو. اس قسم کے احمقانہ بیانات موجودہ حکومت کا خاصہ رہے ہیں اور اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ پی ٹی آئی کا کوئی بھی عہدے دار بشمول وزیر اعظم عالم معرفت میں کچھ بھی فرما دیں بے شک اس سے عوام کے زخموں پر نمک پاشی ہو. کیا وزیراعظم اور وزیر خزانہ ہی کافی نہیں عوام کو محظوظ کرنے کیلئے کہ مرے پہ سودرے کے مصداق مشتاق غنی نے مہنگائی سے پستے عوام کو ایک اور غم دے دیا بقول شاعر اور بھی غم ہیں زمانے میں روٹی کے سوا. آپ کو یاد ہو گا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار افروز ہوتے ہی ملک میں انسدادِ تجاوزات مہم شروع کی. بنی گالہ کے سوا تمام ناجائز تجاوزات ختم کی گئیں اور بشمول کراچی لاکھوں لوگ اپنے گھروں اور کاروبار سے محروم ہوئے تو وزیراعظم نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ انڈے مرغی کا کاروبار کریں اور اگر ممکن ہو تو کٹے پالیں.مہینوں اس بیان پر سوشل میڈیا اور عوام اپنا پیٹ پکڑے رہے اور وزیراعظم کی حس مزاح کو عالمگیر سطح پر سراہا گیا. پھر مہنگائی اور ڈالر کی بلند پرواز کے خالق وزیر خزانہ کے غیر سنجیدہ بیانات نے کہیں عوام کی دلشکنی کی تو کہیں عوام ان کے بیانات پر قہقہے لگاتے ہوئے نظر آئے انکا اپنے اقدامات اور بیانات کی توجیہہ کا ایک بالکل مختلف انداز تھا. سب سے پہلے تو انہوں نے عوام کو حیران کر دیا جب انہوں نے اپنے الیکشن سے پہلے کے بیانیہ سے یوٹرن لیا اور دوسو ارب ڈالر کی ریکووری کے اپنے ہی بیان کو خالصتا سیاسی شعبدہ بازی قرار دے دیا. اب وزیر خزانہ بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانے کی بات کر رہے ہیں اور اپوزیشن پریشان ہے کہ کہیں ہمارے وزیراعظم خود کشی کر کے نئی تاریخ نہ رقم کردیں. حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ “اقتدار، دولت اور منصب ملنے پر لوگ بدلتے نہیں بلکہ بے نقاب ہو جاتے ہیں”. وزیراعظم ایک ایسی شخصیت کی وجہ سے مقبولیت میں تنزلی کے مراحل تیزی سے طے کر رہے ہیں کہ انکے افلاطون کی تاریخی ناکامیاں سامنے آرہی ہیں کہ اس نکمے اور نااہل وزیر نے خود کو معیشت کا بزدار ثابت کیا ہے. ہلاکو خان نے سروں کے مینار تعمیر کرنے کے سوال پر اسے ظلم قرار نہیں دیا بلکہ کہا کہ ایسے شخص کو ایسے عہدے پر فائز کرنا جس کا وہ اہل نہ ہو اس سے بڑا ظلم ہے. ملک ایک عجیب سی کیفیت کا شکار ہے کیا ہی تماشہ ہے کہ پہلے وزیراعظم کو غریبوں کی وجہ سے نیند نہیں آتی تھی اب غریبوں کو وزیراعظم کی وجہ سے نیند نہیں آرہی پیڑول سنچری کر چکا، ڈالر 150، گیس 170،سونا 73 ہزار اور بجلی کی پرواز تو بلند ترین سطح پر، ادویات کی قیمتوں میں 39 فیصد تک اضافہ، سرکاری اسپتالوں میں مفت ٹیسٹ کی سہولت ختم، حج میں ڈیڑھ لاکھ کا اضافہ. غریب کے پاس سوائے آہ و بکا کے کچھ نہیں مگر بزور شمشیر اسے بھی دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسے بس ایک روٹی پہ گزارے کا مشورہ دیا جا رہا ہے. کبھی عوام کو ڈیم فنڈ، چندہ، پروٹوکول، جمعہ کی چھٹی، مرغی انڈہ اور کٹا، ماموں کے بیٹے کامران اور ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا لولی پاپ دیا گیا تو آجکل سمندری تیل، بکریاں اور ٹھیلے کا منجن بیچا جا رہا ہے. اس منجن پر معروف اینکر افتخار کاظمی نے کیا خوب تبصرہ کیا ہے کہ “آجکل مارکیٹ میں مائیکروسافٹ کی بکریاں، انٹیل کے بھینسے، ایپل کی چھابڑیاں اور سیم سنگ کے کٹے بھی دستیاب ہیں”. محترم جناب مشتاق غنی کی ایک یا دو روٹی کی گردان کو چھوڑیں ہم کو ان کے نئے انکشاف نے عوام ششدر کر دیا کہ ہمارے سادے سے وزیراعظم کو دہی اور کھیر کا فرق نہیں معلوم وہ چاول اور سالن پر کھیر ڈال کر کھاتے ہیں. اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا. کیا ایسے وزیراعظم کو خلق خدا پر حکومت کرنے کا اختیار ہے؟ عوام کی پریشانی اپنی جگہ اب وہ ان تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں وہ موجودہ ہوشربا مہنگائی سے چھٹکارا چاہتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں چاہئے بس ہمیں وزیراعظم کی بہن کی وہ سلائی مشین دے دی جائے باقی وہ اپنا معیار زندگی خود بلند کر لیں گے اور انہیں دو سے ایک روٹی پر نہیں آنا پڑے گا. ختم شد.

اپنا تبصرہ بھیجیں