ریپ کی سزا تو سر عام ہونی چاہیئے۔

ریپ کی سزا تو سر عام ہونی چاہیئے۔
حکمرانی کی مثال اور قانونی سازی ہونی چاہیئے۔
ذرا غور فرمایئے! آج ہم اخلاقی، سماجی، معاشی اور ایک معاشرتی بحران تک پہنچ گئے ہیں۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ ہم کہیں کہ قوموں کی زندگی میں اس سے بھی برے وقت گزرے ہیں مگر پاکستانی معاشرے کا زوال تو کوئی زوال نہیں، ہمارا بحران تو تاریخ کے بحرانوں میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا اوردوسرا پہلو تو یہ ہے کہ ہم سوچیں کہ حالات بہتر نہیں ہیں اور قوم قدم بہ قدم پیچھے کھسک رہی ہے۔
برادرم جاوید چودھری نے کہا ہے کہ سر عام پھانسی دینے سے معاشرے میں منفی رجحانات پیدا ہونگے، یہ درست ہے کہ اپنی بات کہنے کا ان کا اچھوتا انداز ہے۔ ان کی تحریر کا اسلوب اتنا دلکش ہے کہ اس میں تاثیر بھی ہے اور منوانے کی قوت بھی۔ برادرم سینیٹر رضا ربانی کے کیا کہنے، اپنی اجلی شخصیت کی طرح پوری سچائی اور حرارت سے ہر بات جسے وہ صحیح سمجھتے ہیں کہہ دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ سر عام پھانسی کی سزا میں معاشرہ مزید کچھاؤ، تناؤ اور پولر ائزیشن کا شکا ر ہوگا۔ سیدنا فاروق اعظم ؓ نے کہا تھا کسی ریاست میں معاشرہ کی تشکیل اور اس کے خدو خال کا تعین براہ راست حکمرانی کے طور طریقوں کا عکاس ہوتا ہے اور اسی موقع پر انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر فرات کے کنارے بھی کوئی کتا بھوک سے مر گیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے عمرؓ اس کا جوابدہ ہو گا۔
اب میں آپکو ماضی کی کھڑکی کھول کر چند حقائق سناتا ہوں۔ فیصلہ آپ کیجئے ہم یہاں تک کیسے پہنچے اور ہمیں کیا کرنا چاہیئے۔سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ آج دنیا کی سب سے ترقی یافتہ امریکی قوم حکمرانی کے حوالے سے کیا تصور رکھتی ہے۔ وہ امریکہ جس میں 99%لڑکیاں بلوغت سے قبل جنسی عمل سے گزر جاتی ہیں، جہاں صرف معذور عورتیں ہی پورا لباس پہنتی ہیں۔ جہاں 83فیصد جوڑے ناجائز تعلقات کو شادی پر فوقیت دیتے ہیں۔ جہاں صرف 6%نوجوان اپنے والدین سے پوچھ کر شادی کرتے ہیں اور جہاں سگی بیٹیوں پر مجرمانہ حملوں کے سینکڑوں کیس درج ہوتے ہیں۔ وہ امریکہ جو اپنے صدر کی ایک جنسی بھول معاف کرنے کو تیار نہیں، اس لئے امریکہ میں کسی بد دیانت، بد اخلاق اور جنسی گراوٹ کے شکار سیاستدان کی گنجائش نہیں۔
پھر میں سوچتا ہوں کہ ہمارے ہاں کی تاریخ کتنی مختلف ہے حکمرانی کرنے والوں کی ایسی کہانیاں بکھری پڑی ہیں کہ بیان کرنا دشوار ہے۔ اس میں ایک حکمران ایسا بھی تھا جو پورے کروفر سے حکومت کرتا رہا اور جس کی منظور نظر کو لوگوں نے خود جنرل کا رینک لگا دی تھا۔ جس کے حرم میں محبت کے ترانے دستک دیتے تھے یا نور کی بارش ہوتی تو فوراً تخلیہ دیا جاتا تھا۔ اہم احکامات کے لئے نکلتے تو دائیں بائیں جوان اٹھائے رکھتے تھے،جو اٹیک کا نعرہ لگا کر پیچھے گر گئے تھے، جو پشاور میں ننگ دھرنگ باہر آ گئے تھے۔ جنہوں نے درجنوں سر براہان مملکت کی موجودگی میں مانٹی کار لو کی شہزادی کے بازو پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا تھا اور جنہوں نے ہزاروں لوگوں کے سامنے گملے کو بیت الخلاء کا درجہ دے دیا تھا۔
پھر اس ملک میں ایسا سربراہ بھی گزرا جن کے چہرے کا رنگ ایک وزیر اعلیٰ کا نام سن کرسرخ ہو جاتا تھا اور غصے اور نفرت کے جذبات کو وہ دبا نہیں پاتے تھے۔ ایک دن ہمت کرکے جنرل رفاقت نے پوچھ ہی لیا۔ سر آخر ایسی کیا بات ہے کہ اس شخص کا نام سن کر آ پ کے چہرے کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے۔ اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک جنرل ضیاء الحق نے کہا۔ رفاقت تم نہیں جانتے اس نے ایک بچی کے ساتھ کیا کیا جو میڈیکل کالج میں داخلے کی خواہشمند تھی جو دو نمبروں سے میرٹ لسٹ میں رہ گئی تھی اور وہ اسی جستجو میں بلو چستان ہاؤس پہنچ گئی کہ وزیر اعلیٰ اپنے کوٹے کی نشستوں میں سے اس کے داخلے کے احکامات دیدینگے لیکن تم نہیں جانتے اس بچی کی کہانی کتنی ہولناک ہے۔پھر جنرل ضیاء نے اس بچی کی ان تک رسائی اور تمام واقعات کی کہانی سناتے ہوئے کہا۔ رفاقت اگر تم میری جگہ ہوتے اور تم نے خود اپنے ہاتھوں سے اس مظلوم بچی کے زخم دھوئے ہوتے۔ اس بچی کو پہننے کے لئے اپنی بیٹی کے کپڑے دیئے ہوتے اور اگر میری طرح تم نے بھی اس بچی کے آنسو پونچھ کر کہا ہوتا کہ بیٹااپنے پھٹے ہوئے کپڑے یہیں چھوڑ کر جانا۔ جب بھی وہ ظالم شخص تمہارے اس بوڑھے باپ کے سامنے آئے تو غصہ سے اس کی آنکھیں سرخ نہ ہو تو پھر اور کیا ہو۔رفاقت اگر تم اس تجربے سے گزرے ہوتے تو اس شخص کو دیکھ کر تمہارا دل اورخون بھی خول اٹھتا، تمہارے تیور بھی بدل جاتے، تمہارا دل بھی چاہتا کہ اس کا گلہ دبا دوں۔
ماضی میں جھانکیں تو کوئی اس طارق چودھری سے پوچھتا،جس نے ہوسٹل سے روتے ہوئے لڑکیاں رہا کرائی تھیں۔ کوئی اقبال خاکوانی سے پوچھتا، جو طوائفوں کا راستہ روکنے کے لئے ایم پی اے ہاسٹل کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔ کوئی ان سوئپروں اور بیروں سے پوچھے تو سہی جو سرکاری ہوسٹلز کے کمروں سے چوڑیوں کے خون آلود ٹکڑے جمع کرتے تھے۔ ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں،یہاں کسی کے کردار پر انگلی اٹھانا مقصد نہیں۔ صرف یہ بتانا ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ اپنے گریبانوں میں جھانک کر ضرور دیکھے کیا وہ اس طرح اپنے عوام کے لئے کوئی مثال قائم کر سکتی ہے۔ میری تو بس اتنی گزارش ہے کہ اس ملک میں کوئی ایسی عدالت تو ہو جو کسی ایک اصلی ظالم کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دے۔ اس کلاس کے چند ایک لوگوں کا حساب بے باق کر دے جو پچھلے70سال سے ہاتھوں میں دستانے چڑھائے پھر رہے ہیں۔
اب ہم سر عام پھانسی کی سزا کی طرف آتے ہیں، ایسی سزائیں جو جرم سے پہلے مجرم کے رونگٹے کھڑے کر دے۔ تاریخ کے صفحات ایسے معاشروں، ان میں ہونے والے سنگین جرائم اور سزاؤں پر عمل درآمد اور قانون کی حکمرانی کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ صدر سوہاتو کے دور میں جنسی جرائم، قتل اور تشدد کے واقعات کی ایک ایسی لہر آئی۔ جس نے پورے انڈونیشیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ سوہارتو نے اعلان کیا کہ وہ جرائم پیشہ افراد کی فہرست تیار کررہے ہیں۔ پھر ایک دن میں چھ سو افراد کو اسٹریٹ شوٹرز کے ذریعے سر عام گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا، جرائم کی لہر اب خوف میں تبدیل ہو چکی تھی۔ صدر سوہارتو نے دوبارہ اعلان کیا کہ وہ دوسری فہرست تیار کر رہے ہیں، اس طرح انڈونیشیا میں کرائم ریٹ صفر پر آ گیا۔ لاہور کا مشاہدہ میرے سامنے ہے کہ جب شہباز شریف نے پہلی بار پنجاب کی حکومت سنبھالی تو اسٹیٹ پاور کا آہنی ہاتھ آزمایا تو بڑے بڑے سورما لاہور سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے، اس کی گواہی لاہور کا ہر شہری دے گا۔ رضا ربانی صاحب کوئی پولر ائزیشن نہیں ہو گی اور نہ ہی کوئی نفسیاتی پیچیدگی ہو گی۔ بے نظیر بھٹو نے کراچی میں بد امنی روکنے کے لئے نصیر اللہ بابر سے کونسا آپریشن کرایا تھا۔کوئی بھی،کبھی بھی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کے حق میں نہیں ہو گا اور نہ ایسا ہونا چاہیئے لیکن عام لوگ فوری انصاف چاہتے ہیں۔
سعودی عرب میں کونسی ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ ہو رہی ہے، ان کا نظام بہت آسان، بر وقت اور اسپیڈی ہے۔ وہ شخص کیسے رحم کا مستحق ہو سکتا ہے جو بس اسٹینڈ پر کھڑی ایک طالبہ بنگش اقبال کی پر ہجوم سڑک پر پرس چھیننے پر مزاحمت میں گولی مار دے اور آپکی پولیس آج تک اسے پکڑ بھی نہ سکی۔ ہزاروں مثالیں ہیں، ڈکیتی پر مزاحمت کرنے والے بے گناہوں کو ان بدمعاشوں اور رہزنوں نے کس طرح جان سے مار دیا۔ نواز شریف کو صورت حال سے نمٹنے کے لئے ملٹری کورٹس بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔ 90کی دہائی میں کراچی بد امنی اپنے عروج پر تھی، اس وقت میں نے ایک تقریب میں دبئی پولیس کے چیف کرنل حارب سے دریافت کیا کہ کراچی میں امن قائم کرنے کے لئے کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نئے کریمنل کو چھوڑ کر جن لوگوں کوسنگین جرائم میں سزائے موت ہو چکی ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہوں، انہیں اگر چوراہوں پر نہیں لٹکا سکتے تو جیلوں میں پھانسی دینے کے عمل کو ٹیلی ویژن پر دکھا دیں، آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اس کا عملی مظاہرہ ہم جنرل ضیاء کے دور میں دیکھ چکے تھے۔ میں آپ کو چند سال پہلے کی ایک مثال دیتا ہوں کہ حید ر آباد میں ایک ایسا ایس پی تعینات ہوا۔ جس نے 40لاکھ آبادی کے اس شہر میں امن قائم کرنے کی ٹھان لی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہاف فرائی اور فل فرائی کس سزا کا نام ہے یا اصطلاحاً استعمال ہو ئی لیکن پھر حید رآباد میں ہر شخص سے سنا کہ بلوچ صاحب کے دور میں اس شہر میں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر تھے۔ وہ پہلا پولیس آفیسر تھا جسے حید آباد کے لوگ آج بھی ہیرو کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ جی ہاں سزا سے ذیادہ سزا کا تصور اور خوف جرائم کو روکتا ہے۔ جب ایک ضلعی آفیسر یہ کر سکتا ہے تو پھر حکومت کیا کچھ نہیں کر سکتی۔
مجھے1972کا وہ واقعہ یاد ہے جب سمندری تفریح گاہ ہاکس بے پر چند منچلے نوجوانوں نے پکنک پر آئی ہوئی گرلز کالج کی طالبات کے ساتھ نازیبا حرکات کیں اور چند کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد ایوان صدر سے ذوالفقار علی بھٹو کا ایک بیان جاری ہوا، جس میں کہاگیا کہ اس واقعہ پر پوری قوم کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ بھٹو دوسرے روز ہنگامی طور پر کراچی پہنچے، انہوں نے گورنر ہاؤس کراچی میں آئی جی پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ آفیسر! ان نوجوانوں کو ایسی سزا ضرور ملنی چاہیئے کہ وہ عمر بھر یاد رکھیں اور پھر انکے خلاف ایکشن ہوا۔
ذرا غور کیجئے کہ ایسے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں جس کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملک بچوں اور خواتین کے لئے انتہائی غیر محفوظ ہو گیا ہے۔ ٹی وی چینلز پر جنسی ہراسانی، ذیادتی اور ریپ کی خبریں نشر ہوتی رہی ہیں اور پولیس آفیسر یہ کہہ رہے ہیں کہ رات کو وہ خاتون اکیلی کیوں نکلی۔ خدا نہ کرے کہ وہ دن آئے جب عدالتیں بھی کہہ دیں مدعی کو قیمتی سامان گھر میں نہیں رکھنا چاہیئے تھا۔ سب ہکا بکا دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔
آپ جرائم کے محرکات کا ضرور کھوج لگائیں ان کمزوریوں،خامیوں اور محرومیوں کو دور کرنے کی بھی کوشش ہونی چاہیئے جس نے معاشرے میں غربت اور مجبوریوں کی فصل اگا دی ہے لیکن کم از کم اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لئے پولیس اصلاحات کے ساتھ سخت اور فوری قانون سازی ہونی چاہیئے۔ ہم سزاؤں کے اعتبار سے کم سے کم شاہ فیصل کے ملک کا نظام اور حکمرانی میں اخلاقیات اورکردار کا کوئی پیمانہ تو طے کر سکتے ہیں۔ اگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم سب مل کر کوئی ایسی گھاٹی، کوئی ایسی غار، کوئی ایسا گڑھا،کوئی ایسی ندی اور کوئی ایسی قبر تیار کر لیں، جہاں ہم اپنا احساس، اپنی شرم اور اپنے سوال اور جواب دفن کر دیں۔