کرونا ایس او پی پر عمل نہ کرنا پریشانی کا سامنا ہے

کراچی (24 ستمبر 2020) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے  وزیر اعلیٰ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب  کرتے ہوئے  کہا کہ کورونا کے متعلق ایس اوپیز پر عمل  نہ کرنے سے پریشانی کا سامنا ہے۔ اسکول کھلنے جارہے ہیں  اور والدین کے اوپر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔اسکولز کھلنے سے اگروبابڑھ جاتی  ہے تویہ ہمارانقصان ہے۔28 تاریخ سے اسکولزکھلنے پر اب بھی تحفظات ہیں اور اس حوالے سے وفاق سے بھی بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ  کورونا کے کیسز کم ہوئے ہیں لیکن کورونا ابھی ختم نہیں ہوا۔کورونا کی وبا  اب بھی ہے اور کیسز آرہے ہیں ۔سندھ پہلا صوبہ تھا جس نے ٹاسک فورس بنائی۔ڈیڑھ ماہ تک  روزانہ اجلاس منعقد کیے ۔ہم نے اپنی ٹیسٹنگ کی گنجائش پہلے سے بھی بڑھا دی ہے۔گزشتہ روز ہم نے 18 ہزار تک ٹیسٹ کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا ہے،اس لیے ایک ہفتہ ہم نے اسکول کھولنے میں تاخیر کی۔والدین کے لیے پیغام ہے کہ ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں۔اللہ پاک اس وباء کو ہمارے اسکول میں پھیلنے سے روکے۔انہوں نے کہا کہ جب بچے اسکول آئیں تو ماسک پہنیں ہوئے  ہوں۔ساڑھے تین لاکھ ماسک اسکولوں کو دئیے گئے ہیں اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ ماسک تقسیم کریں۔28 تاریخ کو ایک بار پھر صورتحال کا جائزہ لیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ  نے کہا کہ  کراچی شہر 95فیصد صاف کردیا گیا ہے۔کراچی کے ساتھ کیا ہورہا ہے کسی اور وقت بتائوں گا لوگ ناراض ہوجائیں گے۔کراچی کا سیوریج سسٹم پرانا ہے۔بارشوں کے بعد سیوریج پانی کی موجودگی کو میڈیا رپورٹ کرتا ہے۔72انچ کی لائیں  ڈیمیج ہوئی ہیں۔تباہ حال عمارتوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔کچھ سڑکوں کی مرمت  کی ہے باقی بھی کریں گے۔میڈیا نے درست عکاسی کی ہمیں بتایا کہ کہاں کہاں مسائل ہیں مگر مجھے میڈیا سے ایک شکایت بھی ہے کیوں کہ  برساتیں دیہاتی علاقوں میں بھی ہوئی ہیں مگر اُن کو  درست طریقے سے میڈیا پر پیش نہیں کیاگیااور دیگرعلاقوں کو نہیں دکھایا گیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیراعظم جب آئے تھے توانہیں پوری تفصیلات دی گئی تھیں۔اسکولوں کے حوالے سے ہم نے 40 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے ہیں۔ان میں سے185 مثبت آئے  ہیں۔24 ہزار ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔اس وباء کی ابھی تک ویکسین نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں غیر معمولی بارشیں ہوئی ہیں۔ 27 اگست کی بارش نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔95 فیصد شہر چند گھنٹوں میں  صاف ہوگیا تھا ۔کچھ علاقوں میں پانی موجود رہا۔اس وقت میں کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتابعد میں بتاؤں گا کہ کراچی میں یہ سب کیوں ہوا۔سب کو معلوم ہے کراچی کے نالوں پر کس نے قبضے کیے ۔وزیر اعظم جب کراچی آئے تھے تو میں نے انہیں پوری تفصیل سے سندھ کے اضلاع کا بتایا تھا۔میں نے خط کے ذریعے بھی پوری تفصیل بتائی تھی۔کسی کو احساس  ہی نہیں کہ کچھ ہوا بھی ہے۔میں وفاق سے سخت احتجاج کرتا ہوں کہ انہوں نے جو بے حسی دکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ  جیسے 2010 میں یوسف رضاگیلانی کھڑے ہوئے تھے اورہمارے پاس جو وسائل موجود تھے ہم ان کو بروئے کار لائے ۔ہم نے اجلاس منعقد کیے ۔میر پور خاص، سانگھڑ ، بدین، شہید بے نظیر آباد ، ٹھٹھہ متاثر ہوئے تھے۔میر پور خاص ضلع میں 6لاکھ 14 ہزار متاثر ہوئے۔30 ہزار 633خاندان کو رجسٹرڈ کیا ہے۔29ہزار 800 کچے اور پکے گھر متاثر ہوئے ہیں۔کاٹن کی فصل سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔نقصان کا وفاق کوکوئی احساس نہیں ہے۔وفاقی حکومت کو  کپاس کی فصل کی اہمیت کی سمجھ نہیں۔اسی کاٹن سے ٹیکسٹائل کی صنعت چلتی ہے۔میرپورخاص سمیت دیگر علاقوں میں  چار ہزار جانور متاثر ہوئے ہیں۔کئی غیرسرکاری تنظیموں نے سندھ میں بارشوں سے متاثر افراد کی مدد کی۔این ڈی ایم اے کے شکرگزار ہیں۔مدد کرنے والے ادارے اپنا ڈیٹا شیئرکریں۔70فیصد علاقوں سے پانی کی نکاسی کرچکے ہیں۔محکمہ بلدیات کے ساتھ ملکرپانی کی نکاسی کی جارہی ہے۔وفاق نے حصے سے ساٹھ سترفیصد پیسے دیئے ہیں۔بدترمالی حالات کے باوجود بہت کچھ کیا۔میں معذرت خواہ ہوں ہم وہ نہیں کرسکے جو2010 میں کیا تھا۔کسی ایک وفاقی وزیرنے مجھ سے رابطہ نہیں کیا ۔وزیراعظم نے ستائیس تاریخ کوفون کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وفاق اپنے کام پورے کرے ہم اپنا کام کررہے ہیں۔راشن خود تقسیم کریں ۔ایک وزیرنے کہا کہ سندھ کے لوگوں کوایک روپیہ نہیں دیں گے۔جس سے دشمنی اب واضح ہوگئی ہے۔مقامی انتظامیہ سے ملکرکام کیا جائے تاکہ ڈپلیکیشن نہ ہو۔ساڑھے  سات سوراشن بیگ تقسیم کئے ہیں۔  وفاق نے کہا متاثرین صرف اس کے مستحق تھے۔لوگ اب بھی تکلیف میں ہیں۔میڈیا جاکرحالات دکھائے۔میڈیا کوکیامسئلہ ہوگیا ہے کوئی حقائق دکھانے کوتیارنہیں۔ہمیں برابھلا کہیں ہم امداد نہیں دے رہے۔شاید دیکھنے کے بعد سندھ کے لوگوں پر وفاق کو کوئی رحم آئے۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے 73 ہزار ایک سو تیئیس ٹینٹ دئیے گئے ہیں۔19 ہزار 770 این ڈی ایم اے نے دئیے ہیں۔ہمارا 42 ہزار کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے۔میر پور خاص میں 13 ہزار پی ڈی ایم اے نے دئیے ہیں۔این ڈی ایم اے کی جانب سے ساڑھے سات ہزار راشن بیگ دئیے گئے ہیں۔سانگھڑ ضلع میں 17 ہزار سے زائد ٹینٹ دئیے گئے ہیں۔این ڈی ایم اے نے سانگھڑ میں کوئی ٹینٹس نہیں دئیے۔34 ہزار 800 پی ڈی ایم اے نے راشن بیگز دئیے ہیں۔2500 راشن بیگ پیپلز پارٹی نے دئیے ہیں۔اگر کوئی چاہتا ہے کہ نام نہ بتایا جائے تو ہمیں ڈیٹا دے دیں۔24 ہزار سات سو راشن بیگ عمرکوٹ میں دئیے گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے 3 ہزار راشن بیگ دئیے ہیں۔یہ سب ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے تقسیم  ہو رہے ہیں ۔ان کا ریکارڈ موجود ہے۔وفاق کی جانب سے کچھ نہیں دیا گیا ہے۔ہم ستر فیصد تک  پانی نکال چکے ہیں۔ہمیں تین ماہ گزر چکے ہیں۔وفاقی حکومت پیسوں کے معاملے میں جو وعدہ کرتی ہے اس کا صرف 60 سے 70 فیصد ہی ملتا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے ایسی بے حس حکومت میں نے نہیں دیکھی۔نہ بجلی ہے نہ گیس ہے۔گرمی میں بچوں کو بیٹھنا پڑ رہا ہے۔وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ان کے لوگ کہتے ہیں سندھ کے لوگوں کو ایک روپیہ نہیں دیں گے۔بھائی آپ خود آکر تقسیم کر دیں۔اگر آپ کو ہماری مدد کے ضرورت ہے تو بتائیں۔لوکل انتظامیہ کے ساتھ ملکر تقیسم کریں۔جب سب خود کریں گے تو پھر ہم سے کس چیز کا حساب لیں گے ۔سندھ کے لوگوں سے پتا نہیں کیا دشمنی ہے۔ساڑھے سات سو صرف راشن بیگ دئیے ہیں۔کیا منہ دکھاؤں گے سندھ کے لوگوں کو اور یہ ہم سے حساب مانگ رہے ہیں۔ہمیں ضرورت ہے سندھ کے لوگوں کو ضرورت ہے۔وفاق کو بتانا چاہتا ہوں ابھی بھی لوگ تکلیف میں  ہیں۔ہمیں ابھی چادروں کی اشد ضرورت ہے۔مچھروں سے بچائو کے لیے موسپل کی ضرورت ہے کیونکہ مچھر بہت ہیں۔آپ خود جاکر مدد کریں کچھ نظر تو آئیں۔ہم تمام سہولیات دینے کےلیے تیار ہیں میڈیا چکر تو لگائیں۔آج کل صرف اشتہار سندھ حکومت کا چل رہا ہے۔وفاقی حکومت نے جو منتقلیاں کیں ان میں سو میں سے پچپن فیصد رقم ملی ہے۔سندھی میڈیا  نے  کچھ اور اردو میڈیا نے کچھ دکھایا ہے، میں  ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ایل بی او ڈی کو ایریگیشن کی زمین کا گندہ پانی نکالنے کے لیے ڈزیزائن کیا گیا تھا۔یہ نالہ کبھی بھی بارش کا پانی نکالنے کی قوت نہیں رکھتا۔یہ بڑا منصوبہ تھا جو صوبہ نہیں کرسکتا تھا اسے وفاق نے بنایا تھا۔ہم نے سپریم کورٹ کو بتایا  کہ 2011 میں اس نالے پر 19 شگاف پڑے تھے جن کو سندھ حکومت نے پُر کیا۔ہم وفاقی حکومت کے وزراء کو جگانا چاہتے ہیں کہ سندھ کے لوگوں کی مدد کریں سیاست چلتی رہے گی۔ایل بی او ڈی بھی وفاق نے بنایا تھا۔ہم سپریم کورٹ سے بھی درخواست کریں گے کہ ہم پروجیکٹس بتائیں گے اگر وہ درست سمجھتے ہیں تو ٹھیک ہے۔وفاقی حکومت دشمن نہیں ہے کہ اے پی سی کے بعد سندھ حکومت گرائیں گے مگر کوشش پہلے دن سے کر رہے ہیں۔اگر کسی نے بھی لوگوں کی امانت میں خیانت کی تو اس کو نہیں چھوڑیں گے۔بدین میں تین لاکھ لوگ متاثرہیں ۔34 ہزار میں سے صرف 13 ہزار کو ٹینٹس ملے ہیں۔ہمارے ملک اور صوبے میں غربت بہت زیادہ ہے۔ہم نے وفاق کو بتایا تھا کہ ہم معاشی پیکج نہیں دے سکیں گے۔اس کےلیے وفاق کی ضرورت ہوگی۔میڈیا نے کچھ دکھایا ہی نہیں، اس لیے بین الاقوامی کمیونٹی میں کچھ ہوا ہی نہیں۔راشد منہاس روڈ سے آپ چلے جائیں۔میرا کافی عرصے بعد وہاں سے  گزر ہوا ہے ،میں تو پریشان ہوگیا۔دونوں روڈ پر دکانیں بنی ہوئی ہیں۔نالہ پر دکانیں بنی ہوئی ہیں۔نارتھ ناظم آباد حیدری میں دو دو ہزار گز کے بنگلے تھے۔اب وہاں پر عمارتیں بنی ہوئی ہیں۔