بچوں کی نفسیات۔

ملک نذر حسین عاصم

===============
اکثر والدین بچوں کے غیر سماجی رویئے کا الزام ماحول اور سکولوں کی تربیت پر عائد کرتے ہیں لیکن یی بھول جاتے ہیں کہ بچوں کیلئے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ والدین کی دیکھ بھال، بھرپور پیار اور توجہ بھی ضروری ہے اگر اسے پیار اور توجہ نہ ملے تو وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتا ہے بعض اوقات والدین خود بھی بچوں کی نفسیات کو سمجھنے کے بجائے اس کو خراب کرنے کا موجب بنتے ہیں جس کا انہیں بالکل ہی اندازہ نہیں ہو پاتا۔
ہم اپنے گھریلو اور معاشی مسائل بچوں کے سامنے زیر بحث لاتے ہیں اور بات بڑھ جاتی ہے جس سے بچے کی شخصیت مسخ ہوجاتی ہے ۔
اگر بچوں کےسامنے کوئ غلطی سرزد ہو جائے تو مان لینا چاہیئے کہ مجھ سے خطا ہوگئ ہے اس سے بچوں میں اپنی غلطی درست کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
بزرگ افراد کے پاس بیٹھنا اور ان سے بات چیت سے بھی بچوں کو ایک سبق ملتا ہے تجربات اور مشاہدات سننے کو ملتے ہیں جو عام زندگی میں سودمند ثابت ہوتے ہیں اور بڑوں کا احترام کرنے کی عادت بھی پختہ ہوجاتی ہے۔
بچوں سےیہ کبھی نہ کہیں کہ بیٹا میرا کوئ پوچھے تو بتانا کہ ابو گھر نہیں ہیں اسطرح ہم گویا بچوں کو جھوٹ بولنے کی تربیت دے رہے ہوتے ہیں اور جب انہیں جھوٹ بولنے سے روکا جائے تو وہ سوچتے ضرور ہیں کہ خود تو۔۔۔۔۔اور ہمیں۔۔۔۔۔۔
صرف ماں باپ بن کر بچوں پر رعب ہی نہ جھاڑیئے بلکہ گھر میں ایک دوستانہ ماحول پیدا کریں بچوں کو اہمیت دیں انہیں وقت دیں انکے پوچھے ہوئے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیں عام لوگوں میں انکی توہین نہ کریں انکی ضروریات اور خواہشات کا خیال رکھیں دوسرا بچوں میں کبھی تفریق نہ کریں کہ مجھے یہ بیٹی یا بیٹا تو سب میں پیارا ہے اسطرح دوسرے بچے خود کو کم پانی میں سمجھتے ہیں۔ ماں ایک اچھی جج ہوتی ہے جو کسی بھی غلطی پر انصاف سے فیصلہ کرتی ہے کیونکہ اسکی نظر میں سب بچے برابر ہوتے ہیں بچوں کو والدین پر سب سے زیادہ اعتماد ہوتا ہے ہرحال میں انکی بپتا سنئیے اور مداوا کیجئے پیار سے رہیئے ڈانٹ ڈپٹ والا ماحول ہرگز پیدا نہ کریں مسکراہٹ کے ساتھ بچوں کو مخاطب کریں اور گلے لگا کر ان سے اپنائیت کا اظہار کریں آپکا گھر جنت نظیر بن جائے گا۔