میٹرک کے امتحان میں اپنے ماں باپ سے زیادہ نمبر لینے والے بچوں کے نام

قرت العین حیدر، لاہور

میٹرک میں گیارہ سو میں سے بارہ سو نہیں آسکتے ورنہ ہمارے ہونہار بچے اتنے نمبر بھی لے گزرتے۔ ہم تو ازل سے ہی نالائق ہیں اور رزلٹ سے کچھ دن پہلے مزید نالائق دوستوں سے رابطے تیز تر کر دیا کرتے تھے تاکہ ان کو دیکھ کر ہمارے ماں باپ عبرت و شکر دونوں کیفیات کا بیک وقت شکار رہیں اور ہم پر زیادہ توجہ دینے سے گریز کریں۔

ہم ماں باپ کو سمجھاتے کہ کیسے کیسے نابغہ روزگار طالب علم اس سال کم نمبر حاصل کر کے مطمئن ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پرچہ کیمیا ہو یا فزکس۔ اساتذہ و ممتحن کے سوالات کا مقصد ہمارا علم جانچنا نہیں بلکہ کم نمبر لگانا ہے۔ ہمیں فیل کر کے اپنی جھوٹی انا کو تسکین پہنچانا ہے۔

جب ماں باپ کسی طرح باتوں کے دام میں نہ آتے تو باقاعدہ ان بچوں کی تصاویر بمع تعلیمی ریکارڈ دکھا کر کہتے
دیکھو انہیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو۔

یہ الگ بات کہ ماں باپ کی ضد تھی کہ ان بچوں سے اگر عبرت ہی پکڑنی ہے تو وہ بھی ہم ہی پکڑیں۔ اس طرح کے اصولی اختلافات کی وجہ سے ہم اور والدین امتحان اور رزلٹ کے حوالے سے کبھی ایک پیج پر نہ رہ سکے۔

ہم اکثر زیادہ ڈانٹ ڈپٹ پر بغاوت کا عندیہ بھی دیتے لیکن آگے سے جو جواب ملتا اسے سن کر کچھ مہینے سکون رہتا۔
”دیکھیں گے کون اس نالائقی کے پہاڑ کو گھر رکھے گا۔ زیادہ بکواس کی تو کسی بد صورت، گنجے، موٹے، بد ہیئت آدمی سے نکاح کردیں گے۔ وہ تم سے سارا دن برتن، کپڑے دھلوائے گا۔ ہم تمہیں گھر نہ گھسنے دیں گے۔ اب بتاؤ پڑھنا ہے یا نہیں؟“
ہم فوراً بغاوت کا آئیڈیا ڈراپ کر دیتے۔

رزلٹ سے پہلے ہی ہر اچھی چیز فرمائش کر کے کھا لیا کرتے۔ بعد میں بھی ملتی تھی لیکن ایک آدھ کڑوے جملے، روایتی طعنے کے ساتھ۔

مثلاً کھا کھا کر دماغ سوج گیا۔
بھینس بن رہی ہے۔
پڑھائی میں دیدہ کہاں بس تھورنے (کھانا ٹھونسنے) میں یا فلمیں دیکھنے میں ہے۔

بستر کے نیچے ناولوں، افسانوں، شاعری اور میگزین کی تہہ کو بروقت پار لگانے کے چکر میں بھی رہتے کہ وقت کا کچھ پتا نہیں۔ مبادا یہ خزانہ ہمارے سامنے نذر آتش ہی نہ کر دیا جائے۔ اکثر یہ ”مال و متاع“ ہم سے بری طرح چھینا بھی گیا اور ہر بار ایسا منظر ہوتا کہ اگر کوئی صاحب دل دیکھتا تو کسی انڈین فلم میں جدائی کے سین سے مطابقت دیکھ کر رو پڑتا۔

جس جس جگہ گھومنا پھرنا ہوتا، گھوم پھر لیتے کہ
چار دن کی زندگی ہے کاٹ دو ہنس بول کر

رزلٹ سے ٹھیک تین دن پہلے ہم نماز شروع کردیتے تاکہ ماں باپ تقوی کے رعب میں آ کر سخت زبان استعمال کرنے سے گریز کریں۔ دنیا کی بے ثباتی کے حق میں اور دنیاوی تعلیم خصوصاً سائنسی تعلیم کے خلاف حدیثیں و اقوال اکٹھے کرنے کے چکر میں صحاح ستہ کھول کر پورا پورا دن اسی مشن پر صرف کرتے تاکہ ماں باپ کو دنیائے فانی اور اس کے علوم کے خلاف دلائل دے کر قائل کرسکیں۔

رزلٹ قریب ہوتا تو بغل میں پیاز بھی دبا لیتے۔ پتا نہیں کس کم بخت کا مشورہ تھا، ہمیں تو کبھی بخار نہیں چڑھا۔ ایک آدھ بار غیر مرئی مخلوق کی دخل اندازی کا ڈرامہ بھی کیا۔ اپنی غیر مستقل مزاجی اور اوور ایکٹنگ کی وجہ سے نہ صرف پکڑے جاتے بلکہ خوار بھی کیے جاتے۔

سزا کے طور پر ہمارے ماموں جان ہمیں ٹی وی والے کمرے سے باہر نکال کے ٹی وی اونچی آواز میں لگا لیتے تو ہم غریب لاؤنج کے دروازے سے کان لگا کر سارا پروگرام غائبانہ ہی سن لیا کرتے لیکن حرف شکایت زباں پر نہ لاتے کہ ماموں پھر امی کو پچھلے امتحان کے نمبر یاد دلا دیں گے اور غیر محسوس طریقے سے سٹیل کا ہینگر سامنے کردیں گے۔

خیر ہم نے تو رو پیٹ کے ایک آدھ ڈگری لے ہی لی لیکن سوچتے ہیں اتنے ڈھیر سے نمبر، ہر اکیڈمی پہ تصویریں فلاں نے ننانوے فیصد نمبر لیے، فلاں نے اٹھانوے فیصد، یہاں ٹاپ کیا، وہاں گولڈ میڈل لیا۔

یہ سب بچے کہاں چلے جاتے ہیں۔ کوئی فلسفہ، اکنامکس میں نیا کام؟ کوئی ٹیکنالوجی میں بڑی ایجاد؟ کوئی نئی دوا؟ میڈیکل سائنس میں کوئی نیا باب؟ کوئی ائر کنڈیشنر، ریفریجریٹر، گاڑی، موبائل جو برآمد کیا جاسکے؟ کوئی ایک ایسی چیز جو اتنے نمبروں کو جسٹیفائی کرے، جو دنیا کے سامنے فخریہ رکھی جا سکے؟
نیشنل کے اچار، روح افزا اور شان مسالے کے علاوہ۔

————-from-humsub-pages