ملک بھر میں یونیورسٹیوں کا ماحول مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور

ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں تدریسی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے ۔طلباء اساتذہ والدین اور تدریسی ماہرین کا کہنا ہے کے اکثر یونیورسٹیوں میں سیکورٹی کے بے تحاشا انتظامات ہونے کی وجہ سے یہ درسگاہ کم اور کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر زیادہ پیش کرتی ہیں یونیورسٹیز اور ہماری درسگاہوں میں سیکورٹی ضرور ہونی چاہیے لیکن اسے ایسے مناسب انداز میں رکھنا چاہیے کہ پڑھنے لکھنے کے لیے آنے والے نوجوانوں کے ذہن پر اس کا کوئی منفی اثر مرتب نہ ہو۔درسگاہوں میں مکمل تدریسی ماحول نظر آنا چاہیے سیکورٹی کلیئرنس کے عمل کو بھی سادہ اور سہل بنانا چاہیے۔ مشکل تکلیف دے اور پیچیدہ عمل کی وجہ سے رد عمل آتا ہے جو منفی جذبات ابھارتا ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بہتر دوستانہ ماحول قائم رہے جامعہ تلاشی کی بجائے اسکینرز یا اسکیننگ گیٹس نصب کر کے طلبہ وہ وہاں سے گزارا جائے۔ بلوچستان یونیورسٹی سمیت ملک کے مختلف یو نیورسٹیز میں سکیورٹی کے انتظامات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بحث چل رہی ہے ۔اس بحث میں جن مسائل پر طلبہ اساتذہ اور والدین توجہ دلارہے ہیں اس پر غور ہونا چاہیے اور اسے مثبت انداز میں لینا چاہیے اس بحث کا مقصد کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں بلکہ درسگاہوں کے ماحول کو مزید بہتر اور تعلیم دوست بنانا ہونا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں