صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ کا فیصلہ تمام ملزمان بری

آج موررخہ 21 ستمبر 2020 کو صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ نے کراچی کے مشہور انٹرمیڈیٹ تعلیمی بورڈ مبینہ کرپشن ,مبینہ غیر قانونی تعیناتیئوں, مبینہ جعلی اسناد کے اجراء, و نمبرز  اور   جعل سازی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا تفصیلات کے مطابق 2017 میں اینٹی کرپشن اسٹیبلیشمنٹ نے اسوقت BIEK انٹر میڈیٹ بورڈ ناظم آباد پر چھاپا مار کر بہت سا ریکارڈ ضبط کرکے ایف آئی نمبر 1/2017زیر دفعہ 409,420,467,468,477,477A,218/ 34 ت پ مع دفعہ 5 (2) ACT ii 1947درج کی جب اسوقت کے کنٹرولر عمران چشتی اور اسوقت کے چیئرمین بورڈ محمد اختر غوری کے شدید اختلافات اور پریس کانفرس سامنے آئی,,,,,,,, اس ایف آئی آر میں بات ان دو بڑوں تک نہ رہی بلکہ سابقہ چیئر مین مرحوم انوار احمد زئی سمیت متعدد آفیسران جن میں اسٹنٹ کنٹرولرز ,ڈپٹی کنٹرولرز سمیت درجنوں بورڈ آفیسرز نامزد ملزمان بنے بعد میں کنٹرولر عمران چشتی سمیت کئی افراد کے.خلاف چالان نہ کیا گیا جبکہ سابقہ مرحوم چیئر مین انوار احمد زئی, چیئرمین اختر غوری سمیت ,ڈپٹی کنٹرولر اطہر سعید ,سپرنٹنڈنٹ محمد اسلم چوہان سمیت,مظفر علی خان بورڈ سیکریٹری قاضی ارشد سمیت دیگر افراد مظفر علی خان اور اسلم چوہان و دیگر ملزمان بنائے گئے,,,,,,  سیئنیر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ زاہد فاروق مزاری صاحب نے کنٹرولر عمران چشتی صاحب کو کالم دو کافائیدہ منظور کروانے کیساتھ ساتھ شروع میں فقطڈپٹی کنٹرولر اطہر سعید, مظفر علی خان اور اسلم چوہان کیلیئے وکالت نامہ جمع کروایا بعد ازاں نہ صرف مرحوم انوار احمدزئی کیلیئے کیس لڑے بلکہ جملہ جرح بر گواہان جملہ ملزمان کیلییئے کی اسی طرح انہوں نے جملہ ملزمان کی بریت کی درخواست زیر دفعہ 265- K لگائی جسکی سماعت کے بعد فیصلہ.محفوظ کر لیا گیا تھا جس پر آج عدالت نے جملہ ملزمان کو دائیرہ سماعت نہ ہونے پر بری کر دیا جبکہ سیئنیر ایڈوکیٹ زاہد فاروق مزاری صاحب کی تفصیلی بریت کی درخواست کے گرائونڈز اور دلائیل یہ تھے کہ نہ تو عدالت کو حق سماعت ہے کیونکہ اعلی ثانوی بورڈ ایک خود مختیار ادارہ ہے اسلیئے جملہ.ملزمان پبلک سرونٹ نہیں ہیں دوسرا میرٹ پہ بھی جملہ ملزمان کیس بریت کا ہے اور کیس کا مزید چلانا انصاف کے قتل کے.مترادف ہوگا جن دلائیل کو عدالت نے مانتے ہوئے تمام ملزمان.بری کر دیئے