کراچی کی تباہی متاثرین کی دہائی

آل کراچی جیولرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ)وزیر اعظم صاحب ۔ کراچی کی تباہی اور متاثرین کی دہائیکراچی (کامرس رپورٹر)  آل کراچی جیولرز ویلفیئر ایسوسی ایشن رجسٹرڈ کے سیکرٹری جنرل معروف کالم نگار سید راشد علی شاہ نے میڈیا کے نمائندوں سے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ، حب اور سب سے زیادہ ٹیکس دہندہ کراچی گروش ایام کے باعث ایک بندگلی میں اپنے ساتھ جاری مسلسل رواں حق تلفی ،نا انصافی ، ستم گری ، بے بسی ، بے رخی کے باعث ، احساس کمتری ، احساس محرومی ، بیگانگی پر زندہ در گورہے۔ طویل کرونا وبال نما ہولناک نقصانات کے بعد حالیہ تباہ کن بارشوں میں تو بچی کچی معیشت بھی ڈوب گئی جس کے عوامل و ذمہ داران اتنی بڑی تباہی کے باوجود گرفت میں آنے سے آ زاد ہیں بارشیں ختم ہونے کے باوجود اہلیان کراچی کی آزمائیشیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں ۔ہمارے قابل فخر آرمی چیف صاحب 2 روزہ کراچی میں بھی امیدوں کے دئیے اور اچھے وقت کی نوید سنا کر چلے گئے اور کل بروز جمعہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان دوراء کراچی پر آرہے ہیں اللہ کرے کے و ہ بھی روایتی دورے کے بجائےپرامید اہلیان کراچی و تاجران کو درپیش سنگین ترین  حالات سے نکلنے میں مدد و رہنمائی کے لئے ٹھو س و عملی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعظم صاحب  آپ نے بھی خدا نخواستہ اہلیان کراچی کو مایوس کیا تو معاشی حب کا اللہ ہی حافظ ہوگا اسلئے کراچی کی تباہی اور متاثرین کی دہائی آپ کی نظر کرم کی متلاشی ہے کمیٹی کمیٹی والا کھیل بند کیا جائے ۔ زمینی حقائق اور شہریوں میں پھیلی مایوسی و نا امیدی پر فوکس کر کے اہلیان کراچی و تاجران کو مناسب ریلیف پیکج کے ثمرات سے انہیں دوبارہ جو ہر قابل بننے کا حق قومی فرض جان کر ادا کیا جائے ۔ 73 سال سے کراچی ٹیکس در ٹیکس دے رہے ہیں اس تباہ حال شہر کی تعمیر نو کو یقینی بنانے کے لئے اس کو ٹیکسوں میں چھوٹ کے ساتھ اس سے ملنے والے ٹیکسوں کو 50 فیصد ٹیکس اس کماؤ پوت شہر پر خرچ کیا جائے ۔ تویہ شہر آفت زدہ سے نکل کر دوبارہ روشنیوں کے شہر کی عملی تصویر بن جائے گا ، اس کی ترقی اور خوشحالی سے ہی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ہے تو پھر اب تما م مصلحتوں ، سیاسی وابستگیوں اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف اور صرف بحالی کراچی مشن کو چیس کیا جائے کراچی دشمن  تمام فیصلوں اور متنازعہ پالیسیوں پر نظر ثانی فرما کر مقامی انتظامیہ و اداروں میں مقامی شہریوں کو شمولیت دی جائے اور مقامی بلدیاتی نمائندوں کو تمام  تر وسائل و اختیارات دیکر ہی کراچی  خوب سے خوب تر بن سکتا ہے کراچی کے حوالے سے فیصلوں میں اہلیان کراچی و تاجران سے مشاورت کی جائے ۔ یہی وقت کی ضرورت اور اہلیان کراچی کا حق ہے ۔ اس کے علاوہ تجاوزات انسداد آپریشن کے متاثرین کو متبادل کی فراہمی یقینی بنایا جائے ۔ غریب پتھارے و ٹھیلے والوں کو روزگار کے مواقع دئے جائیں ، K الیکٹرک کی جاری لوٹ مار  بند کی جائے نیز کراچی چیمبر کے مطالبات بھی پورے کئے جائیں  اور اہلیان کراچی اپنی بقاء و سلامتی کے لئے خود بھی میدانِ عمل میں میں آجائیں اور کراچی کی تعمیر نو میں اپنا مثبت کردار ادا فرمائیں ۔