ڈاکٹر ماہا علی کے خاندان کو خطرہ کیوں اور کس سے تھا، 8 اگست کو کس نے بچایا؟

ڈاکٹر ماہا علی کے خاندان کو خطرہ کیوں اور کس سے تھا، 8 اگست کو کس نے بچایا؟

ڈاکٹر ماہا شاہ کے والد آصف علی شاہ پر ڈیفنس میں زیر رہائش بنگلے پر قبضہ کرنے کا الزام ہے۔

ڈیفنس فیز فور کی کمرشل اسٹریٹ 11 کا بنگلہ نمبر 34/2 گزری تھانے کے عین سامنے واقع ہے

آصف شاہ کے رہائشی بنگلہ پر علی نواز مگسی کی دو بیویوں کی اولادوں کے مابین حق ملکیت کا تنازعہ ہے

ماضی میں علی نواز مگسی کی دونوں اولادیں کراچی آکر اس خاندانی مشترکہ بنگلے میں رہائش اختیار کرتی رہیں۔

یہ بنگلہ خاندانی دعوتوں اور نجی پارٹیوں کیلئے بھی اکثر استعمال کیا جاتا رہا، علاقہ مکینوں کا انکشاف

علی نواز کے بیٹے اسد مگسی نے مشترکہ خاندانی پراپرٹی کو مبینہ طور پر ہتھیانے کیلئے خفیہ اقدام کیا۔ خاندانی ذرائع

بااثر پیر اور سید ہونے کی بنا پر آصف شاہ کو اگست میں اس مکان میں کرایہ دار بناکر بٹھا دیا گیا، پولیس ذرائع کا انکشاف

علی نواز مگسی کی دوسری فیملی کے افراد 8 اگست کو رہائش کیلئے آئے تو خاندانی مکان پر کسی اور کو قابض دیکھا۔

مذکورہ فریق نے 8 اگست کو مددگار 15 پولیس سے مدد لی، فون کال کرکے آبائی گھر پر قبضے کی اطلاع دی

مگسیوں نے حمایتی بھی مکان کے باہر بلوالئے، آصف شاہ سے اسلحہ کے زور پر قبضہ چھڑانے کی کوششیں شروع ہوئیں

آصف شاہ کو بنگلہ دینے والے اسد مگسی نے بھی مداخلت کی، پولیس افسران سے رابطے کرکے معاملہ ٹھنڈا کیا

گزری پولیس نے متاثرہ فریق اور پیر آصف شاہ کے مابین تنازعہ پر مسلح جنگ ہونے سے بچائی

دونوں طرف سے بااثر افراد نے مداخلت کی، معاملہ ایس ایس پی ساؤتھ کے دفتر تک پہنچ گیا۔

آصف شاہ اور اسد مگسی کے مابین کرایا نامہ نہیں تھا اور نہ ہی تھانے میں کرایہ داری کی اطلاع دی گئی

تنازعہ کھڑا ہونے پر 8 اگست کو ہی تھانے میں کرایہ کا معاہدہ جمع کرا کر رجسٹریشن سسٹم میں اندراج کرایا گیا

8 اگست کو پیر آصف شاہ کو مگسی گروپ کے ہاتھوں شدید خطرات تھے، فیملی خوف و ہراس میں مبتلا تھی

پیر آصف شاہ مگسی فیملی کے ہاتھوں سیکورٹی خدشات کی بنا پر پہلی بار اپنی بیٹی ماہا شاہ کو چھوڑنے اسپتال گئے

مگسی خاندان کے حملے کے خدشات پر ماہا علی نے ایس ایم ایس کرکے والد کو خیریت سے گھر پہنچنے کا پوچھا

ماہا کے والد آصف شاہ نے پریس کانفرنس میں بیٹی کے اس میسیج کو جنید خان کے خلاف استعمال کیا۔

گدی نشین اور زمیندار سید پیر آصف علی شاہ نے گھر کے کرائے کے تھانہ کی رجسٹریشن میں خود کو بزنس مین ظاہر کیا

خاندان کے کل افراد 3 ظاہر کیے، خاندان کا بالغ فرد محض ایک جبکہ دو کے نابالغ ہونے کا اندراج کرایا گیا

کراچی کا عارضی پتہ فلیٹ نمبر 1، آدم جی اپارٹمنٹ، پلاٹ 2، کمرشل لین تھرڈ کراچی جنوبی ظاہر کیا۔