ایسا مجرم کسی رحم کا مستحق نہیں!

تحریر:سہیل دانش
———————

کتنے دکھ کی بات ہے کہ اس قوم کو پوری گھن گرج سے نئے پاکستان میں لے جانے کا خواب دکھانے والے حکمران اس سنگین بحران کی آہٹ تک نہیں سن رہے۔ جو ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونے والی ذیادتی پر ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور حکومت گہری نیند سے ہڑ بڑا کر بیدار ہوئی ہے۔ یہ واقعہ بھی ہمارے معاشرے میں ہونے والے پے در پے روح فرسا اور دردناک واقعات کا ایک تسلسل ہے اور اس کے بعد ہم نہ جانے کس دروازے پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ دکھ اور ایسے واقعات ہماری کئی نسلوں پر محیط ہیں اور ہم ہر بار کی طرح اس بار بھی یہ ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں کہ ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں اور اس پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟


ایک بار امریکی صحافی ڈیوڈ فراسٹ نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز سے دریافت کیا۔ آپ کے ملک میں دی جانے والی ہاتھ کاٹنے اور سر قلم کر دینے کی سزائیں ظالمانہ لگتی ہے۔ شاہ فیصل نے بلا تذبذب کہا۔ میرے ملک میں پورے سال اتنے جرائم نہیں ہوتے، جتنے امریکہ میں ایک گھنٹے میں ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمارے ہاں کا وہی نظام ہے، جس کا حکم خدا اور اس کے پیغمبر محمد عربی ﷺ نے دیا تھا۔ سعودی فرمانروا نے کہا ہمارے ہاں ان سزاؤں کی تعداد بہت کم ہے کیونکہ ہم نے اپنے معاشرے میں سزا سے ذیادہ سزا کا تصور قائم کیا ہے۔ جرم کرنے سے پہلے مجرم کو یقین ہوتا ہے کہ اگر وہ پکڑا گیا تو سزا سے نہیں بچ سکے گا۔
میں نے سعودی عرب میں جرائم کی بیخ کنی کے لئے بنائے گئے قوانین اور تحقیق کے طریقہ کار کو دیکھا تو یہ بہت آسان، تیز اور بر وقت ہے۔ اس میں مجرم اور سزا کے درمیان فاصلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہاں کرکٹ کی پچ کی طرح لمبی لمبی میزوں پر ہماری طرح بیٹھ کر نئی نئی توجیہات، تشریحات اور نسخے تجویز کرنے کا رواج نہیں۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ جب ہم ایک ظلم پر خاموش رہتے ہیں۔ جب ہم ایک واردات پر اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں توہم دس اور وارداتوں کا راستہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آپ سوچتے ہونگے کہ سخت قوانین کی موجودگی میں معاشرے میں جرائم کی شرح میں اتنا ہو شربا اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔ دراصل ہمارے ہاں انصاف کا عمل اتنا ڈھیلا نرم اور طویل رکھا گیا ہے کہ مدعیوں کی تین تین نسلیں فیصلہ سننے کی آس میں قبر تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن سماعتیں، پیشیاں، گواہیاں، تاریخیں، ثبوت، بیانات اسٹامپ پیپر اور شہادتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ لہذا مجرموں کو معلوم ہو گیا ہے کہ ان کے پاس چند پیسے ہیں تو قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنا، اسٹے آرڈر لینا،پیرول پر رہا ہونا اور ضمانت قبل از گرفتار کا بندوبست کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ ہمارے ہاں انتظامی ادارے بری طرح تنزلی کا شکار ہیں ان کی کارکردگی قابل رحم حد تک افسوس ناک ہے اور عدالتی نظام انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالتیں پولیس کو ادھوری تفتیش، مشکوک شواہد وغیرہ کا الزام دیتی ہیں اور پولیس عدالتوں کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔
ریپ جیسے سنگین جرائم پر سزائے موت پر نفسیاتی، سماجی، معاشرتی اثرات کا جائزہ لیکر اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ جنرل ضیاء الحق کے دور کی بات ہے۔ لاہور کے ایک تاجر احمد داؤد کے بیٹے پپو کو اغواء،ذیادتی اور پھر جان سے مار دینے کا واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ضیاء الحق نے لاہور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اقبال کو ہدایت کی کہ اس گھناؤنی حرکت کے مرتکب افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔ پولیس حرکت میں آئی اور ملزمان دھر لئے گئے انہیں کیمپ جیل کے باہر سر عام پھانسی پر لٹکایا دیا گیا۔ اس کے بعد کئی سال تک پورے ملک میں کسی بچے کے اغواء اور ذیادتی کی واردات نہیں ہوئی۔
ماضی میں جھانکیں تو معروف اداکارہ شبنم کو اس کے شوہر اور بیٹے کے سامنے ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔اس جرم کے مرتکب بندیالی اینڈ پارٹی کے چھ مجرموں کو فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی لیکن اثر و رسوخ انصاف کے آڑے آ گیا۔ وینا حیات کے ساتھ کیا ہوا، گھر کی دیوارپھلانگ کر نہ جانے کتنے افراد نے معزز خاندان کی اس خاتون کو بے آبرو کیا۔ سب کو معلوم تھا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے لیکن وہاں کوئی زنجیر عدل نہیں تھی۔ کسی کے سینے میں دل نہیں تھا اور کسی کے وجود میں ضمیر نہیں تھا۔ مجھے تو بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ ذیادتی کا واقعہ آج بھی یاد ہے جس میں ایک وفاقی وزیر ملوث تھا لیکن کسی نے اس بچی کی چیخیں نہیں سنی۔ اسکی آہوں،سسکیوں اوربد دعاؤں پر کسی نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ مجھے تو بفر زون کی ان دو بچیوں کے ساتھ ذیادتی اور پھر انہیں چو کھنڈی کے قبرستان میں لیجا کر مار دینے کا واقعہ نہیں بھولتا۔ کیا کسی نے ایک لمحے کے لئے رک کر سوچا کہ ہمارے گلے سڑے اور بد بو دار سماج میں کیا ہو رہا ہے؟
لاہورمیں موٹر وے پر پیش آنے والا واقعہ بھی ان سینکڑوں نہیں ہزاروں واقعات کا تسلسل ہے۔ جن میں ان واقعات کی خراشیں ہر شہرمیں اپنے زخم دیکھا رہی ہیں جب میں بے حسی، بے شرعی اور بے غیرتی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے اپنے معاشرے پر نظر ڈالتا ہوں تو مختاراں مائی سے لیکر وڈیروں اور جا گیر داروں کے اشاروں پر خواتین کو برہنہ کرکے پریڈ کرانے والے ظالموں کی کہانیاں بکھری نظر آتی ہیں۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں میں ڈکیتیوں کے دوران خواتین کے ساتھ ذیادتی اور بے حرمتی کے سینکڑوں واقعات نظر آئیں گے اور جو رجسٹر نہیں ہوئے۔ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
اس بے حس معاشرے میں ریپ کے لئے جس طرح عمر کی کوئی قید نہیں، اسی طرح رنگ نسل قومیت مذہب کی بھی کوئی قید نہیں۔یہ ساڑھی، برقعہ، جینز، عبایا، فراک، اسکرٹ، شلوار کرتا، سنسان سڑک پر ہو۔ بھرے پڑے دفتر، ریسٹ ہاؤس، گیسٹ ہاؤس، کسی ہوٹل، گھر میں، قائد اعظم ؒ کے مزار کے احاطے میں ہو یا قبرستان میں، ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں ہمارے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے، کیا یہ سب کچھ دیکھ کر ہم اپنی آنکھیں پھوڑ ڈالیں۔ اپنے کانوں میں سیسہ بھر لیں یا اپنے محسوسات کو جلا ڈالیں۔
موٹروے سانحہ کی متاثرہ خاتون شاید سمجھ بیٹھی ہو کہ یہ ایک معاشرہ ہے جہاں جب کوئی شہری سڑک پر نکلتا ہے تو اس کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر وہ یہ بھول گئی تھی کہ یہ تو قبر فروشوں کی بستی اور درندوں کی غار ہے۔ یہ ایک ایسی ریاست مدینہ ہے، جہاں کوئی عمر بن خطابؓ نہیں ہے۔ ہماری بے حسی کا حال یہ ہے کہ ہم یہ سوچتے ہیں کہ شکر ہے کہ یہ فلاں کے ساتھ ہوا اور ہم اب تک محفوظ ہیں لیکن ہم یہ جانتے بوجھتے کیوں بھول جاتے ہیں کہ چراغ سب کے بجھیں گے ہو ا کسی کی نہیں۔