کے سی سی آئی کے الیکٹرک کے لائسنس میں تبدیلی، پیداوار، فروخت، تقسیم سے متعلق استثنیٰ واپس لینے کی مکمل حمایت کرتا ہے،آغا شہاب


کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے نیپرا کی جانب سے 21 جولائی 2003 کے لائسنس نمبر 09 / ڈی ایل / 2003 میں مجوزہ اے پی ایم کے خلاف کے الیکٹرک کی میڈیا میں لابنگ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے الیکٹرک نے کراچی میں بجلی کی تقسیم اور فروخت پر اجارہ داری کے خاتمے کے لیے لائسنس میں تبدیلی کے خلاف ناقص اور کمزور دلائل پیش کیے۔


کے الیکٹرک لمیٹڈ کے موجودہ ڈسٹری بیوشن لائسنس میں ترمیم کے حوالے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے رجسٹرار کو پہلے سے بھیجی گئی تجاویز میں مزید اضافی تجاویز پر مبنی ایک خط میں کے سی سی آئی کے صدر نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کے ای کے اس تناظر میں کہ اس کے استثنیٰ یا دوسرے لفظوں میں اجارہ داری کا خاتمہ عوامی مفاد میں نہیں ہے بہت ہی مضحکہ خیز ہے۔کے ای کی دلیل میں کئی نقائص ہیں۔کے الیکٹرک کے ناقص نظریے میں اسٹار، لوس صارفین جو کے ای کی بنیادی آمدنی کاذریعہ ہیں جو اسے اس کی معاشرتی ذمہ داری کے اخراجات کو پورا کرنے کے اہل بناتے ہیں انہیں نئی ڈسٹری بیوشن مارکیٹ میں رسائی دیں گے۔یہ بیان خود ہی کے ای کے غیر منصفانہ سلوک اور دیانت دار صارفین کے استحصال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


انہوں نے کہا کہ یہ صارفین کو چوری شدہ بجلی اور لائن لاسز کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور کرتے ہیں جبکہ بجلی کی چوری میں ملوث افراد کو کے ای فیلڈ عملے کی ملی بھگت سے نوازا جاتا ہے اور انہیں کنڈے کے استعمال کی ترغیب دیتے ہوئے غیر قانونی کنکشن دیے جاتے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ کے ای ایماندار صارفین پر اس طرح کا بوجھ معاشرتی واجبات کے اخراجات کے نام پر ڈال دیتا ہے۔ چوری اور لائن لاسز کی نشاندہی کرنے اور ان پر قابو پانے میں کے ای کی ناکامی کو چھپانے کے لیے یہ ایک بھونڈا بہانہ ہے۔ اس طرح کی دلیلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور در حقیقت وہ صارفین کی حق تلفی ہے جو دیانتداری سے اپنے واجبات ادا کرتے ہیں۔
صدر کے سی سی آئی نے سوال کیا کہ کے ای کی طرف سے دی جانے والی ایک اور دلیل کہ اگرکے ای ایل کا استثنیٰ واپس لیا گیا تو شنگھائی الیکٹرک کو کے ای کی فروخت متاثر ہوگی۔انہوں نے زور دیا کہ کے سی سی آئی ہر طرح کی اجارہ داری کے خلاف ہے چاہے وہ کے ای کرے یا شنگھائی الیکٹرک۔ کراچی کی پوری صنعت و تجارت اور گھریلو صارفین ایسی کسی بھی اجارہ داری کے خلاف ہیں اور اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی غیر ملکی کمپنی کو کے ای کا اختیار دینے سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے اور غیر ملکی کمپنی کے منافع اپنے ملک لے جانے سے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ اگر وہ کے الیکٹرک کی طرح حاصل اجارہ داری سے لطف اندوز ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ بجلی کی فراہمی یا کوئی اور کموڈٹی یا پھر خدمات پر کسی ایک کمپنی کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے جو کسی صورت بھی عوامی مفاد میں نہیں۔اس طرح کی استثنیٰ (اجارہ داری) پروڈیوسر، تقسیم کار کو مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کرنے کی شرائط عائد کرنے کی اجازت دیتی ہے اورمسابقت کی عدم موجودگی میں خدمات، انفرااسٹرکچر کے معیارات میں بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔کے الیکٹرک کا دعویٰ غیر منطقی ہے اور یوٹیلیٹز فراہمی میں بین الاقوامی بہترین طریقوں کے خلاف ہے جو عوام کو کسی متبادل آپشن کی نفی کرتا ہے لہٰذا کے سی سی آئی کراچی میں بجلی کی فراہمی اور تقسیم کے سلسلے میں کے ای کے لائسنس میں ترمیم اور کے الیکٹرک کی اجارہ داری واپس لینے کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ کراچی میں صنعت و تجارت اور گھریلو صارفین کو بجلی کی فراہمی میں مسابقت کی اجازت دی جاسکے جو کے ای کے ہاتھوں کئی سالوں سے یرغمال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجارہ داری نے در حقیقت ملک کو بے پناہ معاشی نقصان پہنچایا ہے اور وہ مسابقتی ایکٹ 2010 کی شقوں کے ساتھ ساتھ آئین میں شامل شہریوں کے حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے لہٰذا کسی بھی قواعد و ضوابط اور قوانین کے تحت جو کسی ایک کمپنی کو بجلی کی تقسیم سمیت کسی بھی کاروبار کو چلانے کے خصوصی حقوق کی اجازت دیتا ہے وہ آئین کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
عامر حسن
ڈائیریکٹر میڈیا، پبلک ریلیشنز