کراچی کے یادگار لینڈ مارک فریئر ہال و باغ پر انتظامی کنٹرول کی جنگ

فریئر ہال باغ کا شمار کراچی کی خوبصورت اور پرانی عمارتوں میں ہوتا ہے۔ جو برطانیہ کے نوآبادیاتی دور کی یاد دلاتا ہے۔ یہ امریکی سفارت خانے اور ہوٹل میریٹ کےسامنے عبداللہ ہارون روڈ اور فاطمہ جناح روڈ کے درمیان شہر کے قلب میں واقع ہے، کراچی کی اس پرکشش عمارت کو 1863 میں برطانوی راج کے سابق کمشنر سندھ سر ایچ بارٹلے ای فریئر کی سندھ میں خدمات کے اعتراف میں یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا اور اس کو شہر کے ٹائون ہال کے طور پر استعمال کیا جاتاتھا کمشنر سندھ سر بارٹلے فرئیر ایک جونیر بیروکریٹ تھے ان سے سینئر کئی درجن افسران موجود تھے تاہم ان تمام سینئر افسران کی حق تلفی کرکے وائسرائے ہند نے بارٹلے فریئر کو کمشنر سندھ مقرر کیا تھا اس وقت فریئر کی عمر 35 سال تھی تاہم انھوں نے اپنی ذہانت اور قابلیت سے یہ ثابت کیا کہ وہ اس عہدے کے اہل تھے کمشنر بارٹلے فریئر کے دور میں کراچی کی معاشرتی ، تجارتی اور تعلیمی سرگرمیوں میں ترقی ہوئی تھی

اس زمانے میں کراچی میں پہلا انگلش میڈیم اسکول قائم ہوا اور موجودہ خالق دینا ہال کے مقام پر نیٹو جنرل پبلک لائیبریری قائم ہوئی تھی اسی طرح کیماڑی سے کینٹ اسٹیشن تک ریلوے کی لائین بچھائی گئی کراچی کی بندرگاہ کی ترقی کے لئے بھی انھوں نے مثالی خدمات انجام دیں تاریخی فریئر ہال کا نقشہ وائسرائے ہند کے شاہی انجینئر کرنل کلیر ولکنس( colonel Clair Wilkins ) نے تیار کیا تھا اس عمارت کی زمین سیٹھ دھول جی ڈنشا نے عطیہ کے طور پر دی۔ جبکہ اس عمارت کی تعمیر پر ایک لاکھ 80 ہزار روپے خرچہ ہوئے تھے اس رقم میں 22ہزار 500 روپے شہریوں سے چندے کے طور پر لئے گئے تھے اور بمبئی کی حکومت نے 10 ہزار روپے کی رقم فراہم کی تھی اور بقیہ رقم 1 لاکھ 47 ہزار روپے کراچی میونسپلٹی نے فراہم کئے تھے یہ ہال وینس کی طرز تعمیر پر کراچی میں پیلے اور بھولاری پھتروں سے تعمیر کیا گیا تھا اس کی تعمیر میں کوٹری کے زرد پتھر اور جنگ شاہی کے سرخ اور بھورے پھتر استعمال کئے گئے تھے اس عمارت کی تعمیر تقریبا دوسال میں مکمل ہوئی تھی 10اکتوبر 1865 کو اس وقت کے کمشنر سندھ سیموئیل مینسفیلڈ نے اس کا افتتاح کیا تھا یہ عمارت 144فٹ اونچی ہے مشرق کی طرف سے دہلیز سے دورویہ زینہ سیدھا پہلی منزل تک جاتا ہے1871 میں اس کےاوپرے حصے مین پہلی بار پبلک لائیبریری قائم ہوئی جبکہ چھت اور ہال میں ممتاز مصور سید محمد صادقین امروہوی کے لافانی فن پاروں کی گیلری قائم ہے اس گیلری کا افتتاح سابق چئیرمین سینٹ وسیم سجاد نے کیا تھا دسمبر 1869میں اس عمارت میں صنعتی نمائش منعقد ہوئ تھی جبکہ 1887 میں بنجامن ہنچ نامی یہودی باشندے نے فریئر ہال کے اطراف باغ لگایا تھا 1921 میں اس باغ کے ایک کونے میں1914 سے1918کے دوران ہونے والی جنگ عظیم اول کے شہدا کی یادگار ہوا کرتی تھی اس یادگار کو بلوچ انفنٹری کے ان بلوچ سپاہیوں کی یاد میں جودھپور کے سرخ پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جنھوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا

یادگار پر ان سپاہیوں کے نام کندہ تھے جہاز سے دیکھنے پر یہ چاند تارے کی طرح نظر آتی تھی اس یادگار کا افتتاح ڈیوک آف ونڈسر نے1922میں کیا اس ہال کے سامنے اور پچھلے حصے میں ملکہ وکٹوریا 1906 اور ایڈوررڈ ہفتم 1916 کے مرمریں مجسمے نصب تھے ملکہ وکٹوریہ کے مجسمہ کے ایک ہاتھ میں عصائے سلطانی اور دوسرے میں قرص لئے دکھایا گیا تھا لیکن یہ مجسمے اب یہان موجود نہین انھیں 1961 میں قومی عجائب گھر منتقل کردیا گیا تھا فریئر ہال میں 1947 سے 1949 تک سینٹرل پبلک سروس کمیشن کا دفتر بھی قائم تھا 21 مئی 1963 سے اس کو باغ جناح نام دیا گیا ہے قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں نامور شخصیات اس کو دیکھنے آتے رہے ہین جبکہ غیرملکی سربراہان کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام بھی کیا جاتا رہا ہے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح فریئر ہال کو دیکھنے آچکی ہیں جبکہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی اورانکی اہلیہ فرح دیبا بھی اس تاریخی عمارت کو دیکھنے آچکے ہیں اس ہال کے مغرب میں فائیو اسٹار ہوٹل . اسٹیٹ گیسٹ ہائوس اور امریکی سفارت خانہ کی عمارت واقع ہے سیکورٹی خدشات کی وجہ سے اس باغ کو کئی سال شہریوں کے لئے بند رکھا گیا تھا تاہم سفارت خانہ مولوی تمیز الدین روڈ پر منتقل ہونے کے بعد اس کو عوام کے لئے کھول دیا گیا ہے ان دنوں اسٹیٹ گیسٹ ہائوس کو ایوان صدر کا درجہ دے دیا گیا ہے یہان موجودہ صدر مملکت ممنون حسین اور ان کے اہل خانہ مقیم ہین ہال کے مشرقی حصے میں امریکی سفیر کی رہائش گاہ اور نواب آف جونا گڑھ دلاور خانجی کی رہائش گاہ واقع ہے جبکہ چند کوس پر فاطمہ جناح کی رہائش گاہ قایداعظم میوزیم واقع ہے یہان چند سال پہلے کتابوں کا بازار بھی لگتا رہا ہے حکومت سندھ کی طرف سے اس تاریخی فریئر ہال کی عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا جاچکا ہے اور دو سال قبل اس کی بحالی کا کام بھی زور شور سے شروع کیا گیا تھا تاہم حسب روایت کوئی خا طر خواہ نتائج دیکھنے میں نہیں آئے جبکہ محکمہ ثقافت کی طرف سے گذشتہ دس سالون کی دوران کروڑون روپے خرچہ ظاہر کئے جاچکے ہیں ان دنوں فریئرہال و باغ کے انتظامی معاملات بلدیہ عظمی کراچی کی تحویل میں ہیں

گزشتہ روز فریئر ہال کی تاریخی عمارت میں بلدیہ عظمی کراچی نے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا جس میں میئر کراچی وسیم اختر اور نو تشکیل گارجین بورڈ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کے معاہدہ پر دستخط کئے گئے معاہدہ کے تحت گارجین بورڈ جس کے سربراہ ازخود وسیم اختر ہین اس کے ممبران میں شہر کی ممتاز شخصیات شامل ییں گارجین بورڈ اس قومی ورثے کی تزین و آرائش اور دیکھ بھال کے امور انجام دے گا تاہم حکومت سندھ نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے
محکمہ تقافت و آثار قدیمہ کا موقف ہے ایم او یو سے پہلے میئر کراچی کو بلدیہ عظمی کی کونسل سے منظوری حاصل کرنا ضروری تھی جو کونسل سے نہیں لی گئی ہے اور نہ ہی شہریوں سے مذکورہ معاہدے کے متعلق ان کو اعتماد میں لیا گیا ہے ۔ فیرئیر ہال تاریخی ورثہ اور قومی ملکیت ہے اس کو شہریوں اور بلدیہ کی کونسل سے منظوری کے بغیر کسی نجی بورڈ کے حوالے کرنا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے تقریب سے خطاب کے دوران میئر کراچی نے انکشاف کیا کہ اس تاریخی ورثے سے کئی اہم نواردات چوری کرلی گئی چور کوئی معمولی نہیں ہین وہ اس شہر کی معزز شخصیات ہین جنھوں نے یہ نواردات اپنے گھروں اور دفاتر میں سجائے ہوئے ہیں میڈیا کے نمائندوں کی طرف سے بارہا بابائے کراچی وسیم اختر سے ان معزز چوروں کا نام ظاہر کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر وسیم اختر ان کا نام زبان پر لانے سے کتراتے رہے