معراج رسول نے اپنی ہمیشہ کی دھیمی پر سکون آواز میں مجھے اپنی فیاضی سے ہمیشہ کیلئے اپنا بنا لیا تھا۔

رپورٹ … شاہ ولی اللہ

اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
(احمد اقبال)

معراج رسول کیلئے وہ وقت ایک طویل انتظار کے بعد آیا جب مجھے اقلیم علیم نے فون پر بتایا کہ وہ نہیں رہے تو میں نے اس خبر کو ظاہری سکون سے سن لیا۔ وہ تو کئی سال سے نہیں تھے۔ کئی سال سے تو ان کا جسمانی وجود گردو پیش سے بے خبری کی کیفیت میں ان کے دنیاوی مسکن میں موجود تھا، کئی سال سے وہ زندہ تو تھے مگر زندگی کے ہر احساس سے اتنے ہی بیگانہ تھے جتنا زنده کہلانے والا ایک انڈورپلانٹ ہو سکتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے دن گذرا مجھے پرانے وقت کی يادون کے ایک ماتم كناں ہجوم نے محصور کرلیا۔ میں دن بھر انہیں ہی سوچتا رہا اور میرا تصور مجھے سینکڑوں میل دور کراچی کے وہ مناظر دکھاتا رہا جو میں دیکھنا نہیں چاہتا تها یہ ابھی صرف ایک ماہ پہلے کی بات ہے جب اپنے آفس میں ان کی اہلیہ عزرا رسول نے مجھ سے کہا کہ حال کیا پوچھتے ہیں۔ آکے دیکھ لیجیئے تو میں نے معزرت کرلی کہ یہ میں کر نہیں سکتا۔ چند برس ہوئے مرحوم على سفیان آفاقی نے بھی اصرار کیا تھا کہ میں معراج صاحب کو دیکھنے جارہا ہوں۔ میرے ساتھ چلو۔ تو اس وقت بھی میں نے اپنی جذباتی کم ہمتی کا اعتراف کر لیا تھا چنانچہ معراج رسول میرے خیال میں اسی طرح جیتے جاگتے موجود ہیں جیسے وہ 1981 میں اس وقت موجود تھے جب میں ان کے شاندار آفس میں ان کے سامنے بیٹھا انہیں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ اپنی ہمیشہ کی دھیمی پر سکون آواز میں انہوں نے مجھے اپنی فیاضی سے ہمیشہ کیلئے اپنا بنا لیا تھا۔ آج جاسوسی ڈائجسٹ گروپ میری شناخت ہے۔ ان کی فطرت کی فیاضی میں 35 سال دیکهتا رہا، جس کو ایک بار انہوں نے اپنا لیا انہی کا ہوگیا۔ ان کا سارا عملہ آج بھی وہی ہے اگرچہ ان کے بال سفید ہوچکے ہیں اور قوی مضمحل عمر کی ناتوانی نے انہیں مغلوب کر لیا ہے لیکن جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشن میں وہ ایک گھر کے افراد کی طرح موجود ہیں۔

نہ جانے کتنوں کو انہوں نے رہائش فراہم کی کتنوں کو خانۂ خدا کی زیارت کیلئے بھیجا۔ کتنوں کی بیماری کے غیر معمولی اخراجات اٹھائے۔ جب آفس سعید مینشن میں تھا تو وہ ہر سال عید پر کم آمدنی والے اسٹاف میں عید کے دو دو جوڑے میاں بیوی کیلئے تقسیم کرتے تھے مجھ پر ان کا خاص کرم تها، میری خواہش پر انہوں نے مجھے آفس میں بیٹھنے کی جگہ فراہم کی تھی اور میرے لئے دوپہر کا کھانا بھی بہت عرصہ ان کے گھر سے آتا رہا۔ یہ سلسلہ ان کے ملک میں نہ ہونے پر بھی جاری رہا۔ اکثر وہ خود بھی میرے ساتھ کھانے بیٹھ جاتے تھے۔ ایک بار تقسیم کیۓ جانے والے نئے جوڑوں کا ڈھیر میرے کیبن میں تھا۔ میں نے جنگ بلڈنگ کے ایک ملازم کو قطار میں دیکھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ خوشحال ہے۔ ضرورت پڑنے پر جہاز سے سفر کرتا ہے اور اس کے بیٹے کے پاس نئی كورولا ہے میں نے معراج صاحب سے شکایت کی تو انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا “مجھے معلوم ہے اقبال صاحب اسے روکا تو وہ شرمنده ہوجائے گا۔ لے جانے دیں۔ دو جوڑوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔

1987 میں جب میری پہلی بیٹی کی شادی تھی تو تمام انتظامات مکمل ہونے کے باوجود ایک نامعلوم سی پریشانی تھی کہ کوئی غیر متوقع مالی مسئلہ کھڑا نہ ہو جاۓ لیکن معراج صاحب پر بهروسہ تھا۔ اچانک پتا چلا کہ وہ امریکہ جارہے ہیں میں نے کہا ” آپ تو جارہے ہیں۔ مجھے پیسوں کی ضرورت پڑ گی تو کیا ہوگا۔ انہوں نے چند سیکنڈ سوچا پهر مسکراتے ہوۓ ایک بلینک چیک دستخط کر کے مرے حوالے کیا اس پر آپ 30 ہزار تک لے سکتے ہیں۔ میری طرف سے شادی کا تحفہ آپ کے گهر پہنچ جاۓ گا”۔ مجھے چیک کیش کرانے کی ضرورت نہیں پڑی جب وہ واپس آۓ تو میں نے وہ چیک انہیں واپس کر دیا۔ میں چاہتا تو اسے کیش کرا کے رقم آسان ماہانہ اقساط میں واپس کر سکتا تھا، اس سے میرے اور ان کے درمیان اعتماد کا نیا رشتہ قائم ہوا۔ اس کے بعد پیسہ کوئی مسئلہ نہ رہا۔ میں نے جب جتنا کہا میرے گھر آگیا یا بنک اکاونٹ میں چلا گیا۔ ایک بار میں نے پوچھ لیا کہ معراج صاحب یہ آپ کون سی پرفيوم استعمال کرتے ہیں۔ آپ تیسری منزل پر اپنے آفس میں ہوتے ہیں اور نیچے جب میں آتا ہوں تو خوشبو بتا دیتی ہے کہ آپ ا چکے ہیں۔ انہوں نے مسکرا کے میز کی دراز میں سے ایک شیشی نکال کے مجھے دکھائی اور پھر مجھے دے دی وہ کئی سو ڈالر مالیت کی تھی۔

وه انتهائی مردم شناس تھے اور عزت دینا جانتے تھے جون ایلیا اقبال مہدی جمال احسانی علی سفیان آفاقی اور ڈاکٹر ساجد امجد جیسے نابغۂ روزگار ان کے حسن سلوک کے اسیر تھے اور ادارے میں ان کی شمولیت باعث افتخار تھی میری ان کے سامنے کیا اوقات لیکن مجھے بھی انہوں نے وہ اہمیت دی جس کی تفصیل میں جانا اب لاحاصل ہے، آج مجھے جو تھوڑی بہت عزت اور شہرت حاصل ہے اسکا سارا کریڈٹ معراج صاحب کو جاتا ہے۔ مجھے کہانیاں لکهتے تین سال ہوۓ تھے کہ انہوں نے مجھ بلا کے ایک قسط وار کہانی لکھنے کو کہا وہ نہ جانے کیسے، وہ نجانے کیسے مجھ میں ایک قسط نگار کو دیکھ چکے تھے۔ ان کی خواہش پر میں نے “شکاری” کا آغاز کیا جو اب میری پہچان ہے۔ اسی دوران انہوں نے ایک دن مجھے بلا کے کہا کہ شکاری میں میرا مزاحیہ انداز پسند کیا جارہا ہے تو میں مزاح کیوں نہیں لکھتا يوں “بهورے ماموں کالے خاں” کے مزاحیہ کردار وجود میں آۓ اور اس کے بعد “بزدل” ڈاکٹر صایمہ اور “توپ صاحب” کی کہانیاں لکھی گئیں۔

ایک بار ایسا بھی ہوا کہ ایک ڈائجسٹ ماہانہ اشاعت میں جاسوسی سے آگے نکل گیا لیکن صرف ایک بار جاسوسی ڈائجسٹ پبلیکیشن کے سب رسالے ہر ماہ کی ایک تاریخ کو بک اسٹال پر پہنچ جاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ کوئی دوسرا اداره کبهی اس معیار کو نہ پہنچ سکا وقت کی پابندی سے سب کو ادائیگی بھی ان کا اصول تھا۔ ایک بار کیشیئر نے معذرت کرلی کہ چیک بک ختم ہو گئ ہے میں واپس جارہا تھا کہ وہ مل گئے۔ مجھے پوچها “كيسے آۓ تھے” میں نے کہا کہ پیمنٹ لینی تھی مگر چیک بک ختم ہوگئی تھی۔ كل لے لوں گا مجھے واپس لے گئے اور اپنی جیب سے ادائیگی کرنے کے بعد کیشیئر سے کہا” اگر ہم ہم نے عزت سے رائیٹر کو ادائیگی نہ کی تو ہمیں کبھی عزت نہیں ملے۔

ڈیفنس ہاوسنگ سوسایٹی کے ایک قبرستان میں نصف شب کا اندھیرا ہے۔ ایک قبر پر جسکی مٹی ابھی گیلی ہے پھولوں کے ڈھیر مرجھانے لگے ہیں۔ میں اسلام آباد سے معراج رسول کے مدفن پر پہنچ کے ہاتھ اٹھاوں گا۔ مغفرت کی دعا کروں گا اور واپس آکے سوجاوں گا۔ لیکن یاد کی ایک کرن تو ہمیشہ روشن رہے گی۔


اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
(احمد اقبال)

رہے گی۔
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
(احمد اقبال)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں