سندھ میں خواتین میں خودکشیوں کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ، سرچارلس نیپئرکی حکمت عملی یاد آگئی ,

سندھ کی تہذیب، تاریخ اور ثقافت کتنی پرانی ہے اس پر کوئی حتمی رائے تو نہیں دی جا سکتی لیکن مورخین کے مطابق سندھ کی تاریخ تقریبا سات ہزار سال پرانی ہے۔ ۔1843ء میں سندھ کی حکمرانی انگریزوں کے ہاتھ میں چلی گئی اورامیران سندھ کوکلکتہ بھیج دیا گیا ۔ اس تمام تر جنگی منظرنامے کی سب سے اہم ترین شخصیت برطانوی جنرل سر چارلس نیپئر ہیں ۔ سرچارلس نیپئر 1841 میں فوجی سربراہ مقرر ہوئے اور اگست 1842 میں انہیں سندھ کا بااختیار سیاسی اور فوجی گورنر مقرر کیا گیا تھا ۔
وہ چھ دسمبر1850 تک ہندوستان کی فوج کا کمانڈر ان چیف رہے۔ لارڈ ڈلہوزی گورنر جنرل ہند کی مخالفت کی بنا پر جنرل نیپئر نے استعفیٰ دے دیا اور خانہ نشین ہو گئے۔ نیپئر کاانتقال انتیس اگست 1853 کو برطانیہ میں ہوا ۔وہ سینٹ پال کےگرجا گھر میں مدفون ہیں۔ وہاں نصب ان کے مجسمے پر ایک کتبہ لگا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ : “جنرل دوربین حکمران باکفایت مرد عادل”
نیپئر کے لئے سندھ میں تعیناتی کے دوران سب سے بڑا چیلنج عورتوں کی خود کشیوں کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافے پر قابو پانا تھا ۔
ان دنوں کراچی اوراندرون سندھ میں عورتوں کی لاشیں مشتبہ حالت میں پائی جارہی تھیں ۔ عورتوں کو تشدد کے بعد پھندا لگا کر کنوان میں ڈال دیا جاتا تھا ۔
چارلس نیپئر نے خودکشیوں کی وجوہات معلوم کرنے کے لئے کچھ افسران کو مقرر کیا تھا اور انھیں اس حوالے سے ایک جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ۔افسران نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یہاں عورتوں کے ساتھ انکے شوہروں کا رویہ انتہائی وحشیانہ ہے وہ انھیں اپنی لونڈی تصور کرتے ہیں عورتوں کی تذلیل اوران پرتششدد عام سی بات ہے وہ اپنی عورتوں کوانکی معمولی سی غلطیوں پر پھانسی دے دیتے ہیں ۔
چارلس نیپئر نے اس رپورٹ کی روشنی میں ۔1849ء میں صوبے بھر کے مجسٹریٹوں کو اس جرم کے خاتمے کے لیے احکامات جاری کیے اور اس ساتھ ہی ایک فرمان بھی جاری کیا تھا جو پولیس میوزیم کراچی میں موجود ہے اس فرمان کا متن حسب ذیل ہے: “اے سندھیو، بلوچو اور مسلمانوں! تمہارے نبی نے بھی قتل کی ممانعت کی ہے۔ تم میں سے اپنی عورتوں کو قتل کرنے والے صرف اپنے ہی مذہب کی توہین کے مرتکب نہیں ہوتے بلکہ ہمارے مذہب کی بھی توہین کرتے ہیں۔
حکومت اس کی اجازت نہیں دے گی لہٰذا حکومت انہیں سزا دے گی اور یہ جرم معدوم ہو جائے گا۔ تم میں سے کچھ احمق لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انگریزوں کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی بیویوں کو قتل کر کے یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ مقتولاؤں نے خودکشی کی ہے۔ کیا تمھارا خیال ہے کہ حکومت اس بات پر یقین کر لے گی؟ کہ ان عورتوں نے خودکشی کی ہے۔
اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ حکومت کو ان شیطانی ہتھکنڈوں سے دھوکہ دے کر خواتین کو قتل کیا جا سکتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ تمھیں یہ سبق سکھایا جائے کہ تمہارا یہ فیصلہ کس قدر غلط ہے۔ اور اگر تم اس پر ڈٹے رہے تو تمھیں سخت سزا ملنی چاہیے۔
اس سلسلے میں باضابطہ طور پر خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر کسی بھی گاؤں میں کوئی عورت قتل ہوئی تو پورے گاؤں پر سختی سے بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ حکومت کاردار (مختیار کار، تحصیل دار) کو برطرف کر دے گی۔ اور مقتولہ کے شوہر اور تمام رشتے داروں کو کراچی پیش ہونے کے احکام جاری کرے گی۔ یہ تمہارے لیے سخت خطرے اور عذاب کا پیش خیمہ ہو گا،
اگر تمہارے ضلع میں کسی عورت نے خودکشی کی تو وہ پورے علاقے کے لیے بدترین دن ہو گا۔ تم سب جانتے ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ اس فرمان کے اجراء کے بعد عورتوں کی خودکشی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملنی چاہیے۔ شوہر اپنی بیویوں کو قطعی قتل نہ کریں۔ اس سال خواتین کی ایک بڑی تعداد مردہ پائی گئی ہے۔ ان کے خاندانوں کی جانب سے جھوٹ سے کام لیا گیا ہے کہ انھو ں نے خودکشی کی ہے لیکن ان کے شوہروں کو سخت سزا دی جائے گی۔ تاکہ سنگین جرائم میں ملوث لوگ انگریز حکومت کی تذلیل نہ کر سکیں۔ قاتلوں کو لازمی مشقت کے لیے کالے پانی بھیجنا چاہیے۔ تاکہ ان کی آواز دوبارہ سنائی نہ دے
چارلس نیپئر کے اس اعلان کے بعد کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع میں عورتوں کے قتل اور خودکشی کے واقعات میں انتہائی کمی آگئی تھی ۔
تاہم آج کے اس جدید دور میں بھی صوبہ سندھ میں خواتین کے ساتھ ظلم، زیادتی، تشدد اور قتل، غارت کے واقعات عام ہیں۔ ۔ ۔سندھ میں عورتوں کو کارو کاری کی گہناونی رسومات کی بھینٹ چڑھادیا جاتا ہے۔
5سالوں کے دوران سندھ میں خودکشیوں کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔ جان گنوانے والوں میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے۔میرپورخاص وہ ڈویڑن ہے جہاں 5 سالوں کے دوران خود کشی کے سب سے زیادہ واقعات پیش آئے یہاں خودکشی کرنے والوں میں 356 خواتین شامل ہیں۔خودکشیوں کے اعدود و شمار کے گراف میں حیدرآباد ڈویڑن دوسرے نمبر ہے جہاں 116خواتین نے اپنی جان گنوائی ہے
شہید بےنظیر آباد ڈویڑن میں 75خواتین لاڑکانہ ڈویڑن میں 12خواتین ،سکھر ڈویڑن میں خودکشیوں کا رجحان سب سے کم رہا جہاں 2خواتین نے خودکشی کی جب کہ کراچی میں پچھلے پانچ سالوں کے دوران 25خواتین نے خودکشیاں کئیں ہیں ۔خودکشی کرنے والی خواتین کی عمریں 21 سے 40 سال کے لگ بھگ ہیں ۔۔دوسری جانب صحرائے تھر میں بھی خودکشیوں کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں رواں سال کے دوران 47 خواتین شامل ہیں۔ پولیس کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق 31 جنوری 2019 سے 30 جنوری 2020 کے دوران سندھ میں مجموعی طور پر 108 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ ایک برس کے دوران خواتین پر جسمانی تشدد کے 128 واقعات ریکارڈ ہوئے مزید برآں لڑکیوں کے اغوا کے ایک ہزار 158 مقدمات پولیس اسٹیشنز میں درج کیے گئےہیں

تحریر شاہ ولی اللہ جنیدی