173

شاہ نظیر عالم مرحوم … سابق آئی جی مغربی پاکستان

رپورٹ … شاہ ولی اللہ

برصغیر کی تاریخ میں بھارت کے صوبہ اتر پردیش ( یوپی) کے شہرغازی پورکو ایک منفردمقام حاصل ہے یہ وہ مردم خیز خطہ ہے جہاں ریاضت وحق شناسی کی تعلیم کے ساتھ زبان و ادب کی بھی خدمت کی جاتی رہی ہے اور اس کا ذکرتمام تذکرہ نگاروں نے اپنی کتاب میں کیا ہے تاریخ کا اگر مختلف ادوار پر مبنی مطالعہ کیا جائے تو محض یہ ایک داستان نہیں ہے بلکہ اپنے عہد کی تہذیبی ثقافتی، سیاسی، اور تاریخی اقدار کی آئینہ دار ہے عہد قدیم سے دور جدید کا عکس ہے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آج برصغیر میں دینی ،علمی، وادبی رونق باقی رہ گئی ہے ان ہی پرانے چراغوں کا صدقہ ہے پاکستان پولیس کی ممتاز شخصیت آئی جی ویسٹ پاکستان شاہ نظیرعالم کا تعلق غازی پور کےحسنی حسینی سادات گھرانے سےتھا آپ کے جد امجد قطب الااقطاب سید شاہ جنید قادری غازی پوری کا 30 واسطوں سے سلسلہ پدری حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتا ہے جبکہ 17 واسطوں سے حضرت محبوب صمدانی عبدالقادر جیلانی غوث الااعظم سے ملتا ہے،

شاہ نظیرعالم مرحوم کے والد شاہ ظہیرعالم کا شمار غازی پور کے امرا میں ہوتا تھا شاہ نظیرعالم 4 مارچ1906 کوبھارت کے صوبے یوپی کے شہر غازی پور کے محلہ میان پورہ میں پیدا ہوئے ،ابتدائی تعلیم غازی پورمیں حاصل کی جبکہ مزیر تعلیم کے لئے الہ آباد اور علیگڑھ کا سفر کیا 1930میں انڈین سول سروس کا امتحان پاس کیا31اگست 1930کو انڈین پولیس میں شامل ہوئے ، پولیس اکیڈمی حیدر آباد دکن سےپولیس کی تربیت حاصل کی بھارت میں ملازمت کے دوران اے ایس پی اور ڈی آئی جی کی حیثیت سے مختلف صوبوں میں خدمات انجام دیں جبکہ انڈین پولیس سروس کے دوران اسکاٹ لینڈ سے سراغ رسانی کی تربیت حاصل کی برطانیہ میں قیام کے دوران آپ کی شادی برطانیہ کے معزز گھرانے کی خاتون ارین عالم سے ہوئی جبکہ دوسری اہلیہ روشن بی بی تھیں ،برطانیہ سے تربیت حاصل کر نے کے بعد 1946 میں شاہ نظیر عالم ڈی آئی جی یوپی بھارت تعینات ہوئے جبکہ قیام پاکستان کے بعد سابق وزیراعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی درخواست پر پاکستان چلے آئے اور محکمہ پولیس کے قیام میں اہم کردار ادا کیا شاہ صاحب کا شمار پاکستان آنے والے انڈین پولیس کے چند سینئر افسران میں ہوتا ہے شاہ نظیر عالم پاکستان آنے کے بعد 1950 میں ڈپٹی انسپکٹرجنرل آف پولیس پنجاب تعینات ہوئے جبکہ 23اپریل 1953کو ڈپٹی انسپکٹرجنرل آف پولیس سی آئی ڈی پنجاب تعینات ہوئے آپ نے دھشت گردی اور کرائم کے واقعات کی روک تھا م کے لئے محکمہ پولیس میں اسپیشل کرائم اینڈ اینٹی کرپشن یونٹ قائم کیا آپ کا شمار اس یونٹ کے بانی میں ہوتا ہے نومبر 1953 میں آئی جی پنجاب تعینات کئے گئے 23مئی 1957 کو نو آزاد مملکت ملائیشیا کی درخواست پرآپ کی خدمات ایک سال کے لئے حکومت ملائیشیا کے سپرد کردی گئی،

ملائیشیا میں قیام کے دوران ملیشین پولیس کے قیام میں اہم کردار اداکیا ، مئی 1958 میں ملائشیا سے واپسی پرآپ کو ایک بار پھر آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ، چار سال تک آئی جی پنجاب کی حیثیت سےخدمات انجام دینے کے بعد شاہ نظیر عالم 11 اگست 1962 کو آئی جی مغربی پاکستان تعینات ہوئے اور 21جولائی 1965 تک اس منصب پر فائز رہے اورمحکمہ پولیس کو جدید خطوط پراستوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، آئی جی مغربی پاکستان ملازمت کے دوران 5 جون 1963 کو خیرپور سندھ کے علاقے ٹھٹھری میں دو مذہبی فرقوں کے درمیان تصادم کا واقعہ پیش آیا تھا اس افسوس ناک واقعہ میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوگئے تھے شاہ صاحب نے فرقہ وارانہ فساد پرجلد ازجلد قابو پانے کے لئے ملوث افراد کونہ صرف گرفتارکرنے کا حکم دیا بلکہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے اسپیشل پولیس یونٹ کے افسران پر مشتعمل ایک با اختیار انکوائری کمیٹی بھی قائم کردی تھی خود مختارانکوائری کمیٹی کے ارکان کو جائے وقوعہ پر جاکر اصل محرکات کا پتہ چلانے کی ہدائت کی تھی تاہم اس انکوائری کمیٹی کے قیام اور بعض بااثر افراد کی گرفتاریوں پرگورنر مغربی پاکستان امیر محمد خان نواب آف کالا باغ شاہ نظیر عالم سے ناخوش تھے جبکہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے گورنرمغربی پاکستان نے ایک علیحدہ کمیٹی قائم کردی تھے جس کے ممبران میں مسٹر معیز الدین ، بریگیئڈیرمحمد مظفر اور منظور حسین شامل تھے اس تحقیقاتی کمیٹی میں محکمہ پولیس کے نمائیندہ شامل نہیں کیا گیا تھا میرے چھوٹے چچا شاہ محمد مصباح کے مطابق اس معاملہ پرگورنر ملک امیر محمد خان نواب آف کالا باغ اور شاہ نظیر عالم کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے گورنرمغربی پاکستان امیر محمد خان نے واقعہ کے حوالے سے طلب کرلیا تھا اور ان سے پوچھا کہ ٹھٹری میں ہونے والے فسادات کی روک تھام کے لئے فائرنگ کا حکم اور انکوائری کمیٹی کا قیام کس کے حکم پر کیا تھا شاہ نظیر عالم نے اس موقع پر امیر محمد خان کو جواب دیا کہ وہ آئی جی پولیس مغربی پاکستان ہیں کسی تھانے کے ایس ایچ او نہیں لہزا امن و امان کے قیام انکی ذمہ داری ہے تمام احکامات انکی طرف سے دئے گئے تھے اور وہ کسی دباو میں کام کرنے کے قائل نہیں ہیں ملاقات کے دوران شاہ نظیرعالم نے آئی جی پولیس کی حیثیت سے کام کرنے سے انکار کردیا تھا اور ملازمت سے مستعفی ہونے کی بھی پیشکش کردی تھی تاہم سابق صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی مداخلت پرمعاملہ کو رفع دفع کردیا گیا ،سابق آئی جی مغربی پاکستان شاہ نظیرعالم 21 جولائی 1965 کومدت ملازمت کی تکمیل پرسبکدوش ہوگئے

شاہ صاحب کو بچپن سے گھوڑے پالنے اور ریس سے شغف تھا ملازمت سے سبکدوشی کے بعد انھوں نے لاہور ریس کلب کے سیکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں شاہ صاحب کی پہلی اہلیہ سے لیفٹنٹ جنرل شاہ رفیع عالم پاکستان آرمی میں جی او سی سیالکوٹ اور کور کمانڈر منگلہ سمیت مختلف اعلی عہدوں پر تعینات رہے دوسرے صاحبزادے شاہ عارف عالم اورتیسرے صاحبزادے شاہ جلیل عالم سی ای او ہینو پاک موٹرز شامل ہیں میرے تایا زاد بھائی ڈاکٹر شاہ خالد سلیمان کے مطابق شاہ نظیر عالم سرکاری ملازمت کے دوران ایک مہلک مرض میں مبتلا ہوگئے تھے اور طویل علالت کے بعد ستمبر1971 کو لاہور میں انتقال کرگئے، انتقال کے وقت آپ کی دوسری اہلیہ روشن بی بی ، اردلی محبوب خان، اردلی عالم خان اور نواسےشاہ خالد سلیمان موجود تھے آپ کی تدفین برصغیر کے نامور بزرگ حضرت میان میر رح کے قبرستان لاہور میں کی گئی تدفین میں آپ کے تینوں بھائیوں شاہ بشیر عالم مرحوم ایڈوکیٹ شاہ جمیل عالم مرحوم سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل ،شاہ صغیرعالم مرحوم اور صاحبزادگان لیفٹنٹ جنرل شاہ رفیع عالم مرحوم ، شاہ عارف عالم اور شاہ جلیل عالم مرحوم اور خاندان کے دیگر افراد میں شاہ فیاض عالم مرحوم ،شاہ احمد سلیمان مرحوم.شاہ حامد سلیمان مرحوم. ارشد حمید مرحوم ، شاہ نصیر عالم مرحوم ، شاہ خلیل اللہ مرحوم ، شاہ جعفرعالم مرحوم ، شاہ منصور عالم مرحوم .جمیل انصاری مرحوم اور شاہ خالد سلیمان سمیت خاندان کے دیگرافراد شریک تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں