ماوں بہنوں کی چیخیں سنیے


پولیس کے دبنگ اور جناب وزیراعظم پاکستان کے پسندیدہ آفیسر سی سی پی او لاہور محترم عمر شیخ کے بیان سے عام تاثر یہ ابھرا ہے کہ اگر کوٸی خاتون رات کے وقت موٹروے پر بچوں کے ساتھ سفر کرے یا کار میں پیٹرول ختم ہو جاٸے تو اس کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کی ذمہ داری اس خاتون پر ہوگی نہ کہ پولیس پر یا ریپسٹ پر ۔

اسد عمر کا بیان سنیں تو وہ کہتے ہیں کہ آفیسر کے بیان پر اسکے خلاف قانونی کاروائی نہیں ہو سکتی کیونکہ اس نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ۔

میری اپنی ماوں بہنوں اور بیٹیوں سے اپیل ہے کہ وہ اب موٹر وے پر رات کو سفر نہ کریں ۔ ایسی کار استعمال کریں جس کا پیٹرول کبھی ختم نہ ہو ۔ کار کے شیشے ایسے ہوں کہ کوئی انہیں توڑ نہ سکے ۔ انجن ایسا ہو کہ کبھی خراب نہ ہو ۔ اگر کسی عورت نے ایسا کیا تو اس جنگلی معاشرے میں بھیڑیے آپ پر ٹوٹ پڑیں گے اور پولیس عدلیہ یا کوئی اور ادارہ آپ کی حمایت میں نہیں آئیگا کیونکہ قصور آپکا ہے ۔ آپ گھر سے کیوں نکلیں ۔

اب میری خاکی وردی والوں سے ایک اپیل ہے کہ آپ ہر اس کام میں مدد کو آ جاتے ہیں جہاں سمجھتے ہیں کہ سول اداروں کی کاکردگی خراب ہے ۔ اب یہاں بھی آپکی مدد کی ضرورت ہے ۔ خفیہ ایجینسیوں کی کارکردگی دکھانے کا وقت ہے ۔ ڈھونڈھ نکالیں اب مجرموں کو کیونکہ آپکے پاس وسائل ہیں ۔ یا تو اب ماوں بہنوں کو زلزلوں میں بھی مرنے دیں ۔ سیلاب اور بارشوں میں بھی ڈوبنے دیں کیونکہ اس موت میں انکی عزت تو محفوظ رہتی ہے یا پھر اپنی ہی سڑکوں پر اپنی ماوں بہنوں کی عزت بچانے کیلیے بھی کود پڑیں ۔ ریاست مدینہ کے داعی وزیراعظم آپ سے مدد نہیں بھی مانگ رہے تو بہنوں بیٹیوں کی چیخیں ہی سن لیجیے ۔ ان بچوں کی چیخیں ہی سن لیجیے جن کی ماں کی عزت انکی آنکھوں کے سامنے تار تار ہوگئی ۔ یاد رکھیے وہ وقت دور نہیں جب یہ چیخیں ہمیں اور آپکو لے ڈوبیں گی ۔ کیا فایدہ پھر ان بندوقوں اور ٹینکوں کا جن کے سایے تلے ہماری بہو بیٹیاں ہی محفوظ نہیں ۔

کیا پتہ کب یہ چیخیں آسمان پر آپ کی بھی شکایت لے پہنچیں ۔ پھر اپنے رب کو کیا جواب دیں گے ۔

برگیڈیربشیرآرائیں