مدفن خزینے.


(تحریر صائمہ نفیس)

دنیا ایک ایسےدور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ بزرگ افراد کی تعداد بچوں کی تعداد سےزیادہ ہو گئی ہے. عمر میں اضافہ ہونا دراصل انسانیت کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے. اور آبادی میں بزرگ افراد کی تعداد میں اضافہ فرحت اور خوشی ہے. یہ تبدیلی افراد، خاندانوں، معاشروں اور عالمی برادری کے لیے لامتناہی مواقعوں کے ساتھ ساتھ بے شمار مشکلات و مسائل کی عکاسی بھی کرتا ہے.
دنیا بھر میں ہر سیکنڈ میں 2 افراد اپنی ساٹھویں سالگِرہ مناتے ہیں. جس کی وجہ سے دنیا میں مجموعی طور پر ہر9 میں سے ایک فرد 60 برس سے زائد عمر کا ہے اور سال 2050ء تک 60 سال سے زائد عمر افراد کی تعداد 15 سال سے کم عمر بچوں سے بڑھ جائے گی.
پاکستان دنیا میں آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے اور یہ ان 15 ملکوں میں شامل ہے. جہاں 60 سے زائد عمر کے افراد کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہے. اس بات کا تخمینہ لگایا گیا ہے کہ پاکستان کی کل آبادی کا 7 فیصد 60 سال سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے کیونکہ بزرگوں کی تعداد ہمارے ملک میں 1کروڑ 14 لاکھ ہے اور یہ تعداد 2050 ء تک بڑھ کر 4 کروڑ 33لاکھ ہو جائے گی.
دنیا بھر کے مختلف ممالک بزرگ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کر رہے ہیں. پاکستان میں بھی قانون سازی کا عمل شروع کیا گیا ہے.
2014ء میں صوبہ خیبر پختونخواہ اور 2016ء میں صوبہ سندھ میں بزرگ شہریوں کے حقوق کے لئے قانون سازی کی گئی. پاکستان میں ہیلپ ایج انڑنیشنل جرمنی کی وفاقی وزرات اقتصادی تعاون وترقی اور ہیلپ ایج جرمنی کے تعاون سے حکومت سندھ اور حکومت خیبرپختونخواہ کو بزرگ شہریوں کے منظور شدہ ایکٹ پر عمل درآمد کرنے میں تعاون اور مدد فراہم کر رہا ہے.
بزرگ افراد کے حقوق کی بات کریں تو ان افراد کو اس بڑھتی عمر میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان مسائل کی نشاندہی اور بہترین تدارک پیش کرنا ہے. گو کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے مگر معاشرے میں فعال فلاحی ادارے بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور اب وقت کی ایک اہم ضرورت ہے کہ جہاں یہ فلاحی ادارے اپنا کام بخوبی کر رہے ہیں حکومتی سطح پر پر بھی ان کی سر پرستی کی جائے اور بزرگ افراد کے چند ایسے خاص خاص مسائل کو فوری طور پر مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے جن میں چند ایک کی نشاندہی یہاں کی جارہی ہے.
بزرگ افراد کو صحت کارڈ جاری کیا جائے. جس پر انہیں یہ سہولت حاصل ہو کہ وہ بڑھتی عمر میں درپیش صحت کے مسائل میں اس کارڈ سے مستفید ہو سکیں. جیسے ادویات کی خریداری میں قیمتوں میں خصوصی کمی.
ہسپتالوں میں ان کے لیے خصوصی ڈیسک اور کاونٹر بنائے جائیں.
بس اسٹاپ پر ریمپ بنائے جائیں پبلک ٹرانسپورٹ میں ان کے لیے کچھ نشستیں مخصوص کی جائیں. ہوائی سفر، ریلوے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں کرایوں میں خصوصی رعایت دی جائے. پارکس، سینما گھروں اور مالز میں ان کے لیے خصوصی پورشن مختص کیے جائیں ان کے لیے شہروں میں جگہ جگہ لائبریری اور کلب کا قیام کیے جائیں .جہاں وہ اپنی عمر کے مطابق ورزش اور مختلف کھیل کھیل سکیں.
بزرگ افراد کے شیلٹر ہومز قائم کیے جائیں جو تما م بنیادی سہولیات سے مزین ہوں جن میں معیاری خوراک، ہسپتا ل، لابیریری،ان ڈور گیمز اور ان کی عبادت گاہ موجود ہو.
وہ بزرگ افراد جو جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہوں اور کام کرنے خواہشمند ہوں ان کے لیے کام کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں.
اگر بزرگ افراد کی صحت کا خیال رکھیں گے تو وہ ناصرف مزید پیچیدگیوں میں جانے سے بچ جائیں گے بلکہ معذوری سے بھی بچے رہیں گے.
حکومتی سطح پر ایسے پروگرام مرتب کیے جانے چاہئیں جن میں بزرگ افراد کے تجربات اور کارناموں کو نئی نسل کے سامنے لایا جاسکے اس سے بزرگ افراد کو احساس برتری اور نوجوان نسل کو رانماہی حاصل ہوگی.سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا پر ان کے لیے خصوصی پروگرام نشر ہونے چاہئیں.
ہمارے بزرگ افراد ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہیں یہ وہ خزانہ ہیں جن میں ان کی زندگیوں کے تجربات کا نچوڑ اور ان کی کارکردگی کے تمام مثبت اور منفی اثرات مدفن ہیں نئ نسل اپنے طور پر تجربات کرنے کے بجائے اپنے بزرگوں کے تجربات کو سامنے رکھ کر اپنے سفر کو آسان اور کامیاب بنا سکتی ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہوگا جب ان خزانوں ان بزرگوں کو اہمیت دیں گے ان کا خیال رکھیں گے ان کی خدمت کریں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا احترام، ان کی تعظیم اور ان سے محبت کریں گے. یہ ہماری روایات کا حصہ بھی ہے اور ہمارے دین کی پیروی بھی.
تو آئیے1 اکتوبر جب پوری دنیا میں بزرگوں کا دن منایا جائے تو ہم بھی اپنے پورے ملک کے بزرگوں کا دن ان کے ساتھ منا کر انہیں یہ یقین دلایں کہ بزرگ افراد ہم سب کے لیے بہت اہم ہیں یہ ہستیاں ہمارے مدارس بھی ہیں، ہماری یونیورسٹیاں بھی ہیں، ہمارے راہبر بھی ہیں، اور ہماری دعاوں کی رحمت بھری ردا بھی. اس دن کھلنے والا ہر پھول میرے وطن کے بزرگوں کے نام……….