126

نمک کی تیاری کا کام گزشتہ کئی صدیوں سے روایتی صنعت کے کیا جارہا ہے – بلوچستان سے ہجرت کرکے کراچی آنے والے بلوچوں نے ماری پور کے ساحل پر نمک بنانے کا کاروبار شروع کیا

رپورٹ… شاہ ولی اللہ

کراچی کے ساحلی علاقوں میں سمندری نمک کی تیاری کا کام گزشتہ کئی صدیوں سے روایتی صنعت کے کیا جارہا ہے برطانوی دورمیں نمک سازی کوصنعت کا درجہ حاصل تھا کراچی میں برطانوی شہری کیپٹن ماری چیف سالٹ ریونیو آفیسر کے طور پر تعینات تھا گمان غالب ہے کہ ماری پور روڈ کا نام کیپٹن ماری کے نام سے موسوم ہے1890میں بلوچستان سے ہجرت کرکے کراچی آنے والے بلوچوں نے ماری پور کے ساحل پر نمک بنانے کا کاروبار شروع کیا تھا برطانوی دور میں نمک سازی پر بھاری ٹیکس عائد کردیا گیا کراچی تاریخ کے آئینہ کے مصنف عثمان دموہی لکھتے ہین کہ 1930میں ایک جرمن نزاد یہودی گرین فیلڈ گریس نامی کمپنی کو یہاں کارخانہ بنانے کی اجازت دی گئی تھی اس کے بعد مزدوروں کی ایک کالونی گریکس کے نام سے قائم ہوگئی اور اس طرح آہستہ آہستہ ہاکس بے، سینڈس پٹ پر سمندری پانی سے نمک تیار کرنے کے کئی کارخانے قائم ہوگئے یہ کارخانے یورپی باشندوں اور پارسیوں کی ملکیت ہوا کرتے تھے اور ذکری بلوچ قوم سے تعلق رکھنے والے افراد یہاں نمک بنانے کے کام سے جڑے ہوئے تھے پارسی بزنس مین رستم جی مہتا نے بھی کراچی سالٹ ورکس کے نام سے یہان نمک کشید کرنے کا کارخانہ لگا تھا کراچی سے تیارکیا جانے والا سمندری نمک بنگال اور وسطی ایشائی ممالک میں جاتا تھا برطانوی راج میں سمندری نمک مائی کلاچی روڈ موجودہ مولوی تمیز الدین خان روڈ پر بھی خشک کیا جاتا تھا جبکہ عروس البلاد کراچی کے مصنف سید عارف شاہ گیلانی علیگ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ 1930 میں مہاتما گاندھی نے احمد آباد کے قریب دریائے سامبرتی کے کنارے ڈانڈی کے مقام پر چڑھائی کرکے نمک بنایا تھا اور انھیں اس جرم میں گرفتار کرلیا گیا تھا جس پر سول نافرمانی کرکے کراچی کے باشندوں نے کوئنز روڈ پر ہزاروں من نمک بنایا تھا الغرض کراچی کے ساحلی علاقوں ابراہیم حیدری، سینٹ پٹ ، ہاکس بے میں ان دنوں بھی نمک سازی کا کام زور شور سے جاری ہے، ساحل کے کنارے نمک سازی کے لئے مٹی کے اونچے اونچے تالاب بنائے گئے ہیں ان تالابون کو سمندری پانی سے بھرا جاتا ہے نمک تیار ہونے کے مختلف مراحل تک پانی کے لیول کو 3 انچ تک رکھا جاتا ہے اگر پانی کا لیول ڈیڑھ انچ تک کم ہوجائے تو نمک کی بجائے تیزاب بن جاتا ہے نمک بنانے کے لیے جو زیرزمین پانی استعمال ہوتا ہے۔

یہ پانی سمندر کے پانی سے چار گنا زیادہ نمکین اور گاڑھا ہوتا ہے اور 30 ڈگری پر نمک تیار کیا جاتا ہے تالاب میں جمع شدہ پانی کو مختلف کیمیائی مراحل سے گذار کرپانی کی واپس سمندر میں نکاسی کردی جاتی ہے اور اس عمل کے بعد حاصل ہونے والے نمک کو سورج کی شعاوں سے خشک کیا جاتا ہے ایک محتاط اندازہ کے مطابق تین سے چار لیٹرسمندری پانی سے پانچ فیصد نمک حاصل ہوتا ہے نمک کی تیاری میں موسم کا بڑاعمل دخل ہوتاہے۔ سخت گرمیوں میں 15 دن، سردیوں میں ایک سے دو ماہ جبکہ نارمل موسم میں ایک مہینے کےاندر یہ عمل مکمل ہوکر نمک تیارہوجاتا ہے سمندری نمک کی کراچی میں یومیہ سو سے ڈیڑھ سو ٹن پیداوار ہے جس کو ملک اور بیروں ملک فروخت کیا جاتا ہے کراچی میں تیار ہونے والا سمندری نمک چمڑے اور کپڑوں کی رنگائی فیکٹریوں اور برف بنانے والےکارخانوں کوفروخت کیا جاتا ہے جبکہ 15سے10 فیصد سمندری نمک گھریلو استعمال میں آتا ہے سمندری نمک کی تیاری کے لئے نہ بجلی اور نہ ہی گیس کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان نمک کی عالمی منڈی میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت نمک سازی کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کو صنعت کا درجہ دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں