قران کی تعلیمات کو اپناء لیں،جرائم ختم ہوجائینگے

وطن عزیز سانحات کا ملک ہے، گزشتہ ستر سالوں سے زائد عمر کے اس ملک میں سانحہ پر سنانحہ ہوتا رہتا ہے بیان بازیاں باری ، نوٹس لینے کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے، جسکی بھی حکومت ہو وہ سانحات پر قابو پانے اور کوئی دیرپہ حل نکلانے سے قاصر ہوتا ہے اسکے بے تدبیر یہ وزیر اونٹ پنٹاگ بیان بازی کرکے حزب اختلا ف کو یہ موقع دیتے ہین کہ ”’ کچھ ہم بولے ، کچھ تم بولو “اس اثناء میٰں سانحہ کا شکار افراد یہ تماشہ دیکھ کر اپنی موت کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں اللہ اس ناشکری اور گناۂ گار قوم کی دعا اسطرح سنتاہے سانحہ کا شکار فرد یا افراد زندہ تو رہتے ہیں مگر کوئی دوسرا سانحہ رونماء ہوجاتا ہے اور یہ ڈرامہ وہیں سے شروع ہوجاتاہے جہاں سے چھوڑا تھا ، آج ایک پاکستانی نثراد فرانسیسی خاتون پر اس معاشرے پر حاوی مردوں کی دنیا کے چند افراد نے افتادہ ڈھادی، یہ پاکستان میں کسی خاتون پر ڈھائے جانے والی کوئی پہلی افتادہ نہیں پاکستان کے ہر شہر میں یہ واقعات رونماء ہوتے ہیں، دل کو یہ افتادہ جب زور سے زور دھڑکاتی ہے جب اسکا شکار کوئی چار سالہ، سات سالہ بچی ہو،نہ صرف اسکے ساتھ ذیادتی بلکہ بعد میں اسے قتل بھی کردیا جاتا ہے والدین کی دنیا اجڑ جاتی ہے، اگر تحقیقات ہو بھی جائے تو قرعہ فعال کسی چچا، ماموں، کزن ، پڑوسی کے نام نکلتا ہے، شور و و غو غا کو دبانے کیلئے چند دن جیل پھر ضمانت ، ضمانت پر یاد آیا ، یہاں تو عدالتی نظام اتنا کمزور اور گھناونا ہے کہ جج خاندانی جھگڑوں پر فیصلہ صادر کرتے ہین اور مقدمہ کی سماعت کے بعد خاتون کو اپنے چمبر میں لیجا کر اس پر درندے کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں اب وہ شنوائی کیلئے کہاں جائے ؟؟جج نے تو فیصلہ صادر کردیا ، اسکی شکائت ہو نہیں سکتی چونکہ ہمارے معاشرے نے کچھ شعبوں اور انکے افراد کو ”مقدس گائے“ بنا دیا ، اسکے متعلق نہ کچھ بولو نہ سوچو،ہمارے معاشرے نے عورت کو اشرف ومخلوقات نہیں بلکہ جنس اور چیز سمجھا ہوا ہے ، جاگیر دارآنہ نظام میں وہ سب کچھ ہوتا ہے جسکی شکائت بھی نہیں ہوسکتی شہروں میں آجائیں تو معتبر لوگ رشوت میں “سکہ رائیج الوقت “ نہیں بلکہ خواتین کی زلفوں کے اسیر بنائے جا تے ہیں، نہ رشورت بلکہ کسی کو بلیک میل کرنے کیلئے بھی نوجوان خواتین کا ہی اہتمام کیا جاتا ہے یہ کہانیان نہیں بلکہ ہم سمیت دنیا کے کئی معاشروں کی حقیقت ہیں، یہاں تک کہ مرد جب گالی بکتاہے اس میں بھی ”ماں اور بہن“ کا ہی لفظ استعمال ہوتا ہے، جرائم تو دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن عدم تحفظ کا حساس جس قدر یہاں ہے، شاید کہیں اور ہو۔ کمزور طبقات اور گروہوں میں خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ خواتین کے معاملے میں مغرب بہت زیادہ حساس ہے۔ جو معاشرہ اپنی خواتین اور بچیوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، وہاں اخلاقیات کا کوئی نظام مضبوط نہیں کر سکتا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ واردات کے مرتکب ملزمان کو واردات کیلئے اطلاعات پولیس کے اندر سے فراہم کی جاتی ہیں، جب ایک معمولی پولیس افسر کے گھر سے کروڑوں روپیہ او ر ڈالر ملیں تو وہ پولیس کس کام کی ؟؟؟ کیونکہ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ہونے والی واردات کی متاثرہ خاتون نے 2فون کئے، ایک اپنے عزیز کو اور دوسرا ہیلپ لائن پر۔ یہاں سوال یہ ہے کہ موٹروے ہیلپ لائن پر تعینات عملے کو شامل تفتیش کیوں نہ کیا گیا اور یہ کہ ملزمان
موٹرسائیکل پر کیسے ٹال پلازہ عبور کر کے جائے واردات تک پہنچے؟ یہ وہ دوتین سوالات ہیں جو اس خدشے کو تقویت دے رہے ہیں کہ ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں اور کسی بھی وقت انہیں پولیس مقابلہ میں ”پار”کرکے باقی کے معاملات پر مٹی ڈال دی جائے گی تاکہ اصل سرپرست اطلاعات دینے والے اور حصہ دار کردار محفوظ ہوسکیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انصاف ہوتا ہے دو افراد میں سے ایک وقارالحسن نے لاہور کی مقامی عدالت میں گرفتاری دیتے ہوئے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ اس کا ڈی این اے کروایا جائے تاکہ پولیس کا جھوٹ واضع ہو۔اسطرح کے واقعات تو وطن عزیز پر ہوتے رہتے ہیں مگر اس واقع میں سونے پر سہاگاہ کا کام تحریک انصاف کے ”لاڈلے ‘ اور ایک جونیئرPARMOTImg سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا یہ بیان کہ رات کو دیر گئے خاتون اکیلی کیوں گئیں اور انہوں نے موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ پر سفر کیوں نہیں کیا، ایک مائنڈ سیٹ کی نشاندہی کرتا ہے۔ سی سی پی او کے بیان پر یہ تنقید اس لئے ہو رہی ہے کہ تحفظ فراہم کرنے والا اگر ایسی باتیں کرے گا تو پھر وہ تحفظ کیسے فراہم کر سکے گا۔ یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے کہ عورت کو اکیلے گھر سے نہیں نکلنا چاہئے۔ اکیلی عورت خود اپنے اوپر مجرمانہ حملہ کرانے کی ذمہ دار ہے۔ اس مائنڈ سیٹ پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے حکمراں کم از کم اس CCPOکو انکوائری مکمل ہونے تک معطل ہی کر دیتے! مگر وہاں بھی نااہلوں کی ایک فوج ظفر موج ہے چونکہ اس تعنیاتی کی منظوری اعلی ترین عہدے دار کی آشیر باد سے ہوئی ہے اسلئے وہ بھی سینہ ٹھوک کر سی سی پی کی حمائت میں نہائت ڈھٹائی سے نکل کھڑے ہوئے اس سے یہ اندازہ بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہوگا کچھ نہیں، خواتین کی بے حرمتی اسکے بچوں کے سامنے کرنے کا شائد ان درندوں کی بدبو دار روح کو شائد مزید تسکین پہنچا تا ہو، قارئین کو بنگلہ دیش کی مشہور فلمی اداکار ہ شبنم کا قصہ یاد ہو ، انکے کیس میں ایسا ہی تھا شبنم کے بچوں کو باندھ کر انکی ماں کی بے حرتی کی گئی، جئیوے جیو ے پاکستان گانے والی سحر کن آواز ملک چھوڑ کر چلی گئی۔یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ یہ واقع نہ شبنم کے دل سے جائیگا نہ اسکے بچوں کے دل سے تاحیات جائے گا۔ قیامت بپا کرنے والے رہا ہوگئے، اور وہ آج موجودہ حکومت کے رکن قومی اسمبلی ہیں اور عدالتوں کو اور پاکستان کے قانون کو منہ چڑا رہے ہیں۔ ہمارے فوجی آمر پرویز مشرف سمیت کئی سیاست دان ریپ کیسیز پر بہت ہی افسوسناک آراء رکھتے ہیں پرویز مشرف کے دور میں مختارہ مائی کیس میں جب حکومت کو خطرہ ہوا کہ مختارہ مائی ملک سے باہر جاکر کسی وقت ہمارے سسٹم کامذاق اڑائے گی تو اسکا پاسپورٹ ضبط کرلیا، جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو موصوف نے جواب دیا کہ یہ تو بزنس بن چکا ہے، جس کسی نے بھی کینیڈا کا ویزا لگوانا ہو یا ڈالر کمانے ہوں، وہ گینگ ریپ کا الزام لگا کر سب کچھ پا لیتا ہے۔آج کے دور میں بھی جب عورت کی آزادی کسی حد تک مل گئی ہے، اگر واقعی عورتوں کو ہراساں کرنے ، زیادتی کرنے، بچوں کو اغواء اور زیادتی کرنے کے کے معاملات جو پاکستان کی ریاست سہی مگر ہمارا آئین کہتا ہے کہ ہم اایک اسلامی ریاست ہیں جہاں یہ واقعات جو یقینا دہشت گردی میں شمار ہوتے ہیں ان پر وا قعی ٹامک ٹویاں مارنے کے بجائے واقع ہمارے آئین پر یقنی طور پرکرنے سے یہ معاملات رک سکتے ہیں، اس معاشرے میں عدالتی نظام درست نہ ہوں، سیاست دانوں، حکومت ، حزب اختلاف میں اقرباء پروری بھر پور انداز میں ہو وہاں آئین کی شقوں پر آنکھیں بند ہوجاتی ہیں اور اس قسم کے شرم انگیز واقعات نہ صرف جنم لیتے ہیں،بلکہ اضافہ ہوتا ہے ، آج ہمارے ملک میں اسطرح کے افسوسناک واقعات بڑی تعداد میں بڑھ چکے ہیں اسکی وجہ مندرجہ بالا بیان کئی گئی وجوہات اور یہ جو انٹر نیٹ اور موبائل فون کے ذریعے انسان کی بے دردی اور بے رحمی کے منظر ہمارے گھروں کے اندر آگئے ہیں۔کہیں
کسی کو سنگسار کیا جارہا ہے،کہیں کسی کی گردن اتاری جارہی ہے،کہیں لوگ کٹے ہوئے سروں سے فٹ بال کھیل رہے ہیں۔ یہ تصاویر اور فلمیٰں ناتواں ذہنوں کو دہشت گرد اور سفاک بناتی ہیں عدالتوں میٰں اگر مقدمہ لیکر جاؤ تو وہاں راجسٹرار کی سیڑھی سے رشوت شروع ہوتی ہے اور بہت آگے تک جاتی ہے اسکے باوجود بھی عدالتیں ریپ جیسے سنگین جرم میں بھی راضی نامہ کرنے پر دور دیتی ہیں ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم تباہ و برباد ہو چکا ہے بلکہ اگر سچ پوچھا جائے تو یہ کریمنل جسٹس سسٹم مجرموں، درندوں اور ظالموں کے تحفظ اور اُنہیں مضبوط بنانے کے لئے کام کرتا ہے، جیسے سانحہ موٹروے کے ملزموں کے ماضی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اوپر سے ایک ظلم دیکھیں کہ جب کوئی درندہ پکڑا جاتا ہے تو انسانی حقوق والے، این جی اوز، انسانی حقوق کے نام پر ایسے درندوں کے ہمدرد بن کر باہر نکل آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کو سرعام پھانسی نہ دو کیوں کہ ان درندوں کی dignityیعنی اُن کے وقار کو ٹھیس پہنچے گی۔سعودی عرب میں جرائم کی کمی کی وجہ مضبوط اور طاقتور پولیس ڈیپارٹمنٹ اور سادہ عدالتی نظام ہے۔ ہمارے ملک میں انتظامی ادارے بُری طرح تنزل کا شکار ہیں، اُن کی کارکردگی قابل رحم حد تک افسوس ناک ہے اور عدالتی نظام انصاف مہیا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدالتیں پولیس کو ادھوری تفتیش، شکوک شواہد وغیرہ کا الزام دیتی ہیں اور پولیس عدالتوں کو مورد الزام ٹھہراتی ہے۔ دو ملاؤں کے درمیان عوام کی مرغی ذبح ہو رہی ہے اور ساری قوم مایوسی اور دل گرفتگی سے قومی منظر دیکھ رہی ہے، حالیہ واقع میں اللہ کرے کہ دیگر معاملات کی طرح اسکی فائل جلد بند ہوجائے، وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے معاملے کی سنگینی کو جانتے ہوئے ”نئی سزا“ لاگو کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، ابھی اس پر مولیوں کے بیانات آنا باقی ہیں چونکہ وہا ں بھی ہجرے ”آباد“ ہوتے ہیں وہ مولوی جو مولوی کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں انکے ہجروں سے ننھی چیخوں کی آواز ایک زمانے سے آرہی ہے۔ اسلام نے جو سزائیں تجویز کی ہیں قران کو مشعل راہ بنا لیں تو نہ یہ واقعات ہونگے، اور نہ مجرموں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

امیر محمد خان