وفاقی محتسب کی ششماہی کارگزاری

وفاقی محتسب سید طاہر شہباز نے ایوان صدر میں منعقدہ ”محتسبین کانفرنس“ کے دوران اعداد و شمار کے حوالے سے جو ششماہی رپورٹ کی وہ اس ادارے کی مثالی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ وفاقی محتسب میں شکایات کا اندراج معمول کے مطابق جاری ہے اور کرونا کی وجہ سے نہ صرف وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کا کام متاثر نہیں ہوا بلکہ گزشتہ برس کے ابتدائی چھ ماہ کے مقابلے میں اس سال شکایات میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ برس 2019ءکے پہلے چھ ماہ کے دوران 34151 شکایات موصول ہوئی تھیں جبکہ جنوری سے پہلے آنے والی شکایات سمیت 35895 شکایات کے فیصلے کئے گئے تھے۔ اس سال یکم جنوری سے 30 جون 2020ءتک 47285 شکایات موصول ہوئیں جب کہ 41071 شکایات کے فیصلے کئے گئے ۔ سب سے زیادہ شکایات بجلی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف تھیں جن کی تعداد 412 ، 15 بنتی ہے ۔ ان میں سے 13,826 شکایات کے فیصلے کئے گئے۔ سوئی گیس کے خلاف 6114 شکایات موصول ہوئیں اور جنوری سے قبل آنے والی شکایات سمیت 6553 شکایات کے فیصلے ہوئے ۔ ان اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کے افسران اور عملے کے افراد کتنی مستعدی اور لگن کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دس ادارے جن کے خلاف سب سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں ان میں نادرا، پاکستان پوسٹ آفس، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، پاکستان بیت المال ، پاکستان ریلوے، اسٹیٹ لائف انشورنس، بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام، آئی بی اور ای او بی آئی شامل ہیں۔
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وفاقی محتسب کی کارکردگی اور رفتار کار کو سراہتے ہوئے اس کے دائرہ کو وسعت دینے اور عوامی آگاہی اور شکایات کنندگان کو مزید سہولیات فراہم کرنے کے لئے سوشل میڈیا اور دیگر جدید تکنیکوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کرونا کے سبب تمام دفاتر حتیٰ کہ نجی اداروں میں بھی کام متاثر ہوا۔ تاہم وفاقی محتسب میں نہ صرف شکایات میں اضافہ ہوا بلکہ ریکارڈ فیصلے کئے گئے کیونکہ وفاقی محتسب سیکریٹریٹ میں سکائپ، IMO اور انسٹا گرام پر شکایات کی سماعت تو گزشتہ برس ہی شروع کردی گئی جس میں شکایات کنندگان گھر بیٹھے سماعت میںشامل ہوسکتے ہیں اور انہیں سفر کی صعوبت اٹھانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تاہم وفاقی محتسب کے اس فیصلے کا حقیقی فائدہ کروانا کے باعث لاک ڈاﺅن کے دوران میں ہوا چنانچہ کرونا کے دوران آن لائن سماعت کو ترجیح دینے کا فیصلہ ہوا اور وفاقی محتسب سید طاہر شہباز کی ہدایت پر لاک ڈاﺅن کے دوران ایسی حکمت عملی اختیار کی گئی جس سے کام متاثر نہیں ہوا۔
خاران( بلوچستان )میں وفاقی محتسب کے نئے علاقائی دفتر کا افتتاح ہوا۔ جس سے بلوچستان کے دروازے کے علاقے کے لوگو ں کو اپنے گھر کے قریب ریلیف ملے گا۔ قبل ازیں وفاقی محتسب کے 13 علاقائی دفاتر کوئٹہ، پشاور ، لاہور، کراچی ، ملتان ایبٹ آباد، ڈیرہ غازی خان، گوجرانوالہ، اسلام آباد، سکھر، حیدرآباد، بہاولپور اور فیصل آباد میں کام کررہے تھے۔ خاران میں نئے دفتر کے قیام کے بعد وفاقی محتسب کے ملک بھر میں علاقائی دفاتر کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔
وفاقی محتسب نے شکایات کے فوری ازالہ کے لئے تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کررکھی ہے کہ وہ ادارہ جاتی سطح پر شکایات کو حل کرنے کا نظام و ضع کریں تاکہ چھوٹے موٹے مسائل وہیں حل ہوجائیں چنانچہ بیشتر وفاقی اداروں نے اپنے ہاں شکایات سیل قائم کر رکھے ہیں جہاں کوئی بھی شخص اپنے ادارے کے خلاف شکایت درج کراسکتا ہے جو دوہرے کمپیوٹرائزڈ نظام میں شامل ہوجاتی ہے ، اگر ادارے کی سطح پر یہ شکایات 30دن میں حل نہ ہوں تو وہ ایک خود کار نظام کے تحت وفاقی محتسب کے کمپیوٹرزائڈ سسٹم پر منتقل ہوجاتی ہیں اور وفاقی محتسب سیکریٹریٹ میں ان پر کارروائی شروع ہوجاتی ہے ، اس مقصد کے لئے وفاقی حکومت کے 188 اداروں کی طرف سے اپنے فوکل پرسن مقرر کئے گئے ہیں جب کہ 175 ادارے وفاقی محتسب کے کمپیوٹرائزڈ نظام سے مستقلاً منسلک ہوچکے ہیں ۔
وفاقی محتسب نے اپنے آپ کو صرف شکایات کے فیصلوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف اداروں کے نظام کی اصلاح کے لئے متعلقہ شعبوں کی نامور شخصیات کی سربراہی میں 26 کمیٹیاں بھی تشکیل دیں۔ ان کمیٹیوں نے دیگر محکموں کے علاوہ نادرا، پاکستان پوسٹ، ریلوے، ادارہ، قومی بچت، بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل، سرکاری ملازمین کی پینشن کے مسائل اور جیل خانہ جات کے حوالے سے سفارشات مرتب کیں جن پر سختی سے عمل درآمد کے باعث بہت سے مسائل حل ہوئے اور ابھی تک ہورہے ہیں۔ ان ہی میں ایک کمیٹی جیل خانہ جات کی اصلاح اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں بھی تھی۔ وفاقی محتسب کی اس کمیٹی نے ملک بھر کی جیلوں کے دورے کرکے وہاں قیدیوں کی حالت زار کا مشاہدہ کیا اور پھر بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے جیلوں کے نظام کی اصلاح کے لئے سفارشات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی اٹھائے جن میں مخیر حضرات اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر قیدیوں کے لئے جیلوں کے اندر سہولیات فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ ایسے قیدیوں کا جرمانہ، ویت، دامن اور بارش کی رقم ادا کرکے چھوٹی عید سے قبل ان کو رہائی دلوائی گئی جو صرف جرمانہ کی رقم نہ ہونے کے سبب پس دیوار زنداں پڑے تھے۔ دیگر صوبوں کے علاوہ سال 2019ءمیں صرف پنجاب کی جیلوں سے 865 قیدیوں کو رہائی ملی جن کے لئے تقریباً27 کروڑ روپے ادا کئے گئے ۔
وفاقی محتسب نے مختلف یونیورسٹیوں ، تعلیمی اداروں کے تعاون سے قیدیوں کے لئے مفت تعلیم کا بندوبست بھی کیا جس کے نتیجے میں خیبرپختونخواہ میں جنوری 2019ءسے مارچ2020ءتک 578 قیدی مختلف درجات کے تعلیمی امتحانات میں پاس ہوئے۔ 122 قیدیوں نے دینی تعلیم حاصل کرکے سندیں اور سرٹیفکیٹس لئے ۔ صوبہ پنجاب میں میں گزشتہ برسوں میں تقریباً1514 قیدیوں نے ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحانات دیئے۔ اسی طرح 15213 قیدیوں بشمول خواتین اور بچوں نے الیکٹریشن ، موٹروائنڈنگ، پلمبرنگ اور کمپیوٹر سے متعلق تکنیکی تعلیم کے مختلف کورس مکمل کئے ۔ صوبہ سندھ کی مختلف جیلوں میں بھی قیدیوں کو قالین بافی، ٹیکسٹائل، کمپیوٹر ، کپڑوں کی سلائی اور دیگر فنون سکھانے کے عمل سے گزارا جارہا ہے تاکہ رہائی پانے کے بعد وہ اپنا روزگار باآسانی تلاش کرسکیں۔ اس وقت تقریباً85 لاکھ پاکستانی بیرون ملک کام کررہے ہیں چنانچہ ان کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی محتسب نے اپنے سیکریٹریٹ میں باقاعدہ ایک الگ شعبہ قائم کررکھا ہے جو کافی عرصے سے مصروف کار ہے ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لئے وفاقی محتسب نے پاکستان کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پرون ونڈوڈیسک قائم کئے ہیں جہاں بیرون ملک پاکستان سے متعلق 12 سرکاری محکموں کے افسران چوبیس گھنٹے موجود رہتے ہیں اور مسافروں کی شکایات کو موقع پر ہی حل کردیا جاتا ہے ۔ وفاقی محتسب نے پاکستان کے تمام سفارتخانوں کو بھی ہدایت کررکھی ہے کہ پاکستان کے سفیر ہفتے میں ایک دن بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے مختص کریں اور ان کی شکایات سن کر ان کا فوری ازالہ کریں۔ اس سلسلے میں ہر سفارشات خانے کی طرف سے وفاقی محتسب کو ہر ماہ ایک مفصل رپورٹ بھی ارسال کی جاتی ہے ۔
حال ہی میں بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے ”پاکستان اوریجنل کارڈ“ پر فنگر پرنٹس کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی اور اس پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں تقریباً پونے دو لاکھ ”کارڈہولڈرز“ اپنے وطن میں آنے پر بآسانی بینک اکاﺅنٹ کھول سکیں گے ۔ جائیداد خرید سکیں گے نیز ان کے Data Matching دیگر تمام مسائل بھی حل ہوجائیں گے ۔ اسی طرح ”ادارہ قومی بچت“ کے حوالے سے وفاقی محتسب کی کمیٹی نے جو اصلاحات تجویز کی تھیں ان کے نتیجے میں بہت سے شہروں میں کمپیوٹرائزڈ آٹومیشن سسٹم نے کام کرنا شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں سینئر سیٹیزن ، عورتوں اور عام شہریوں کو انتظار میں کھڑے ہو کر وقت ضائع نہیں کرنا پڑتا اور ان کا منافع خود کار سسٹم کے ذریعے ان کے اکاﺅنٹ میں جمع ہوجاتا ہے ۔ اب اس سہولت کو دیگر شہروں تک بھی پھیلایا جارہا ہے اور متعلقہ محکموں کے ساتھ وفاقی محتسب سیکریٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران طے پایا ہے کہ اگلے سال کے وسط تک یہ سہولت پورے ملک میں فراہم کردی جائے گی ۔
وفاقی محتسب سید طاہر شہباز ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ اپنے انویسٹی گیشن افسران، فیصلوںپر عملدرآمد کرانے والی ٹیم اور دیگر شعبہ جات کا اجلاس بلاتے ہیں اور ان سے ماہانہ کارکردگی کے بارے میں رپورٹ لیتے ہیں۔ ایسے ہی علاقائی دفاتر کے افسران سے بھی ماہانہ رپورٹ لی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وفاقی محتسب میں شکایات نمٹانے میں تاخیر نہیں ہوتی۔ اکثر شکایات کنندگان کا مسئلہ پہلی سماعت پر ہی یا پھر 30 دن اور 45 دن سے بھی قبل حل ہوجاتا ہے ، جبکہ ایسی بھی متعدد شکایات ہیں جن میں ایک ہفتے کے دوران ہی شکایت گزاران کو ریلیف مل گیا تاہم وفاقی محتسب سیکریٹریٹ میں ساٹھ دن سے زیادہ کوئی شکایت زیر التواءنہیں رہتی۔

تحریر: سید سلطان خلیل