پاکستان کرکٹ ڈھانچہ مؤثر بنانے کی ضرورت

پاکستان کرکٹ ڈھانچہ مؤثر بنانے کی ضرورت
جمعرات 17 ستمبر 2020ء
– میرا خواب ہے آئندہ ورلڈکپ میں پاکستان کا ٹیلنٹ نظر آئے ۔وزیراعظم
– کھلاڑیوں پر بہتر توجہ مرکوز رکھ کر انہیں عالمی معیار کا کھلاڑی بنایا جا سکے


طارق اقبال سے

چیئرمین پی سی بی‘ چیف ایگزیکٹو ‘ تین سابق اور ایک موجودہ کپتان نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے’ پاکستان میں اداروں کی کرکٹ اور کھلاڑیوں بارے اہم فیصلے کے لئے ملاقات کی ہے جس میں کرکٹ کی بہتری کے لئے کئی پہلوئوں پر غور کیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کرکٹ بحالی کے لئے دوررس فیصلے کیے جس سے امید قائم ہوئی تھی کہ پاکستان کرکٹ میں بہتری آئے گی کیونکہ حکومت نے اداروں کی ٹیمیں تحلیل کر کے صرف چھ ریجنل ٹیمیں تشکیل دی تھیں، جس کا مقصد یہ تھا کہ کم کھلاڑیوں پر بہتر توجہ مرکوز رکھ کر انہیں عالمی معیار کا کھلاڑی بنایا جا سکے گا۔ لیکن ان ٹیموں پر پی سی بی کے کنٹرول اور محدود سہولیات سے کھلاڑیوں کی وہ صلاحیتیںکھل کر سامنے نہ آ سکیں، جس کی توقع کی گئی تھی۔ ویسے بھی اداروں کی ٹیموں میں ایک ہزار کے قریب کھلاڑی موجود تھے جبکہ صوبائی ٹیموں میں سو کھلاڑی ہیں۔ صاف ظاہر ہے ایک ہزار کھلاڑیوں میں سے آپ کو کئی باصلاحیت کھلاڑی مل سکتے ہیں ۔
امید ہے کہ حالیہ ملاقات میں اس کا کوئی اچھا حل سامنے آئے گا۔پاکستان میں آسٹریلوی طرز کا ڈھانچہ صرف ریجنل کر کٹ سے نہیں لایا جا سکتا اختیارات بھی آسٹریلیا جیسے ہونے چاہئیں۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے دور کے نامور کھلاڑی تھے،امید ہے وہ کرکٹ کی بہتری کے لئے ایسے اقدامات کریں گے جس سے ہم کھویا ہوا مقام حاصل کر سکیں


وزیر اعظم عمران خان جو پی سی بی کے پیٹرن انچیف بھی ہیں، ان سے ملاقات کرنے والے تین سابق کپتانوں میں وسیم اکرم، مصباح الحق اور محمد حفیظ کے ہمراہ موجودہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی بھی شامل – ٹی 20 کرکٹ میں 2000 ہزار رنز اور 50 وکٹ لینے والے محمد حفیظ نے خصوصی درخواست کی تھی، محمد حفیظ ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈپارٹمنٹ کرکٹ کے ختم ہونے اور کرکٹرز کے روزگار کے لیے اہم گفتگو
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے خلاف ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اداروں کے بجائے ریجنز کی ٹیمیں ہونی چاہئیں اس سے مقابلے کی فضا بنتی ہے۔
اس سے قبل وزارت عظمیٰ کا عہدے سنبھالنے کے بعد اگست 2018 میں بھی ورلڈکپ 1992 کی فاتح ٹیم کے کھلاڑیوں نے وزیراعظم عمران خان نے ملاقات کی تھی اور اس ملاقات میں مرحوم عبدالقادر نے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی حمایت میں کھل کر بات کی تھی لیکن وزیراعظم عمران خان ان کی باتوں سے متفق نہیں تھے۔
میرا خواب ہے آئندہ ورلڈکپ میں پاکستان کا ٹیلنٹ نظر آئے ۔وزیراعظم کاکہنا تھا کہ مصباح الحق، اظہر علی اور محمد حفیظ کو سمجھایا ہے کہ نئے ڈومیسٹک سٹرکچر کیلئے اصلاحات میں مشکلات آئیں گی مگر اس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے ، کسی بھی سسٹم کو موثر بنانے کیلئے وقت درکار ہوتا ہے ۔وزیراعظم نے پی ٹی وی اور پی سی بی کے درمیان معاہدے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی وی نجی چینلز کیساتھ مقابلہ کرے گا تو لوگ فیس دینا چاہیں گے ، پی ٹی وی بہتر ہوگا تو فیس بھی بڑھا دیں گے