گیس پریشر میں کمی اور لوڈ مینجمنٹ کا بہانہ بنا کر کے الیکٹرک نے لوڈشیڈنگ بڑھا دی

کے الیکٹرک نے ایک مرتبہ پھر شہر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کر دیا ہے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے شہریوں نے شکایت کی ہے کہ کے الیکٹرک نے گیس پریشرمیں کمی اور لوڈ مینجمنٹ کا بہانہ بنا کر شہر کے مختلف علاقوں میں دن اور رات کے اوقات میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں اور تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں اس کے علاوہ گرمی میں اضافہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں جبکہ اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں بھی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی مہینے تک تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں یا بری طرح متاثر ہوئی اور اب جب کہ حکومتی سطح پر تعلیمی اداروں کو کھول دیا گیا ہے تو کے الیکٹرک کی جانب سے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سٹوڈنٹس کی تعلیمی سرگرمیاں مزید متاثر ہورہی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں نے شکایت کی ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ الیکٹرک کے رویے کو بہتر بنایا جائے اور اس کی لوڈ شیڈنگ کی وجوہات کی حقیقت کو چیک کیا جائے کہ کیا واقعی ہی ایسی صورتحال ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی نیپرا نے کے الیکٹرک کو غلط بیانی کی وجہ سے جرمانے کئے ہے اس لئے کہ الیکٹرک کا موقف اور ان کی بات پر کسی کو اعتبار نہیں وفاقی حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر کے الیکٹرک کے معاملات کو دیکھے اور شہر میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لیا جائے اور اس کو بند کرایا جائے شہریوں کو شکایت ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بڑے ادارے کے الیکٹرک کے خلاف خبریں نہیں دے رہے شاید یہ ان کی مارکیٹنگ پالیسی کا حصہ ہے لیکن شہر میں کے الیکٹرک کے ستائے ہوئے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے شہریوں میں کے الیکٹرک کے الزامات کے خلاف غم و غصہ بڑھتا ہے اکثر علاقوں میں احتجاج بھی کیا جاتا ہے لیکن مرکزی میڈیا پر اس کی کوریج نہیں ہوتی کے الیکٹرک کی انتظامیہ اپنی مارکیٹنگ پالیسی کے ذریعے میڈیا میں خبروں کو روک لیتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ سب معاملات ٹھیک ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور نیپرا کو کراچی کے شہریوں کی شکایات وصول کرنی چاہئے اور ان پر نوٹس لینا چاہیے اور کے الیکٹرک کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہئے اور اس کو پابند بنانا چاہیے کہ وہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرے اور اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجوہات بتائے اور اگر ٹھوس وجوہات سامنے نہ آئے تو پھر کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے شہریوں نے شکایت کی ہے کہ بارش کے دوران اور بارش کے بعد بھی کے الیکٹرک نے کئی علاقوں کو مسلسل اندھیرے میں ڈبوئے رکھا اور بارش کے سیزن میں شہریوں کو کے الیکٹرک کی جانب سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا

————
گورنرسندھ عمران اسماعیل سے کے الیکٹرک کے نئے چیئرمین شان عباس عشارے کی ملاقات
کراچی کے شہریوں کو بجلی کی تسلسل سے فراہمی ادارہ کی ذمہ داری ہے، ادارہ اپنی استعدا د کا ر میں اضافہ کرے، گورنرسندھ

کراچی ( ستمبر15 )
گورنرسندھ عمران اسماعیل سے کے الیکٹرک کے نئے چیئر مین شان عباس عشارے (Shan Abas Ashary)نے گورنر ہاﺅس میں ملاقات کی ۔ اس موقع پر کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر مونس عبداللہ علوی بھی موجود تھے۔ گورنرسندھ نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو بجلی کی تسلسل سے فراہمی ادارہ کی ذمہ داری ہے ، امید ہے کہ آپ کی تعیناتی سے کے الیکٹرک کے معاملات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوور بلنگ کے خاتمہ ، ڈسٹری بیوشن لائنز کی درستگی ،لائن لاسز پر قابو پانے کے لئے موثر اقدامات ضروری ہیں ، کے الیکٹرک اپنی استعدا د کا ر میں اضافہ کرے تاکہ وفاق سے مزید بجلی لے کر استعمال کر سکے ۔