واٹر بورڈ میں چور دروازے بند۔ ادارہ مالی استحکام کی جانب گامزن۔ خالد شیخ کے اقدامات سے ملازمین خوش۔ کالی بھیڑوں کی نیندیں حرام

واٹر بورڈ میں چور دروازے بند۔ ادارہ مالی استحکام کی جانب گامزن۔ خالد شیخ کے اقدامات سے ملازمین خوش۔ کالی بھیڑوں کی نیندیں حرام۔
کراچی واٹر بورڈ کا ادا رہ تیزی کے ساتھ مالی طور پر مستحکم ہو رہا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے تک ملازمین کی تنخواہ اور واجبات کی بروقت ادائیگی ممکن نہیں تھا اور ملازمین کافی پریشان تھے جب کہ اس ادارے میں کالی بھیڑوں کا راج تھا لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے خالد شیخ کو دوبارہ عہدے پر فائز کیے جانے کے

بعد ادارے کی مالی خالد مستحکم ہونے کی جانب گامزن ہے کیونکہ ادارے میں چور دروازے بند کرنا شروع کر دیے گئے ہیں اور خالد شیخ کے سخت انتظامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں دو مہینے کے اندر اندر ملازمین کی تنخواہوں اور واجبات پینشن کی ادائیگی کے معاملات میں کافی بہتری آئی ہے جس کے بعد ملازمین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ملازمین موجودہ انتظامیہ سے خوش ۔دوسری جانب کالی بھیڑوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور ان کی شامت آ گئی ہے اور ان کی نیندیں حرام ہیں جب کہ خالد شیخ پر لازم ہے کہ وہ ادارے کو نہ صرف مالی طور پر مستحکم بنائیں گے بلکہ ادارے کی اصل عظمت رفتہ کو بھی بحال کریں گے اس سلسلے میں وہ آن تھک محنت کر رہے ہیں ہیں صورتحال بہتر بنانے کے لئے جرات مندانہ اور مشکل فیصلے کر رہے ہیں جس میں ایماندار افسران اور ملازمین ان کا ساتھ دے رہے ہیں صوبائی حکومت کی جانب سے انہیں بھرپور اعتماد اور تعاون حاصل ہے ماضی میں ان کی اپنی کارکردگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ پوری سنجیدگی اور ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں ادارے کے مفاد کو مقدم اور عزیز رکھنے والے ملازمین کا ماننا ہے کہ خالد شیخ کی آمد کے بعد ادارے میں مالی مالی استحکام آیا ہے ادارہ بہتری اور ترقی کی جانب گامزن ہے ماضی میں اس کے ساتھ کافی مسائل رہے ہیں اور مشکلات کم نہیں ہیں خارجہ کے سامنے بھی کئی چیلنجز سے اٹھائے کھڑے ہیں لیکن وہ پرعزم اور بلند حوصلہ افسر ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کو مزید ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر آگے بڑھنے میں کامیاب ہوجائیں گے

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے والا ایک انتہائی اہم ادارہ ہے اور خالد شیخ کی آمد سے یہ اہم ادارہ اب درست سمت میں اپنا کام کر رہا ہے ادارے میں بہت سی لیکیج اور دروازے بند کر دیے گئے ہیں کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ ویسے تو سازشوں کا مرکز ہے اور یہاں پر آنے والے ایماندار اور اچھے افسران کے خلاف ہر وقت نئی سازش پہنچتی رہتی ہے سازشی عناصر چاہتے ہیں کہ کوئی بھی ایماندار ہوتا ہے یہاں زیادہ عرصہ نہ ٹکے ۔ماضی میں بھی جن اچھے افسران نے ادارے کو بہتری کی

جانب گامزن کرنے کی کوشش کی ان کے خلاف مختلف الزامات اور سازش کی گئی معلومات کو ہٹانے میں کامیابی حاصل کرنے والی مافیا نے ادارے پر اپنا قبضہ قائم رکھا اور ادارے کو پوری طرح لوٹا ۔خالد شیخ عیسی واقعہ اور ایسے آسائشیں عناصر کے خلاف سر گرم ہیں پرعزم ہیں وہ ایک مضبوط ارادے کے مالک نہایت اچھی شہرت رکھنے والے افسر ہیں ان سے امید کی جارہی ہے کہ وہ ادارے کو کم عرصے میں بہتری کی جانب گامزن کر دیں گے یقینی طور پر یہ کام آسان نہیں ہے لیکن جس انداز سے وہ کام کر رہے ہیں توقع کی جاسکتی ہے کہ ادارہ بہتری کی جانب گامزن رہے گا