ڈی جی کے ڈی اے کی کارکردگی ادارہ ترقیات کراچی کے لئے مایوس کن ثابت ہوئی

ڈائریکٹر جنرل ادارہ ترقیات کراچی آصف اکرام کو ادارہ ترقیات کراچی کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ پر 18 مئی 2020 ء سے تعینات ہیں، تقریباً 4 ماہ کے عرصے میں ڈی جی کے ڈی اے کی کارکردگی ادارہ ترقیات کراچی کے لئے مایوس کن ثابت ہوئی ہے۔ ادارہ ترقیات کراچی کا رواں سال بجٹ 30 جون سے قبل پیش ہونا تھا لیکن ڈی جی کے ڈی اے کی ناقص کارکردگی کے باعث کے ڈی اے بجٹ گورننگ باڈی سے منظور ہونا تو دور کی بات ہے ابھی تک تیاری کے مراحل سے بھی دورہے، آصف اکرام اپنی تین ماہ کی مدت میں گورننگ باڈی کے اجلاس میں بجٹ پیش کرنے سے قاصر رہے۔یاد رہے کہ کے ڈی اے افسران و ملازمین کی دو ماہ کی تنخواہیں ڈی جی کے ڈی اے کی نااہلی کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق آصف اکرام پیٹرول سمیت دیگر مراعات ادارہ ترقیات سے حاصل کررہے ہیں جبکہ اعلیٰ افسران کو ان حاصل سہولیات سے محروم رکھنے کے لئے سرگرم ہیں۔ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے بلدیاتی صحافیوں کے لئے چائے و پانی اور اخبارات جیسی سہولیات ختم کردی گئی ہیں۔ ڈی جی کے ڈی اے آصف اکرام نے 3 افسران پر مشتمل لوٹ مار ٹولہ بنایا ہوا ہے جس میں ڈائریکٹر ریکوری و لینڈ رضا قائم خانی جو کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے او پی ایس ہیں، ڈی جی کے ڈی اے پرسنل اسٹاف آفیسر محمد زبیر اور پرسنل آفیسرز ندیم زاہد جوکہ انگوٹھا چھاپ ہیں، افسران و ملازمین کے تبادلے اور لینڈ سے متعلق غیر قانونی کام رشوت کے عوض کرانے میں مصروف ہیں،ان سب کے باوجود یہ تینوں افسران ڈی جی کے ڈی اے کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور چیف سیکریٹری سندھ ایسے نااہل ڈی جی کے ڈی اے آصف اکرام کے خلاف جو ادارہ ترقیات کراچی کو مختصر عرصے میں تنزلی کی طرف لے جانے میں مصروف ہیں ان کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے عہدہ سے برطرف کیا جائے۔