بلدیہ عظمی کراچی میں بڑے بڑے بت پاش پاش ہوگئے

سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ نے سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد کئی افسران کوپرانے گریڈ اور اصل محکموں میں روانگی کا حکم نامہ جاری کردیا

نجیب احمد چیف انجنئیرگریڈ 20 کو گریڈ 17 میں واٹر بورڈ واپس بھیج دیا گیا

انیس قائم خانی سپریٹینڈنگ انجنئیر گریڈ 19 کو بھی واپس 17 گریڈ میں واٹر بورڈ روانہ کردیا گیا

طارق عزیز ایکسئین 18 گریڈ کو بھی 17 گریڈ میں واٹر بورڈ، شکیب احمد ڈائریکٹر انوائرمنٹ گریڈ 19 کو انجنئیرنگ برانچ ایس یوجی سروسز

شبیہ الحسن گریڈ 19 کے چیف انجنئیر کو واپس کچی آبادی میں گریڈ 17

آفاق سعید گریڈ 19 کے فنانشل ایڈوائزر کو گریڈ 14 میں ڈی ایم سی سینٹرل

نعمان ارشد ڈائریکٹر میونسپل سروسز کو گریڈ 19 سے گریڈ 5 میں واپس ڈی ایم سی سینٹرل

مظہر شیخ ڈائریکٹر پلاننگ گریڈ 18 سے واپس ڈی ایم سی ویسٹ

مشیراحمد ڈائریکٹر مشین پول گریڈ 19 کو واپس پارکس ڈیپارٹمنٹ گریڈ 11 میں اور مسعود عالم ڈائریکٹر کوآرڈینیشن گریڈ 20 کو واپس گریڈ 17 میں فوریسٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ واپس بھیج دیا گیا ہے

منتخب نمائندگان کے جانے کے بعد یہ پہلا بڑا کام ہوا ہے جس میں کئی افسران لیڈو کے گیم کی طرح سانپ کے ڈسنے کی وجہ سے نیچے آگئے ہیں

مسعود عالم گزشتہ پندرہ سالوں سے بلدیہ عظمی کراچی میں راج کر رہے تھے جن کا راج آج ختم ہوگیا ہے

اس ضمن میں جاری نوٹیفیکیشن کے بعد ان کے خلاء کے بعد اہم پوسٹیں خالی ہو جائیں گی

جس پر تعیناتیاں اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہیں کہ ان کا تعلق نالہ صفائی سمیت ترقیاتی کاموں سے ہے

مذکورہ اقدامات کے بعد امید ہوچلی ہے کہ بلدیاتی اداروں میں بہتری لانے کی ابتداء ہو چکی ہے

اور ممکنہ طور پر اب بلدیاتی اداروں میں ترقیاتی کام ہوتے دکھائی دیں گے