بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کو ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولت فراہم کی جائے۔

بحریہ شٹل بس سروس ری اسٹارٹ ہونا خوشی کی بات ہے۔
لیکن جو نیا روٹ تشکیل دیا گیا ہےوہ بحریہ ٹاؤن کے رہائشیوں کے لیے تکلیف دہ ہے۔
بس سروس کا مقصد لوگوں کو آسانی فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن لگتا ہے بحریہ انتظامیہ میں لکیر کےفقیربیٹھے ہیں جنھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ لوگ کس پریسینٹ میں زیادہ رہتے ہیں اور انھیں کہاں سے پک اینڈ ڈراپ دینا سود مند ہوگا لیکن وہ صرف مین سڑک پر ہی گاڑی چلانا چاہتے ہیں انھیں غرض نہیں کہ ایک رہائشی کس طرح پک اینڈ ڈراپ پائنٹ پر پہنچے گا۔
پہلے پریسینٹ 10 شاپنگ گیلری سے اسٹارٹنگ پوائنٹ تھا اور وہ اپارٹمنٹس ٹاور کو کور کرتے ہوتے بحریہ ہسپتال تک آتی تھی پھر وہاں سے ہوتی ہوئی سب سب سے زیادہ آبادی والے پریسینٹ 2 یعنی قائد اور اقبال ولاز کے قریب بلال اسٹور پر اسٹاپ تھا جس سے سب سے زیادہ لوگ مستفید ہوتے تھے پھر مین گیٹ سے شٹل اپنے مقررہ روٹ پرجاتی تھی۔
یہ مناسب روٹ تھا لیکن اب لوگوں کو مجبور کیا جارہا ہےکہ وہ بحریہ ایڈونچر لینڈ یعنی تھیم پارک تک شٹل میں بیٹھنے کے لیے آئیں۔
کیا انتظامیہ کا یہ فیصلہ مناسب ہے
کچھ تو عقل کے ناخن لو ۔کاغذ پر لائینیں کھیچنے کے بجائے زمینی حقائق دیکھو۔

بحریہ ایک پرائیوٹ سوسائیٹی ہے کوئی جیل نہیں یہاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی
اگر بحریہ ٹاؤن لوگوں کو خود ٹرانسپورٹ کی مناسب سہولت نہیں دے سکتی تو پرائیوٹ سیکٹر کی ٹرانسپورٹ کمپنی کو دعوت دی جاسکتی ہے اور بحریہ اپنے ایس او پی پر انھیں چلا سکتی ہے اب ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ بحریہ اپنی دو بسوں سے پورے ٹاؤن کو اپنی من مانی سے چلائے اور باہر سے بھی کسی ٹرانسپورٹ کمپنی کو اجازت نہ دے۔ swvl محدود سطح پر کام کررہی ہے اس کا نیٹ ورک مزید بڑھانا چاہیے اور بحریہ ٹاؤن میں انٹرنل ٹرانسپورٹ بھی ہونا چاہیے
مین گیٹ سے کسی کو اسپورٹس سٹی یا ہسپتال یا کسی جگہ جانا ہے تو وہ کیسے جائے گا۔۔۔
ہم بحریہ ٹاؤن کے ویل وشر ہیں اور یہاں رہ کر خوشی محسوس کرتے ہیں یہاں کی صفائی ستھرائی اور خوبصورتی کی تعریف بھی کرتے ہیں لیکن غلط اور غیر مناسب اقدام پر تالیاں نہیں بجا سکتے
ٹرانسپورٹ کا مسئلہ انتہائی اہم ہے بحریہ انتظامیہ اس کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔بحریہ شٹل کے پرانے روٹس کو بحال کرتے ہوئے گاڑیوں میں مزید اضافہ کرئے ۔۔۔
ورنہ یہاں کے رہائشی اپنی خوشی سے یہاں سے آئے تھے اب تنگ آکر واپس بھی جاسکتے ہیں اور ان حرکتوں کو غیر مناسب اقدامات کو دیکھنے کے بعد جو شخص یہاں آنے کا ارادہ کر رہا تھا وہ اپنا فیصلہ واپس بھی لے سکتا ہے۔
ملک ریاض سے گذارش ہے کہ متعلقہ محکمے کو ہدایت کرئے کہ وہ ٹرانسپورٹ کے معاملےمیں بحریہ کے رہائشیوں کی مشکلات کا نوٹس لے کر انھیں حل کرئے۔۔۔۔۔

شاہد غزالی