بلدیہ ضلع وسطی پر قبضے کی جنگ

بلدیہ ضلع وسطی پر قبضے کی جنگ چھڑ گئی، ایڈ منسٹریٹر کا اضافی چارج رکھنے والے ڈپٹی کمشنر محمد بخش دھاریجو میونسپل کمشنر فہیم خان کی جگہ اپنے منظور نظر افسر کو تعینات کرانے کیلئے سرگرم ہوگئے، میونسپل کمشنر فہیم خان اور ڈپٹی کمشنر میں محاذ آرائی،ضلع وسطی کے افسران میں تشویش، سینئرافسران نے اختلافات کو بلدیہ ضلع وسطی پر قبضے کی جنگ قرار دیدیا،ضلع وسطی کے انتظامی امور درہم برہم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق شہر کے اہم ترین ڈسٹرکٹ ضلع وسطی میں ایڈ منسٹریٹر کا اضافی چارج رکھنے والے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر محمد بخش دھاریجو نے ڈی ایم سی پر اپنا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کیلئے منظور نظر ا فسر کو میونسپل کمشنر سینٹرل کا اہم عہدہ دلانے کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے، مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ریونیو کے امتیاز نامی افسر کو میونسپل کمشنر سینٹرل کا اہم عہدہ دلانے کی کوشش میں ناکامی کے بعد ڈپٹی کمشنر نے خاتون اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر سمیرا کو میونسپل کمشنر بنانے کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی ہے اور کچھ دیر میں اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کئے جانے کا امکان ہے،دریں اثناءذرائع کا مزید کہنا ہے کہ میونسپل کمشنر فہیم خان نے ڈپٹی کمشنر جبکہ ڈپٹی کمشنر محمد بخش دھاریجو نے میونسپل کمشنر کیخلاف اپنے اپنے تحفظات سے سندھ حکومت کو آگاہ کردیا ہے اور دونوں افسران کے مابین جاری محاذ آرائی کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے،ذرائع کے مطابق مذکورہ اختلافات کے باعث ڈپٹی کمشنر نے فزیکل ویری فکیشن کے بغیر ملازمین کی تنخواہوں کے بلز پر منظوری دینے سے انکار کردیا تھا جبکہ دیگر دفتری امور سے متعلق میونسپل کمشنر کی جانب سے بھیجی جانے والی منظوریوں پر بھی اعتراض لگاکر فائلیں واپس بھیجی جارہی ہیں،ڈی ایم سی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر اور میونسپل کمشنر میں ہونے والی محاذ آرائی کا خمیازہ غریب ملازمین بھگت رہے ہیں اور ایک مرتبہ پھر فزیکل ویری فکیشن کے نام پر ملازمین کو گھنٹوں لائنوں میں کھڑا کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف شہر کے دیگر اضلاع میں ملازمین کو تنخواہیں ادا بھی کی جاچکی ہیں لیکن ضلع وسطی کے ملازمین 15 تاریخ گزر جانے کے باوجود تنخواہوں سے محروم ہیں،ڈی ایم سی کے سینئر افسران نے مذکورہ محاذ آرائی کو ضلع وسطی پر قبضے کی جنگ قرار دیتے ہوئے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ،افسران کا کہنا ہے کہ منظور نظر اور متنازعہ افسران کی اہم عہدوں پر تعیناتی سے ادارے کے انتظامی امور درہم برہم ہونے کا خطرہ ہے ،افسران نے سندھ حکومت سے موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

امتیاز آئوٹ ۔۔۔سمیرا ان