سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس،

سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس،

اجلاس میں سینیٹر رانا مقبول، سینیٹر شہزاد وسیم، سینیٹر جاوید عباسی، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر، سینیٹر کدا بابر، سینیٹر عتیق شیخ و سینیٹر سجاد حسین طوری شامل،

اجلاس میں وفاقی وزیر اعظم خان سواتی، سیکرٹری داخلہ سمیت اعلی حکومتی افسران بھی شامل ہیں،

اجلاس میں “دی اینٹی ٹیررزم تیسری ترمیم بل 2020” زیر بحث،

دی اینٹی ٹیررزم تیسری ترمیم بل 2020 سینیٹر سجاد حسین طوری نے 15 ستمبر کو اجلاس میں پیش کیا ہے،

سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر مصطفی کھوکھر و سینیٹر محمد علی جموں نے بل میں تین ترامیم پیش کئے ہیں اور اختلافی نوٹ دیا ہے،

کمیٹی کے اکثریتی ممبران نے تجویز شدہ ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے دی اینٹی ٹیررزم تیسری ترمیم بل 2020 کو پاس کیا،

سینیٹر رانا مقبول، سینیٹر شیخ عتیق و سینیٹر جاوید عباسی نے بھی بل کے کئی شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا،

ہم سب کو احساس ہے کہ ایف اے ٹی ایف کیلئے ضروری قانون سازی کرنی ہے، سینیٹر رحمان ملک

کمیٹی دیکھنا چاہتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کیطرف سے کونسی قانون سازی کا کہا گیا ہے، سینیٹر رحمان ملک

حکومت ایف اے ٹی ایف کیطرف سے موصول خط کمیٹی کے سامنے پیش کرے، سینیٹر رحمان ملک

کمیٹی دیکھنا چاہتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کو دراصل درکار کیا ہے، سینیٹر رحمان ملک

بل پر معزز ممبران کو کافی تحفظات ہیں جنکو دور کرنا ہوگا، سینیٹر رحمان ملک

ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسطرح کے بل کسی بیگناہ کے خلاف استعمال نہ ہو، سینیٹر رحمان ملک

بل کے پاس ہونے کے بعد رولز بنائے جاتے ہیں، سینیٹر رحمان ملک

اگر حکومت ضمانت دیتی ہے کہ رولز بناتے ہوئے تحفظات دور کئے جائینگے تو بل ہم پاس کرتے ہیں، سینیٹر رحمان ملک

جو تحفظات شیری رحمان نے پیش کئے ہیں حکومت 120 دنوں میں ترامیم کی صورت میں لائیگی، سینیٹر رحمان ملک

سینیٹر رحمان ملک کا سینیٹ میں اظہار خیال،

بطور وزیر داخلہ میں نے مدرسہ ریفارمز کے لئے سب مکتبہ فکر کے علماء کو بلایا گیا تھا۔ سینیٹر رحمان ملک

مختلف مکتبہ فکر کی رضامندی سے مدرسہ ریفارمز ایگرمنٹ تیار کیا گیا تھا، سینیٹر رحمان ملک

بعد میں نون لیگ کی حکومت نے اسکو فالو کیا مگر مدرسہ ریگولیشن ایکٹ تیار نہیں ہوسکا، سینیٹر رحمان ملک

ایف اے ٹی ایف نے ہمیں آج مفلوج کیا ہوا ہے، سینیٹر رحمان ملک

آج پورا سسٹم ایف اے ٹی ایف کی مطالبات پورے کرنے میں لگا ہوا ہے، سینیٹر رحمان ملک

ایف اے ٹی ایف آٹھ ممالک کی اجارہ داری ہے اور جنکے پاس اقوام متحدہ کی اتھارٹی بھی نہیں ہے، سینیٹر رحمان ملک

پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جب بھی کچھ ایف اے ٹی ایف سے آتا ہے ہمیں اپنے قانون کو دیکھنا چاہیے، سینیٹر رحمان ملک

آنکھیں بند کرکے ایف اے ٹی ایف کے ہر حکم کی پیروی نہیں کرنا چاہئے، سینیٹر رحمان ملک

کیا حکومت مدرسہ ریفارمز لا رہی ہے تاکہ وہاں پڑھتے بچوں کو عام تعلیم بھی دی جاسکے، سینیٹر رحمان ملک

مدرسوں میں لاکھوں بچے پڑھ رہے ہیں انکے مستقبل کو ہم نے بنانا ہے، سینیٹر رحمان ملک

وقت کی ضرورت ہے کہ مدارس کو ریگولیٹ کرکے وہاں دنیاوی تعلیم بھی دی جائے، سینیٹر رحمان ملک