وہ اپنے تعلقات اور ناجائز ذرائع آمدن کے ذریعے غیر قانونی ترقی کرتے ہوئے گریڈ 18 میں ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا

کراچی)ویب ڈیسک(
عوام کیلئے آنے والےفنڈز ان تک پہنچنے سے پہلے ہڑپ کرنے ،گینگ وار،مافیا اور اعلی افسران تک حصہ پہنچانے کے نام پر نام نہاد جعلی افسران نے کراچی کی تمام ڈی ایم سیز پر قبضہ کرلیا ،1992میں ایک گریڈ میں بیلدار بھرتی ہونے والا غیر قانونی اور تیز رفتار ترقی کر کےگریڈ 18 میں ڈ ائریکٹر بن کے کرپشن کنگ بن کر ڈی ایم سی ساوتھ مافیا سرغنہ بن کر سیاہ سفید کا مالک بن گیا اپنے ہی باپ کو بھرتی کرکے عوام کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتا رہا ،

اربوں روپے کی لوٹ مار کرکے بیوی اور رشتہ داروں کے نام پر جائداد رکھ نیب اور دیگر اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک دی ۔ ڈائریکٹر کی پوسٹ پر آنے والے افسر کو سائڈ لائن کرکے سیٹ پر قابض ہو گیا عزیر بلوچ جے آئی ٹی میں نام ہو نے کے باوجود وزارت بلدیات اور صوبائی حکومت بے بس ہو گئ تفصیلات کے مطابق کراچی کے
عوام کیلئے آنے والےفنڈز ان تک پہنچنے سے پہلے ہڑپ کرنے ،گینگ وار،مافیا اور اعلی افسران تک حصہ پہنچانے کے نام پر نام نہاد جعلی افسران نے کراچی کی تمام ڈی ایم سیز پر قبضہ کرلیا ،1992میں ایک گریڈ میں بیلدار بھرتی ہونےوالامحمد رئیسی غیر قانونی اور تیز رفتار ترقی کر کےگریڈ 18 میں ڈ ائریکٹر بن کے کرپشن کنگ بن گیا جس کے بعد وہ اپنے تعلقات اور ناجائز ذرائع آمدن کے ذریعے غیر قانونی ترقی کرتے ہوئے گریڈ 18 میں ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ذرائع کے مطابق محمد رائیسی اب ڈی ایم سی ساوتھ میں مافیا سرغنہ بن کر سیاہ سفید کا مالک بن گیا ہے جسے اب کوئی پوچھنے کو تیار نہیں ہے ذرائع کے مطابق محمد رائیسی نےاپنے ہی باپ کو بھرتی کرکے عوام کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتا رہا ،باپ کوریٹائرڈ کروا کے مزید تین سال کی ایکسٹنشن دلوائی اربوں روپے کی لوٹ مار کرکے بیوی اور رشتہ داروں کے نام پر جائداد رکھ نیب اور دیگر اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونک دی ۔ ڈائریکٹر کی پوسٹ پر آنے والے افسر کو سائڈ لائن کرکے سیٹ پر قابض ہو گیا
ذرائع کے مطابق محمد رئیسی
دنیا کا واحد سعادت مند بیٹا محمد رئیسی (موجودہ ڈائریکٹر ایڈمن بلدیہ جنوبی) جس نے پہلے خود سرکاری ملازمت حاصل کی اور اس کے بعد نہ صرف اپنے والد صاحب کو سرکاری نوکری بھی دلا دی بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد 3 سال کی ایکسٹیشن بھی دلوا دی۔موصوف نے صرف اس پر ہی بس نہیں کیا بلکہ اپنے خاندان کے ہر چھوٹے بڑے کو سرکاری نوکری کے مزے کروا دئیے۔گریڈ ایک میں بیلدار بھرتی ہونے والا یہ شخص محمد رئیسی شروع ہی سے چمچہ گیر اور خوشامدی شخصیت کا مالک رہا ہے اور اس ہی چاپلوسی اور چمچہ گیری کی عادت نے اسے گریڈ ایک سے گریڈ اٹھارہ میں پہنچا دیا۔ اس نے چمچہ گیری کی بدولت ہمیشہ وہی پوسٹ حاصل کی جس میں زیادہ سے زیادہ مال کمانے کا موقع ہو۔ یہ شخص 2008سے2013تک لیاری میں ڈائریکٹر ایڈمن۔ٹی او انفرا اسٹکچر۔ ٹاون میونسپل آفیسر۔میونسپل کمشنر۔ایڈمنسٹریٹر تعینات رہا۔اس کے بعد اس نےگینگ وار کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کی وجہ سے خود کو محفوظ کرنے کے لئے بڑی پوسٹنگ سے خود کو دور رکھا کیونکہ اس کو فکر تھی کہ کہیں بڑی پوسٹنگ اور گینگ وار سے تعلق کی وجہ سے یہ نظروں میں نہ آجائے۔کیونکہ یہ موصوف گینگ وار کے زمانے میں افسر کم اور گینگ وار کا نمائندہ زیادہ تھا یہ افسران کی مخبریاں گینگ وار والوں سے کرتا اور اس کے بعد گینگ وار کے کارندے اس افسر سے پیسے وصول کرنے پہنچ جاتے تھے۔یہ اس دور گینگ وار کارندوں کے ساتھ گھومتا تھا آفس آتا تھا جس کی وجہ سارے افسر اس سے ڈرتے گئےذرائع کے مطابق محمد ریئسی خود بھی ماہانہ 2لاکھ روپے سرکاری خرانے سے عزیر بلوچ پہنچایا کرتا تھا۔یہ عزیر بلوچ کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرتا تھا۔اس کی اس سے یاری کا یہ عالم تھا کہ اس کا رات کا کھانا اکثر عزیر بلوچ کے گھر ہی ہوتا تھا یہ ہر ماہ عزیز کو گاڑیوں کے سرکاری پٹرول وڈیزل بھی بہت بڑی مقدار میں دیا کرتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اس کا نام بھی عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں موجود ہے۔ اس کے بعد اس نے 2017میں بظاہر عزیر سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئیے ملک فیاض کی چمچہ گیری کرتے ہوئے 2017 سے ابھی 2020 تک کے دوران ڈائریکٹر لینڈ۔ڈائریکٹر پارکس ۔ڈائریکٹر جارچڈ پارکنگ۔ ڈائریکٹر ایڈمن کے عہدے حاصل کئے۔ محمد رئیسی نے سرکاری خزانے کو لوٹتے ہوئے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دئیے۔اس شخص نے زمزمہ اسٹریٹ۔بحریہ ٹاون۔جاوید بحریہ۔کلفٹن۔لیاری سمیت شہر کے مختلف علاقوں جائیدادیں بنائی جس میں اس نے حال ہی میں بلاول ہاوس کلفٹن می۔ خریدا ہوا فلیٹ فروخت کیا ہے۔ موصوف تمام جائیدایں اپنے اہل خانہ کے نام پر خریدتے ہیں جس میں سرفہرست ان کی اہلیہ اور انکا سالا عبدالغنی ہے۔موصوف خواتین ملازمین کے حوالے سے بھی زیادہ اچھی شہرت کے حامل نہیں اور انکی کافی شکایات ہونے کے باوجود اعلی افسران ان کے گینگ وار کے پرانے قریبی تعلقات کو جانتے ہوئے انکے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔رابط کرنے پر میونسپل کمشنر ساوتھ اختر شیخ نے محمد ریئسی کے تقرری کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ سیکرٹری بلدیات اور محمد رئیسی سے بھی رابطے کی کوشش کی مگر انھوں نے فون ریسوو نہیں کیا۔