منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

۔۔
تحریر:سمیر قریشی

چلو آو پولیس پولیس کھیلتے ہیں… ساتھ میں کچھ سیاست بھی ہوجائےاوپر والا تو ٹائٹ ہے نیچے والے سائے میں رہ جائیں گے۔ کچھ لوگ چیخیں گے کچھ اندر جائیں گےلیکن لکشمی سب کو بچالے گی۔۔۔۔۔


بات ہورہی ہے اس وکیل کی جو قانون کی ڈگری لے کر خود کو اس اندھے قانون میں دھکیل چلا یقینا وہ مشکل میں تھا سوچتا بھی بہت کچھ ہوگا مگر سسٹم جانتا تھا اس ہی لیے چپ سادھے رکھی تھی۔ تعجب ہی کہیں گے کہ پولیس سندھ کی اور چھاپہ لگایا پنجاب میں کیونکہ بندہ پکڑنا تھا آقا بھی ملوث تھے اور شاہ کے وفادار بھی ایسے کہ راتوں رات چھٹی لے اور سامان لپیٹ کر روانہ ہوگئے
قصہ پہلی قسط میں لکھ چکاہوں کہ فیصل آباد کے ایک معروف وکیل اعجاز آرائیں کا کافی مدت سے پراپرٹی کا تنازعہ چل رہاتھا جوکہ باہر والوں سے نہیں بلکہ انکے گھر والوں ہی کے ذریعے سامنے آیا پھر اچانک ہی وکیل کےخلاف مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہوئے اور اسپیشل کم آقاآرڈر سے سکھر پولیس نے دوڑ لگائی اور اعجاز آرائیں کو فیصل آباد سے اٹھا لائے اسے نجی ٹارچر سیل میں منتقل کیا جہاں وہ زندگی کھو گیا۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پولیس بیڑہ جسکی معلومات میں درجنوں ملزمان نہ صرف کھلے عام دندنارہے ہیں بلکہ بوقت ضرورت پولیس کی ضروریات بھی پوری کررہے ہیں انکےلیے کبھی نہ پکٹ لگائی گئی اور نہ ہی اتنا لمبا ٹوور مارا گیا اس معاملے پر ایڈیشنل آئی جی سکھر کامران فضل نے ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ کو انکوائری کےلیے مقرر کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جسکا متن یہ ہے کہ پولیس حراست میں وکیل کی موت ہوئی اور اسکے ذمہ داروں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اہم ترین لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ انکوائری بھی ردی کی نظر جلد کی جاسکتی ہے کیونکہ سندھ کے بڑے آقا بھی اس کیس میں وکیل کےخلاف دلچسپی رکھتے ہیں


لیکن یاد رہے کہ کفر کی حکومت چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں جس افسر کو انکوائری سونپی گئی ہے اس سے امیدیں تو بہت ہیں اور وہ بہترین قابل افسر بھی ہیں لیکن سیاسی اور بااثر مداخلت اعلی افسران کو بھی ناکوں چنے چبواسکتی ہےجو ایس ایس پی سکھر ہے اس نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ اسے وکیل کے معاملے کا علم نہیں لیکن بعد میں کچھ تحریری شواہد بھی سامنے آئے تھے کہ وہ لاعلم نہیں اب دیکھتے ہیں کہ انکوائری میں کیا ہوتا ہے یا بجلی پھر نیچے والوں پر ہی گرے گی پھر اب میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ۔۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کروگے۔۔

منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں۔دیتے