ڈوبتے ہوئے شہر کا تیرتا ہوا کمشنر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

حکومت سندھ نے سہیل راجپوت کو ایسے موقع پر کمشنر کراچی بنایا جب انتظامی طور پر صورتحال انتہائی مشکل تھی طوفانی بارشوں نے شہر کو عملی طور پر ڈبو دیا بڑے پیمانے پر شہریوں کا مالی نقصان ہوا قیمتی جانیں ضائع ہوئیں کمشنر کراچی کی حیثیت سے سہیل راجپوت نے انتہائی مشکل صورتحال میں چیلنج کو قبول کیا


اور اپنے سرکاری کیریئر کی ماضی میں بے شمار شاندار کامیابیوں کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مشکل صورتحال میں شہریوں کی خدمت اور سرکاری فرائض کی پولی دیانتداری سے بجا آوری پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز رکھی وہ شہر کے مشکل اور دور دراز علاقوں میں متاثرین کی مدد کو پہنچے اور ان کے لئے ہر ممکن اقدامات کی ہدایت جاری کی ۔


سہیل راجپوت صوبہ سندھ کے علاوہ وفاقی حکومت میں بھی اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں ان کا تعلق سندھ سے ہے اس لئے وہ کراچی حیدر آباد اور دیگر شہروں کی صورت حال کو بہتر طور پر جانتے اور سمجھتے ہیں صوبائی حکومت نے بھی اہم مناصب پر فائز رہ چکے ہیں اور اپنے فرائض انتہائی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہوئے سرکاری حلقوں میں عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ان کے اچھے کاموں اور اقدامات کی تعریف کی جاتی ہے اور مثال دی جاتی ہے ۔


کمشنر کراچی کی حیثیت سے انہوں نے پرائے سنبھالتے ہی انتہائی متحرک اور سرگرم انداز میں شہر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور مختلف مسائل سے جڑے ہوئے معاملات پر فوری اور فیصلہ کن علاج کیئے جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو رہے ہیں یہ ایک سنجیدہ اور ذہین افسر ہیں اور معاملات کو نتیجہ خیز بنانے کی شہرت رکھتے ہیں شہر کی بہتری اور شہریوں کو ریلیف پہنچانے کے حوالے سے ان کی ذات سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں اور اب تک وہ انتہائی متحرک اور فعال کردار ادا کرتے نظر آرہے ہیں شہر میں بلڈنگ گرنے کا واقعہ ہو یا اسٹوڈنٹس کی آپ نے مطالبات کے حق میں کی گئی بھوک ہڑتال یا احتجاجی مظاہرہ ہو وہ اپنی گوناگوں مصروفیات میں سے وقت نکال کر ہر موقع پر پہنچتے ہیں اور ہر معاملے کی فرسٹ ہینڈ انفارمیشن لے کر ضروری اقدامات اور ہدایات جاری کرتے ہیں ۔