طلبہ و طالبات بہترین صلاحیتوں سے ملک و قوم کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ گورنرسندھ 

تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی و خوشحالی کے منازل طے نہیں کرسکتا ۔ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف پاور انجنیئرنگ (KINPOE) کے 15 ویں کانووکیشن سے خطاب

کانووکیشن کے بعد گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف پاور انجنیئرنگ میں کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے تحت پودا بھی لگایا

کراچی ۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ مستقبل کے چیلنجوں کو پورا کرنے کے لئے تعلیم بہت اہم ہے طلبا و طالبات بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ہی ملک و قوم کا نام روشن کرسکتے ہیں جوہری پاور ٹیکنالوجی میں اہل افرادی قوت کو فروغ دینے میں (کے آئی این پی او ای) کا کردار قابل تحسین ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف پاور انجینئرنگ (KINPOE) کے 15 ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔کانووکیشن میں 23 اور 24 ویں بیج کے 99 طلبہ و طالبات کو نیوکلیئر پاور انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگریاں بھی دی گئیں ۔انہوںنے مزید کہا کہ انسٹی ٹیوٹ جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلی تعلیم کے فروغ میں بہترین شہرت کا حامل ہے مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ (کے آئی این پی او ای) اب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اور ایپلائڈ سائنسز (پی آئی ای اے ایس) کے ساتھ منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی و خوشحالی کے منازل طے نہیں کرسکتا جبکہ تحقیق پر مبنی تعلیم وقت کی اہم ضرورت ہے حکومت اعلی تعلیمی اداروں کی اہمیت سے مکمل طور پر واقف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر پاور انجینئرنگ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک منفرد ادارہ ہے جہاں مختلف انجینئرنگ اور سائنسی پس منظر سے وابستہ امیدواروں کو جوہری پاور انجینئرنگ میں ماسٹر آف سائنس کی ڈگری فراہم کی جارہی ہے جو قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید تعلیم کے مختلف شعبوں کے ماہرین تیار کرنے میں ادارے نے نمایاں کردار ادا کیا ہے پاکستان کا مستقبل نہایت تابناک ہے، ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں صرف اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ گورنرسندھ نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط کرنے میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کا کلیدی کردار ہے جس نے ملک کا دفاع کو نا قابل تسخیر بنادیا ہے دشمن نے جب کبھی میلی آنکھ سے مادر وطن کی طرف دیکھا تو اس کو ہمیشہ منہ کی کھانی پڑی۔ اب آپ لوگوں کو اس سلسلے کو آگے بڑھانا ہے ۔ آپ کی آئندہ زندگی میں سب سے مقدم پاکستان کا وقار ہونا چاہئے ملک نے آپ کو جو کچھ دیا اب آپ نے اس کو لوٹانا ہے۔

میں تمام فارغ التحصیل ہونے والوں اور ان کے والدین کو دلی مبارک باد پیش کرتاہوں ساتھ ساتھ ان اساتذہ کو بھی جن کی انتھک محنت اور رہنمائی کی بدولت آج آپ لوگ اس مقام تک پہنچے ہیں۔ اس موقع پر ڈائریکٹر (کے ای این پی او ای) محمد آصف راجپوت نے انسٹی ٹیوٹ کے اغراض و مقاصد و اہمیت کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ میں 38 کل وقتی فیکلٹی ممبران ہیں جن میں سے بیشتر پی ایچ ڈی ہیں جو طلبہ و طالبات کو ریسرچ پبلکیشن میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں۔ انسٹیٹیوٹ میں ماسٹر کی ڈگری پروگرام کے ساتھ ساتھ ایک سال کا پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ پروگرام اور پوسٹ ڈپلومہ ٹریننگ پروگرام بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ چیر مین پاکستان جوہری توانائی کمیشن (PAEC) محمد نعیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے زیر انتظام صوبہ بھر میں پانچ کینسر کے اسپتال چل رہے ہیں۔ جبکہ ملک بھر میں کل 18 کینسر کے اسپتال کمیشن کے زیر انتظام ہیں ان اسپتالوں میں سالانہ 1 ملین سے زائد افراد نے کینسر کی تشخص، علاج، میڈیکل ٹیسٹ اور دیگر معاملات کے لئے رجوع کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گلگت اور ناریوال میں بھی کینسر اسپتال زیر تعمیر ہیں جبکہ جلد آزاد کشمیر میں ایک کینسر اسپتال قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نیوکلیئر پاور کے تحت کلین انرجی پیدا کی جارہی ہے جو کہ ماحول کو آلودہ نہیں کرتی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایگریکلچر کے شعبے میں بھی بہت کام کیا جا رہا ہے اور اس وقت ایک اندازہ کے مطابق 25 فیصد زرخیز کی جانے والی زمین پر بیج کمیشن کی جانب سے فراہم کیا گیا ہے۔ آخر میں گورنرسندھ نے 23 ویں بیج میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے دانیال سہیل اور 24 ویں بیج میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے محمد ولید کو سونے کا تمغہ اور تعریفی اسناد جبکہ دوسری اور تیسری پوزیشن آنے والوں کو بھی تعریفی اسناد دی۔ اس موقع پر چیرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن محمد نعیم نے گورنرسندھ کو انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے یادگاری شیلڈپیش کی ۔ بعد ازاں گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کراچی انسٹی ٹیوٹ آف پاور انجینئرنگ میں کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے تحت پودا بھی لگایا۔



اپنا تبصرہ بھیجیں