جماعت اسلامی حکومت میں آئی تو کوئی یتیم بچہ لاوارث نہیں رہے گا

سینیٹر سراج الحق کا بونیر میں آغوش کی افتتاحی تقریب سے خطاب /میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد 14ستمبر2020 ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت اخبارات ،ٹاک شوز اورسوشل میڈیا کی گالیوں میں موجود ہے عملااس کا کہیں وجو دنہیں۔ امن و امان کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ کوئی ماں بہن بیٹی انتہائی ضرورت کی میں بھی باہر نہیں نکل سکتی ۔حکومتی بے بسی اور ناکامی کو دیکھتے ہوئے خطرہ ہے کہ جرائم مزید نہ بڑھ جائیں ۔مہنگائی بے روز گاری اور بدامنی میں اضافہ سے عوام پریشان ہیں مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی ۔چینی ،آٹے دال گھی حتی کہ دواﺅں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے لوگوں کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے ۔موٹر وے واقعہ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عزت ووقار کوسخت دھچکا لگا ہے ۔خواتین اور معصوم بچوں اور بچیوں کے تحفظ کیلئے مجرموں کو پھانسی ضروری تھی ،چند لوگ لٹکادیئے جائیں تو کروڑوں لوگوں کو سکون سے زندگی گزارنے کا موقع مل سکتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بونیر میں الخدمت فاﺅنڈیش کے زیر اہتمام یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے قائم کردہ ادارے” آغوش “کے افتتاح کے موقع پر خطاب اور بعدا زاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری جنرل خیبر پختونخواہ عبد الواسع بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے 26ماہ میں22 کروڑ عوام کا حال یتیموں جیسا کردیا ہے۔ معیشت کا بیڑہ غرق ہے ۔روزمرہ کی اشیاءکی قیمتوں میں دس بیس نہیں سو فیصد اضافہ ہوچکا ہے ۔حکومت نے معاشی استحکام ،بے روز گاری کے خاتمہ اور بے گھر شہریوں کو گھر دینے کے اعلانات کئے تھے مگر سب سے ابتر صورتحال انہی شعبوں کی ہے ۔معیشت کی دگرگوں صورتحال نے سرمایہ داروں کے اوسان خطا کردیئے ہیں اور وہ اپنا کاروبا رسمیت کر دوسرے ملکوں کا رخ کررہے ہیں۔ملک میں چھوٹے بڑے ہزاروں کارخانے اور گھریلو دستکاریاں بند ہونے سے 35لاکھ سے زیادہ لوگ بے روز گار ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اپناکوئی وژن ہے نہ پالیسی ۔حکومت آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ڈکٹیشن پر آنکھیں بند کرکے عمل کررہی ہے ۔خطرہ ہے کہ یہ نااہل ملک و قوم کو کسی اندھے کنویں میں نہ گرا دیں۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یتیموں و بیواﺅں اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقہ کی کفالت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر حکومت اپنی کسی ذمہ داری کو پورا نہیں کرسکی۔ان حالات میں ضروری ہے کہ معاشرے کے مخیر حضرات اور درد دل رکھنے والے یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے لئے آگے بڑھیں ۔نبی مہربان حضرت محمد ﷺکا فرمان ہے کہ یتیم کی پرورش کرنے والے کو جنت میں میرا ساتھ نصیب ہوگا۔ان نے کہا کہ اس سے بڑھ کر ایک بندہ ¿ مومن کی کیا خوش قسمتی ہوسکتی ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺاسے جنت کی ضمانت دیں ۔انہوں نے کہا کہ الخدمت فاﺅنڈیشن ملک بھر میں 15ہزار کے قریب یتیم بچوں کی کفالت کررہی ہے ۔آغوش سینٹرز میں بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت اور انہیں معاشرے کے باعزت و باوقار شہری بنانے کیلئے مختلف ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔