ظالم اللہ کی نظر میں *


=====================
تحریر: سیدہ سبین فاطمہ ۔
____
قول پیغمبر صعلم ہے ” ظالم کبھی جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکتا ”
جو کہ کروڑوں میل پہلے سے آنا شروع ہو جاتی ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ بھی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہے ۔
چند احادیث جو ظالم کے بارے میں ہیں وہ یہ کہ اللہ ظالم کو اپنے روبرو پسند نہیں فرماتا، ظالم جہنمی ہے چاہے وہ کافر ہو یا مشرک ہو یا مسلمان، چاہے انسانوں میں سے ہو یا جنات میں سے۔
آئیں اب پاکستان میں ہونے والے ظلم عظیم پر بھی نظر ڈالیں،عورت کی عزت و آبرو کو پامال کرنے اور معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد انہیں قتل کرنے والے کون ہیں؟ اگر اس کا تفصیلی جائزہ لیں تو ابھی تک ایک ہندو، عیسائی یا ایک پارسی بھی اس جرم میں ملوث نہیں ہوا نہ گرفتار نہ سزا یافتہ ہوا، اگرچہ میری دانست میں نہیں اگر ہوگا بھی تو ایک فیصد ہی ہوگا۔
مسلمانوں میں یہ روایت کیوں ہے؟
کیونکہ رسول پاک کے زمانے کے بعد ہی سے ظلم شروع کر دیا گیا تھا۔ظلم سے پہلے قبضہ گروپ قائم ہوا۔مسلمانوں کی اکثریت نے اس کی حمایت بھی کی۔ اس بحث سے قطع نظر میرا موضوع ہے پاکستان میں ہونے والے ظلم پر کتنی معصوم بچیاں مسلمان کہلوانے والے سپوتوں کے ہاتھوں ظلم کا نشانہ بنیں اور قتل کر دی گیئیں ۔اللہ تو کافروں اور مشرکوں کی بچیوں پر بھی سزا کی ایف آئی آر
قرآن درج فرما رہا ہے ۔دیکھیں سورہ التکویر آیت 8۔9 ترجمہ ہے ۔ اور جب زندہ درگور لڑکی سے سوال کیا جائے گا کہ وہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی ” قتل قتل قتل کا لفظ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ یہ ظلم ہے ”
چاہے کسی نے بھی اپنی زندگی میں ایک بار کیا ۔ اللہ کا قانون کبھی تبدیل نہیں ہوتا ۔ اس سوال کے جواب میں بچی کیا جواب دے گی جو کہ چار یا پانچ سال کے درمیان ہو۔ میں تصور کر سکتی ہوں صرف اگر اس کو پنجابی زبان میں کروں کیونکہ بعض اوقات جو لطف کسی زبان میں بہتر معنی ظاہر کرے وہ ہی بہتر ہے ۔اگر جواب میں یہ ہو ” اللہ مینوں کی پتہ ابے توں پوچھو ” کیوں ماریا ۔
اللہ کیا جواب دے گا ۔ اے بچیو میں نے تو اپنی تمام کتابوں میں لکھ دیا ہے ۔ اللہ نہ تو ظالم سے گفتگو کرے گا نہ اسکو روبرو کرے گا ۔
اسی لئے تو تجھ سے گفتگو کر رہاہوں کیونکہ تو مظلوم ہے۔ اللہ صرف مظلوم کو سنتا ہے ۔اور اس کی گواہی تسلیم کرتا ہے ۔ آیت پر غور فرمائیں کتنی خوبصورت اور معنی خیز مختصر ترین ہے۔
مظلوم کی دادرسی ہو رہی ہے ظالم موجود ہی نہیں ۔ وہ جہنم میں موجود ہے ۔
قرآن کریم میں ظالم کے بارے میں 50 سے زائد آیات ہیں کہیں یہ نہیں فرمایا گیا کہ ظالم کو معاف کر دیا جائے گا ۔
مسلمان کو شرمندہ ہونا چاہیے ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلم کھلا نافرمانی کرتے ہیں پاکستانی مسلمان سب سے زیادہ ۔ اللہ کا غضب بہت شدید ہوتا ہے ابھی تو چھوٹے چھوٹے جھٹکے دے رہا ہے تو آپ چھتوں پر اذانیں دے رہےہیں ۔ سوچو اگر اللہ چاہے آپ پر ایسا عذاب نازل فرما دے کہ یہ ٹائم بھی نہ بچے کہ چھت پر جا کر اذان دے سکو ۔
ایک مختصر سا واقعہ ہے۔ قصاہ الانبیا کا ، اللہ نے فرشتوں کو فرمایا، “جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔یہ کیسے فرمانبردار اور مومن ہیں جو نہ ظالم کے خلاف بولتے ہیں نہ انکو روکتے ہیں یہ ظالموں کے ساتھی ہیں اس بستی کو ظالموں سمیت ہر شخص کو مار ڈالو انکی چھتوں کے نیچے ”
اگر آپ نے آج مظلوموں کے حق میں آواز نہ اٹھائی ۔آپ بھی عذاب الہمیں مبتلا ہونگے چھت کے نیچے ۔ نہ نمازیں کام آئیں گی نہ روزے تراویح نہ حج نہ زکوات و خیرات ۔
دنیا کا ہر حاجی و حاجن جانتی ہے جب حج کا خطبہ ختم ہو تا ہے تو تمام حاجی منا سے مذدلفہ کو روانہ ہوتے ہیں تو درمیان میں ایک چھوٹی سی وادی سے گذرنا پڑتا ہے جہاں بورڈز لگے ہیں اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم درج ہے مختلف زبانوں میں ” جب یہاں سے گزرو تو اونٹ کی چال سے گزرو اچھل کر نرم قدموں کے ساتھ کیوں کہ یہ ہی وہ وادی ہے جہاں بچیاں زندہ درگور کی جاتی تھیں ۔ حاجیوں کو راستہ تبدیل کرکے گزرنے کا حکم کیوں نہیں؟
تاکہ تازہ تازہ حج کرنےوالوں کے نرم قدم کی برکت سے ان بچیوں کو بھی حج کا ثواب پہنچے۔ حاجی ایک حج پر خوش ہوتاہے یہ بچیاں ایک دن میں لاکھوں حج کا ثواب سمیٹتی ہیں ۔
ظالم کے خلاف آواز بلند کریں نظر انداز کرنے سے آپ منکر حدیث بھی ہونگے اور منکر قرآن بھی ۔
سیدہ سبین فاطمہ