الیاس شاکر۔ کمال کے صحافی تھے

الیاس شاکر۔ کمال کے صحافی تھے۔
قومی اخبار نوجوان صحافیوں کی نر سری ہے۔
تحریر: سہیل دانش

ایک پرجوش اور ہنگامہ خیز زندگی گزارنے والے شخص کی دوسری برسی خاموشی سے گزر گئی، آج شاکر صاحب بہت یاد آرہے ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کی ذات خوبیوں کی کان تھی۔ میں جب ماضی میں جھانک کر ان کی زندگی کے اوراق پلٹتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں اور انسپائر بھی۔ وہ حیدر آباد کے ایک غریب گھرانے کے فرد تھے۔ آمدن کے ذرائع بہت محدود تھے لیکن بہت کم عمری میں انہوں نے قلم سے دوستی کر لی۔ اگر میں یہ کہوں کہ وہ پیدائشی نیوز میکر تھے تو یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ ہر نئی خبر پر چونکنا اور تبصرہ کرنا ان کا وطیرہ تھا۔ کمزور جیب کے با وجود وہ کمزور دل نہیں تھے۔ ان سے میری پہلی ملاقات حیدر آباد کے علاقے گاڑی کھاتہ کے ایک ہوٹل میں ہوئی، جب صحافی محمد علی خالد نے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ حیدر آباد کے ایڈیٹر ہیں۔ مجھے مغالطہ ہوا کہ شاید حیدر آباد نام کا کوئی اخبار ہو گا لیکن محمد علی نے بتایا کہ حیدر آباد کی ہر خبر سے با خبر صرف ایک صحافی الیاس شاکر ہیں اور پھر یہاں سے ہمارے تعلق اور شناسائی کی ابتداء ہوئی۔ یہ میرے یونیورسٹی کا دور تھا۔ پھر شاکر صاحب سے ارادت کا ایک رشتہ بھی قائم ہوا۔ سندھ یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں حضرت ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خان جیسے اعلیٰ مر تبت شخصیت کے گھر پر بعض اوقات شاکر صاحب سے ملاقات ہو جاتی تھی۔ یہ بھی میرے جیسے ہزاروں لوگوں کی طرح ڈاکٹر صاحب کے عقیدت مند وں میں سے تھے۔ شاکر صاحب کے ساتھ یادوں کی ایک قطار ہے۔ وہ حیدر آباد کے ان چند جینیئس میں سے تھے، جنکی ذہانت پروفیشنلزم اور محنت کی خوشبو آج بھی مَیں محسوس کرتا ہوں۔ شاکر صاحب سے دوستی کا رشتہ اس وقت ذیادہ مستحکم ہو گیا، جب میں نے نوائے وقت میں ملازمت اختیار کی۔ بات سے بات نکالنا، خبر میں بارہ مصالحے کی آمیزش اور انٹرویو میں چٹخارے کے رنگ شاکر صاحب کا ہی کمال تھا۔ گفتگو اور تحریر میں نثر کے ساتھ شعر کا تڑکا بھی ان کی خوبی تھی۔ نوائے وقت میں برادرم یوسف خان سے ان کی دوستی مثالی تھی اور مسابقت کی کشمکش بھی کیونکہ دونوں ہی ہفتہ وار ڈائری لکھنے کے فن کے چیمپئین تھے۔ یہ دونوں میرے عزیز دوست تھے، اس لئے کبھی بھی ان کی ڈائریوں کو نیچے اوپر لگانے کا رسک نہیں لیا۔ ہمیشہ اخبار کے صفحات پر پلیمنٹ میں برابر کی جگہ دی لیکن واقعی دونوں کمال کے رپورٹر اور لکھاری تھے۔
شاکر صاحب کی صلاحیتوں کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا۔ جب آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم نے جنرل ضیاء الحق کی خصوصی اجازت پر قومی اخبار کا ڈیکلریشن ان کے نام منظور کروا دیا جو کہ یہ ایک چیلنج تھا۔ پھرشاکر صاحب کا امتحان شروع ہوا، محدود وسائل سے مقابلے کے میدان میں جگہ بنانا ہی انکا کمال نہیں تھا بلکہ شام کے اخبارات میں اپنے اخبار کو نمبر ون پر لے آنا بھی انکا ایک کمال تھا۔ یہ ایک طویل کہانی ہے، جس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے کہ انکو اس کامیابی تک پہنچنے کے لئے کتنی محنت کرنی پڑی لیکن بحیثیت جرنلسٹ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ شاکرصاحب کی ذہانت، مسلسل جدوجہد اور کام کرنے کی لگن کے ساتھ اگر برادرم مختار عاقل کا تذکرہ نہ کیا جائے تو شاکر صاحب کی یہ کہانی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ پاکستان اور خصوصاً کراچی کی صحافت کی ہر دلعزیز جوڑی تھی۔ جب انہوں نے روزنامہ جرات کا اجراء کیا تو میں اس کا پہلا ایڈیٹر تھا، جو محض چند ماہ میں کراچی کے مقبول ترین اخبارات کی صف میں کھڑا ہو گیا۔ شاکر صاحب نے زندگی کے نشیب و فراز سے بہت قریب سے دیکھا تھا۔ ان کی تحریروں سے لگتا تھا جیسے زندگی کے ہر روپ سے ان کا ایک پوشیدہ رابطہ بھی تھا۔ وہ عوامی زبان لکھتے تھے لیکن اس میں کاٹ چبھن اور چاشنی کی آمیزش بھی
ہوتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ صحافت میں ادب اور ڈرامے کی طرح کوئی نہ کوئی پیغام ضرور ہونا چاہیئے۔
موضوعات اسلوب اور نئے نئے صحافتی راستے تلاش کرنا اور تراشنا ان کا کمال تھا یہی وجہ ہے کہ ان کا ادارہ نوجوان صحافیوں کے لئے ایک نرسری بن گیا جو کہ ان کے ذہن اور قلم کی حرارت تھی، جس نے کئی نو آموز صحافیوں کو ناموری تک پہنچا دیا۔ آج صحافت جہاں کھڑی ہے، اس میں شاکر صاحب جیسے شخصیت کی ضرورت ذیادہ محسوس ہوتی ہے۔ وہ شخص جو اس دنیا میں نہیں ہے، ہم اب ان کی کمی کو محسوس کر رہے ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس قلندرانہ طبیعت کے اعلیٰ انسان کے ساتھ اپنے رحم و کرم کا معاملہ فرمائے۔ آمین