علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے

معروف عالم دین علامہ ضمیر اختر نقوی دل کا دورہ پڑنے سے کراچی میں انتقال کرگے ۔ اس حوالے سے تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ طبیعت بگڑنے پر علامہ ضمیر اختر نقوی کو رات گئے آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں حرکت قلب بند ہونے کے باعث ان کا انتقال ہوگیا ، علامہ ضمیر اختر نقوی کی میت انچولی منتقل کی جائے گی ۔
علامہ ضمیر اختر نقوی 24 مارچ 1944ء کو بھارت کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے ، مرحوم ایک پاکستانی عالم، مذہبی رہنما، خطیب اور اردو شاعر کے طور پر جانے جانے تھے ۔ ان کے والد کا نام سید ظہیر حسن نقوی تھا جب کہ ان کی والدہ کا نام سیدہ محسنہ ظہیر نقوی تھا ، پیدائش کے وقت نام ظہیر رکھا گیا تھا ، 1967ء میں وہ نقل مکانی کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی شہر میں سکونت اختیار کیے ، تعلیمی اعتبار سے وہ لکھنؤ کے حسین آباد اسکول سے میٹرک پاس کیے اور گورنمنٹ جوبلی کالج لکھنؤ سے انٹرمیڈیٹ مکمل کیے۔

انہیں گریجویشن کی سند شیعہ کالج لکھنؤ سے حاصل ہوئی ۔ مرحوم نے بے شمار کتابیں بھی لکھیں جن میں تاریخ مرثیہ نگاری میر انیس، زندگی اور شاعری ، مرزا دبیر حالاتِ زندگی اور شاعری ، جوش ملیح آبادی کے مرثیے ، شعرائے اردو اور عشق علی ، اردو مرثیہ پاکستان میں(1982ء) ، خاندان میرانیس کے نامور شعرا ، اردو ادب پر واقع کربلا کے اثرات ، دبستان ناسخ ، تذکرہ شعرائے لکھنؤ ، اقبال کا فلسفہ عشق ، شعرائے اردو کی ہندی شاعری، ابن صفی کی ناول نگاری ، شعرائے مصطفی آباد ، میر انیس (ہر صدی کا شاعر) ، میر انیس کی شاعری میں رنگوں کا استعمال ، میرانیس بحیثیت ماہرِ علمِ حیوانات ، نوادرات مرثیہ نگاری(دو جلدیں) ، The Study of Elegies Mir Anis ، اردو غزل اور کربلا ، سوانح حیات جنابِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ، سوانح حیات جنابِ خدیجۃ الکبریٰ ، سوانح حیات جنابِ شہربانوؑ ، سوانح حیات حضرت عباس علمدارؑ ، سوانح حیات جنابِ شہربانوؑ ، سوانح حیات شہزادہ علی اکبر ؑ، سوانح حیات جنابِ شہزادہ علی اصغرؑ ، سوانح حیات شہزادہ قاسم ابنِ حسنؑ (دو جلدیں) ، شہزادہ قاسم کی مہندی ، معصوموں کا ستارا شہزادہ علی اصغرؑ، معراجِ خطابت (5 جلدیں) ، مجالسِ محسنہ عظمتِ صحابہ(عشرہ مجالس) ، عظمتِ ابوطالبؑ (عشرہ مجالس) ، امام اور اُمت (عشرہ مجالس) ، ظہورِ امام مہدی (عشرہ مجالس) ، احسان اور ایمان (عشرہ مجالس) ، قاتلانِ حسینؑ کا انجام (عشرہ مجالس) ، قرآن کی قَسمیں (عشرہ مجالس) ، محسنین اسلام (عشرہ مجالس) ، امہات المعصومین (عشرہ مجالس) ، دس دن اور دس راتیں (عشرہ مجالس) ، علم زندگی ہے (عشرہ مجالس) شامل ہیں ۔

——-urdupoint-report

—————-
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا علامہ ضمیر اختر نقوی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار

*وزیراعلیٰ سندھ نے مرحوم ضمیر اختر نقوی کی مغفرت اور بلند درجات کیلئے دعا

عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
———

وزیراطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ کا معروف عالم دین علامہ سید ضمیراختر نقوی کے انتقال پر اظہار تعزیت
کراچی 13ستمبر: وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے علامہ سید ضمیر اختر نقوی کے انتقال پر اپنے گہرے دکھ ا ور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم معروف عالم دین تھے ۔سید ناصر حسین شاہ نے مرحوم کے اہلخانہ سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ باری تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو صبر و جمیل عطا فرمائے ۔ آمین
=============
صوبائی وزیر سیدہ شہلا رضا کا معروف عالم دین علامہ سید ضمیراختر نقوی کے انتقال پراظہار افسوس

کراچی (13 ستمبر)صوبائی وزیر ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا نے معروف عالم دین علامہ سید ضمیراختر نقوی کے انتقال پر گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سید ضمیراختر نقوی کی دین کیلئے کی گی گراں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے دعا کی کہ باری تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور مرحوم کی مغفرت و درجات کو بلند فرمائے۔ (آمین).
—————

کراچی یونین آف جرنلسٹس نظریاتی کاممتازمذہبی اسکالرعلامہ سید ضمیر اخترنقوی کے انتقال پراظہارافسوس

کراچی(پ۔ر)کےیوجے نظریاتی کے چیئرمین عمیرعلی انجم اورایگزیکٹیوباڈی کے ارکان سیدمعصومہ زہرا،محمدشعیب صدیقی،ثاقب الرحمن،محبوب احمدچشتی،شاداب بیگ ودیگرنے اپنے تعزیتی بیان میں معروف مذہبی اسکالرسیدضمیراخترنقوی کے انتقال پرگہرے دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ علامہ صاحب کاہم سے رخصت ہوجاناکسی صدمے سےکم نہیں،علامہ ضمیراخترعلم کاروشن چراغ تھے اورہزاروں طالب علموں کے لئے مشعل راہ تھے ان کااچانک ہم سے بچھڑناایک بڑاصدمہ ہے اوریہ خلاکسی صورت پر نہیں ہوسکتا۔۔ کے یوجے کے عہدیداران کاکہناتھا ہم علامہ ضمیراخترکے اہلیخانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں
—————-